Sunday, March 6, 2011

بلاگ لکھنے کا ایک سال


پچھلے برس کچھ یہی دن تھے کہ ہم نے احوالِ موسمِ سڈنی قارئین کی نذر کیا تھا اور یوں اس بلاگ کی ابتدا ہوئی۔ چچا غالب تو تخلیق کو غیب سے آمد بتاتے ہیں اور ہم ان کی اس بات سے متفق بھی ہیں کہ غالب سے کون اختلاف کرسکتا ہے،اس بات کا بخوبی تجربہ ہمیں گذشتہ اکھتّر تحاریر لکھنے کے دوران بارہا ہوا کہ کبھی بس کے سفر کے دوران کبھی رات سونے سےپہلے اور کبھی کبھارنماز میں بھی مضامین کی آمد ہوتی رہی، سو ہم نے ان کو غیب سے ہی آمد جانا اور نوائے سروش پر کان دھرے کی بورڈ چلاتے رہے۔
جی ہاں ایک برس اور ۷۱ پوٹس، ۴۶۹ تبصرے اور کئی پسندیدگی کے کلکس،پچھلے برس جون سے لے کر تا حال ساڑھے دس ہزار سے زائد وزٹس یہ وہ اعداد و شمار ہیں کہ جو ہمارا حوصلہ بڑھاتے رہے اور ہم گاہے بگاہے کچھ نہ کچھ لکھا کیا۔ایک برس کچھ اتنا لمبا عرصہ نہیں اور نہ ہی ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم لکھاوٹ کی ابجد سے بھی واقف ہیں مگر اتنا ضرور ہے کہ اس بلاگ پر ہم اپنے دل کی بھڑاس جی بھر کر نکال لیتے ہیں۔ ہم نے اپنے بلاگ پر سڈنی میں قیام کے حالات کے ساتھ ساتھ، ہمدرد میں بحیثیت استاد کے گزارے یادگار ایّام کا  احوال بھی قلمبند کیا، اس کے علاوہ دیگر موضوعات پر بھی طبع آزمائی کی۔ انگریزی کے دلدادہ قارئین ہمارے انگریزی کے مضامین یہاں پڑھ سکتے ہیں۔
الحمداللہ ،ہم شکر گزارہیں ان تمام احباب و قارئین کے جنھوں نے ہمارے بلاگ کو رونق بخشی، اپنے تبصروں سے نوازا اور ہماری حوصلہ افزائی فرمائی۔ ان تمام کے ساتھ سب سے زیادہ ہم ان خاموش قارئین کی اپنے بلاگ پر آمدکا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ جنھوں نے ہمارے بلاگ پر کبھی کوئی تبصرہ نہ فرمایا اوراپنی اور ہماری عزّت رکھ لی ۔ میٹرک، انٹر میں انگریزی کی نظموں میں 'انو نیمس' نامی شاعر کی نظمیں پڑھا کرتے تھے یہ شاعر ہمارے بلاگ پر بھی بارہا تبصرے فرماتے رہے اور ہم نے التجا بھی کی کہ برائے خدا گمنامی اختیار نہ کریں اور تبصرہ کے ساتھ اپنا نام بھی تحریر فرمائیں، اس کے باوجود بھی ہم یہ سمجھتے ہیں کہ تبصرہ نہ کرنے سے کم سے کم یہ صورتِ حال بہترہے۔
بلاگ لکھنے کے اس ایک برس کے دوران ہمیں اردو کے دیگر کئی بلاگ پڑھنے کا بھی اتفاق ہوااور یہ دیکھ کر خوشی ہوئی کہ سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے۔ اردو بلاگ انٹرنیٹ پر جس طرح پنپ رہا ہے اس نے ہمیں اس فکر سے آزاد کر ڈالا ہے کہ ہمارے بچوں کو مستقبل میں کمپیئوٹر پراردو دکھائی بھی دے گی یا نہیں۔ زبان سے رشتہ ہمیں اپنی شناخت کو برقرار رکھنے میں مدد دیتا ہے کیونکہ ہم بھی آتش کے بقول زبانِ غیر سے شرح آرزو کے قائل نہیں ہیں لہذا اس عمل میں شرکت کو کارِ خیر گردانتے ہیں اور قارئین سے مزید کرم فرمائی کے منتظر ہیں۔

5 comments:

  1. Happy anniversary :) hope to c more of theses articles but wid a name " Bayad-e- Karachi as u will be back this year i guess.

    ReplyDelete
  2. mubarak ho sr aik saal hogaya likhte hue :)

    ReplyDelete
  3. Belated HAPPY ANNIVERSARY for ur blog .....sir :)

    ReplyDelete
  4. A Very Belated Anniversary....:)

    ReplyDelete
  5. پہلی بار آپ کے بلاگ پر آمد کا اتفاق ہوا ،آپ سالگرہ منا رہے ہیں اپنے بلاگ کی تو اللہ سے دعا ہے کہ
    اللہ کرے زورِ قلم اور زیادہ

    ReplyDelete