Wednesday, September 21, 2011

کوالالمپور میں تین پہر، پہلا ٹکڑا

امسال رمضان کے آخری عشرہ میں ہم وطن کے لئے عازمِ سفر ہوئے تو ہوائی سفر کی پیشگی ٹکٹ حاصل کرلی۔ گذشتہ دو برسوں سے ہم سڈنی میں ہی مقیم تھے اور یہیں اس بلاگ کی بنیاد بھی رکھی تھی۔ اب کی بار ہمارا یہاں سے واپس جانا ایسا ہی تھا  کہ جیسے کوئی جہاں سے اٹھتا ہے یعنی کہ دو سال کے وقفہ کے بعد وطنِ عزیز میں زندگی کے معمولات وہیں سے اختیار کرنا تھے یہاں موقوف ہوئے تھے۔ اس لئے ہماری خوشی اس قیدی جیسی تھی جو طویل قید کے بعد اپنوں سے ملنے والا ہوتا ہے۔ اس واپسی کے سفر میں ہم نے کیونکہ ملائیشیا کی ہوائی جہاز کی کمپنی یعنی ملائیشیئن ایئرلائن کا ٹکٹ خریدا تھا اس وجہ سے ہمارا مختصر قیام دارالحکومت کوالالمپور میں تھا۔ہمارے دوست فراز احمد خان کی بدولت ہمیں اس مختصر قیام کے لئے ہوٹل پین پیسیفک میں ہوائی کمپنی کی جانب سے  کمرہ مل گیا تھا کیونکہ انھوں نے ٹریول ایجنٹ سے سفارش کی تھی۔
ہمارا جہاز جب کوالالمپور کے ہوائی اڈہ پر اترا تو صبح کے چار بجا چاہتے تھے، فضا سے شہر خاصا جدید دکھائی دیا، مگر کیونکہ ابھی صبح کا سپیدہ نمودار نہیں ہوا تھا اس وجہ سے ہم شہر کے طول و عرض کا بخوبی اندازہ نہ کر سکے۔ہوائی اڈے پر اترنے کے بعد ایک خودکار ریل کے ذریعے بین الاقوامی آمد کے خروج پہ پہنچے، یہاں  پروانہ راہداری یعنی ٹرانزٹ ویزا لگوایا، خاتون افسر نے چار دنوں کا ویزا جاری کردیا۔ اسی دوران ذیشان راشد ہم سے آن ملے، یہ سڈنی والی پرواز میں بھی ہمارے ہمسفر تھے مگر ہماری ملاقات ان سے نہ ہو سکی تھی۔موصوف کراچی سے ہی تعلق رکھتے ہیں، ہمارے ایک عدد شاگردیحیی شعیب  کے افسر ہوا کرتے ہیں اور ان کے ساتھ میلبورن میں ایک ہی گھر میں رہائش پذیر ہیں۔ ان سے ہماری ملاقات ہمارے میلبورن کے دورہ جولائی میں ہوئی تھی۔ ان کی صورت میں ہمیں کوالالمپور میں عارضی قیام  کا ایک ساتھی میسر آ گیا۔ہم  دونوں کا قیام مندرجہ بالا ہوٹل میں ہی تھا تو ویزا لگوانے کے بعد ہوٹل کی چھوٹی گاڑی میں بیٹھ کر ہوٹل پہنچے جو ہوائی اڈہ کے ساتھ ہی تھا۔ ذیشان کا کمرہ پانچویں اور ہمارا آٹھویں منزل پر تھا۔ کمرہ کیا تھا گویا ایک جوڑے کے لئے آسائشوں سے بھر پور مسکن تھا کہ جسکا غسل خانہ بھی کراچی کی منی بسوں سے زیادہ کشادہ معلوم ہوتا تھا۔ کمرہ میں دو عدد پلنگ مشرقی دیوار کے ساتھ لگائے گئے تھے بیچ میں ایک میز تھی جس پر لیمپ دونوں پلنگوں کے لئے دیئے گئے تھے، کمرہ کا داخلی دروازہ جنوبی سمت تھا اور شمال میں ایک شیشے کی کھڑی دیوار کا کام دیتی تھی۔ اسکے ساتھ دو آرام کرسیاں اور ایک گول میز رکھی تھی  مغربی دیوار کے ساتھ کھڑکی کی جانب لکھائی کی میز مع کرسی تھی اور اسکے ساتھ سامسنگ کا اسمارٹ ٹی وی ایک میز پر رکھا تھا جس کے نیچے پورا نعمت خانہ موجود تھا، اس میں چائے کافی کا سامان مگ اور برقی کیتلی رکھی تھی۔ دروازے کے دائیں جانب الماری مع سیف اور کپڑوں کے لٹکانے کے اہتمام کے ساتھ موجود تھی جس میں جوتے رکھنے کی جگہ اور استری سب کچھ دیئے گئے تھے۔
ہم نے کمرہ میں آتے ہی غسل کیا اور تازہ دم ہوگئے، چائے بنا کر پی جسکا مزہ الگ ہی لگا، سفر میں ہونے کی وجہ سے ہم نے غالب کے بقول روزہ بہلانا شروع کردیا تھا۔ ٹی وی دیکھا اور فجر کی اذان سنی نماز ادا کی جسکے لئے روم سروس سے جائے نماز بھی منگوائی۔ انٹرنیٹ استعمال کیا اور قریبا چھ بجے کے بعد نیچے اترے اور ذیشان کے ساتھ ہوائی اڈہ سے چلنے والی ایکسپریس ٹرین کے اسٹیشن کی جانب چل پڑے۔ اس ریل کا پتہ ہمیں سڈنی میں محترم محمد سمیع نے دیا تھا کہ جو کوالالمپور میں ایک وقت گزار چکے ہیں۔ اس دوران ہم نے کرنسی بھی بدلوا لی اور  ریل کے ٹکٹ خریدے۔ یہ ایکسپریس  ٹرین بنا رکے مرکزِ شہر  کا فاصلہ محض اٹھائیس منٹ میں طے کرتی ہے  اور ہر پندرہ منٹ بعد دونوں جانب چلتی ہے۔ریل کے بارے میں پتہ نہ چل سکا کہ خودکار ہے یا نہیں مگر اتنا ضرور پتہ چلا کہ آسٹریلیا کی ریل کو اس ایشیائی ملک کی ریل نے مات دے دی تھی، نہ صرف یہ کہ رفتار اور اندرونی ساخت جدید تھی بلکہ اس میں فور جی وائی فائی سروس مہیا کی گئی تھی اور پوری ریل میں بوگیوں کی الگ ہیئت معلوم نہ ہوتی تھی، ساتھ ہی اس میں ٹی وی اسکرینز آویزاں تھیں۔
جب ہم مرکزِ شہر کے اسٹیشن پر اترے تو سات بج چکے تھے اور سورج نمودار ہوچکا تھا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ ہم دو گھنٹوں میں شہر میں آوارہ گردی کرکے ہوائی اڈے چلے جائیں گےاور کچھ وقت وہاں کے بازار میں گزاریں گے کیونکہ ہمیں کوالالمپور سے کراچی کا بورڈنگ پاس پہلے ہی مل چکا تھا لہذا چیک ان کا مرحلہ درپیش نہ تھا۔
اسٹیشن پر ایک بہت بڑا ٹیکسی اسٹینڈ تھا جس پر مختلف کمپنیوں کی ٹیکسیاں موجود تھیں ۔ ہمیں غیر ملکی دیکھ کر ٹیکسی والے ہاتھوں ہاتھ لینے لگے، مگر ہم نے کاونٹرسے کرایہ کی بابت معلومات حاصل کیں اور ساتھ ہی اپنا ارادہ بھی بتلا دیا کہ ہماری کی رضا تھی۔ وہاں موجود صاحب نے ہمیں مشورہ دیا کہ ہم کسی ٹیکسی والے سے کرایہ طے کرلیں اور آوارہ گردی کا شوق پورا کرلیں۔ ہم نے ان کے مشورہ پر عمل کرتے ہوئے ایک پکی عمر کے ٹیکسی ڈرائیور سے بات کی جو کہ ہماری گفتگو سن رہا تھا اور ان دونوں نے مقامی زبان میں بات بھی کر لی تھی۔ خیر ہم نے ان سے کرایہ طے کیا اور ہوائی اڈے کا بھی بتا دیا، تھوڑا بہت بھاو تاو کرنے کے بعد ہم نے اپنے سفر کا آغاز کیا۔
جاری ہے

3 comments: