Friday, November 9, 2012

اقبال اور بچوں کی نظمیں

علامہ محمداقبال کے یومِ ولادت پر ہم انھیں خراجِ تحسین پیش کرنے کی خاطر انکی بچوں کے کہی گئی نظموں کا ذکر کریں گے اس سے پہلے ہم انکی غزلیات پر بات کر چکے ہیں۔ ان کی یہ نظمیں اتنی سادہ اور پر اثر ہیں کہ ایک بار پڑھنےپر خودبخود یاد ہو جاتی ہیں۔ ' بچے کی دعا' ہو یا 'ایک مکڑا اور مکھی'، 'ہمدردی ' ہو یا 'ایک پہاڑ اور گلہری'، سب کی سب نظمیں شاعری کے اعتبار سے شاہکار ہیں۔ ' ترانہ ہندی' گو کہ اس وقت کے ہندوستان کے لئے لکھا گیا تھا، مگر آج بھی وہاں کے اسکولز میں پڑھا جاتا ہے۔
ان تمام نظموں میں کوئی نہ کوئی پیغام ضرور دیا گیا ہے۔ بچے کی دعا میں ایک بچے کی تمنا بیان کی گئی ہے جو علم کا متلاشی ہے اورنیک راہ پر چلنے کا خواہشمند ہے۔ ہمدردی میں ان لوگوں کو اچھا کہا گیا ہے جو دوسروں کے کام آتے ہیں۔ ایک پہاڑ اور گلہری میں بتایا گیا ہے کہ اللہ نےکسی بھی چیز کو بے کار پیدا نہیں کیا۔خوشامندپسندوں کا انجام ایک مکڑا اور مکھی میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔'ترانہ ملی' کا مصرع 'مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا'ایک جملہ میں امتِ مسلمہ کی جغرافیائی قید سے آزادی کو ظاہر کرتا ہے۔
یوں تو چھوٹی  ہے ذات بکری کی
دل کو لگتی ہے بات بکری کی
یہ شعر انتہائی سادگی اور بے ساختگی کے ساتھ اپنے معنی بیان کر جا تا جو کہ ایک گائے اور بکری سے لیا گیا ہے۔بچوں کی کہی گئی نظموں میں تراجم بھی شامل ہیں جو دیگر زبانوں سے کئے گئے ہیں لیکن یہ تراجم اتنے شاندار ہیں کہ ان پر اصل کا گمان ہوتا ہے۔
کیونکہ ہم پردیسی رہے تو پرندے کی فریاد کو محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے دل کی آواز بھی جانا، اس میں نہایت دردمندی کے ساتھ قیدی پرندے کی دوہائی کو اشعار کے قالب میں ڈھالا گیا ہے۔
ماں کا خواب اپنے وفات شدہ بچے سے متعلق ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ مرنے والوں کے ساتھ مرا نہیں جا سکتا اور کسی بھی غم پرصبر کرنا مومن کا شیوہ ہے۔
انکے علاوہ اقبال کی نظمیں 'دعا'،'خطاب بہ جوانانِ اسلام'، ایک پرندہ اور جگنو' اور 'بزمِ انجم' بھی بچوں کے لئے کہی گئی ہیں۔
اس بلاگ کا اختتام ہم انکے مصرع پر کریں گے۔
ع اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں ہے

Sunday, July 22, 2012

چندا رے چندا


اس بلاگ کے آغاز میں ہی ہم ایک بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم نہ تو کوئی مفتی ہیں اور نہ ہی سائنسدان بلکہ ایک عام سے آدمی ہیں، کام کے ہیں یا نہیں اسکا فیصلہ تو غالب کر گئے کہ عشق کام کے آدمی کو بھی نکما کردیتا ہے۔ہمیں بھی ایک وقت میں کئی عشق لاحق رہتے ہیں، مثلا اس بلاگ لکھنے کے شوق کو ہی لے لیں یہ بھی کبھی عشق کا روپ دھار کر سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور ہم، لیپ ٹاپ پر اپنی انگلیاں چلانا شروع کر دیتے ہیں۔
خیر ہم موضوع سے کہیں دور چلے گئے، ہاں تو بات کرنا ہے ہمیں چاند کی، زمین کا ذیلی سیارہ جو کہ اس سے نسبت رکھنے کی بدولت چندا ماما بھی کہا جاتا ہے فلکیاتی اعتبار سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ زمین کا وجود جہاں سورج کا محتاج ہے وہیں چاند کے بغیر بھی زمین پر توازنِ ہستی ممکن نہیں۔ پرانے وقتوں میں لوگ اسکی پوجا کرتے تھےاور آج بھی ہر ماں کو اپنے بیٹے کے لئے چاند سی بہو درکار ہے چاہے بیٹاتوے کے پچھلے حصے جیسا ہی کیوں نہ ہو۔
مسلمانوں کیلئے چاند قمری تقویم کی وجہ سے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں پاکستان میں ہر کسی کا اپنا اپنا چاند ہوتا ہے بالخصوص رمضان اور شوال میں، اس چیز سے بچنے کیلئے حکومت پاکستان نے چاند کو دیکھنے کی ذمہ داری رویت ہلال کمیٹی کے سپرد کی ہے۔ اس کمیٹی میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما ء حضرات شامل ہیں۔ ان کی تیکنیکی معاونت محکمہ موسمیات اور پاکستان کا خلائی تحقیقاتی ادارہ کرتے ہیں، اس کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ چاند کی ۲۹ تاریخ کو ہوتا ہے۔ آجکل یہ اجلاس محکمہ موسمیات کراچی کی عمارت میں ہوتا ہے، ماضی میں اسطرح کے اجلاس شہر کی بلند و بالا عمارتوں پر بھی منعقد ہوتے رہے ہیں۔ اس کمیٹی کے زونل اجلاس صوبائی دارالحکومت میں ہوا کرتے ہیں، مگر اکثر کراچی کومرکزی اجلاسوں کے منعقد کرنے کا شرف حاصل رہا ہے۔
چاند کی موجودگی ، اسکی عمر، زمین سے اونچائی، آسمان میں اسکا مقام وغیرہ یہ وہ تمام طبعی مقداریں ہیں جو علم فلکیات ہمیں کسی بھی جگہ کے لحاظ سے بتا دیتا ہے، مگر شرعی اعتبار سے چاند کی رویت ضروری ہے، اور اس شرعی ضرورت کی سے اسکی رویت کا حتمی فیصلہ رویتِ ہلال کمیٹی ہی کرتی ہے۔ یاد رہے کہ چاند کا موجود ہونا اور دکھائی دینا دو الگ باتیں ہیں اور قمری ماہ کے آغاز کیلئے چاند کا نظر آنا ضروری ہے۔
بعض اوقات فلکیات کی رو سے چاند کی موجودگی میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہوتی مگر موسمی حالات یا شہروں کی فضا میں آلودگی وغیرہ چاند کے دیکھنے میں مانع ہوتی ہے، تبھی چاند دیکھے جانے کی شہادت کا انتظار کیا جاتا ہے یا، اونچائی سے مشاہدہ کیا جاتا ہے تا کہ آلودگی کی تہہ سے بالا آسمان واضح طور پر نظر آ سکے۔ یہ عمل سال کے بارہ مہینے اختیار کیا جاتا ہے، مگر ہمیں چاند کی ضرورت صرف رمضان اور عید پر ہی پڑتی ہے تو اس لئے ہمارے لئے ان ماہ کے چاند کی اہمیت ہوتی ہے۔
ایک بحث یہ بھی کی جاتی ہے کہ ہم خود سے چاند دیکھ کر قمری ماہ کا آغاز کیوں نہیں کر لیتے؟ تو جواب یہ ہے کہ ہاں ہمارے ہاں ایسا چند مقامات یا ایک آدھ صوبہ میں ہوتا ہے، مگر جب ایک حکومتی ادارہ موجود ہے اور اسکی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے تو اس کمیٹی کو اسکا کام کرنے دینا چاہیئے۔ فلکیات کی رو سے چاند کی تقویم موجود ہوتی ہے، مگر یہ تقویم یا کیلنڈر رویت کی شرعی شرط پوری نہیں کرتا۔ سعودی عرب میں ام القریٰ سے ریاضی اور فلکیات کی مدد سے ایسا کرلیا گیا ہے جو کہ انکا اپنا طریقہ ہے۔ ہماری ناقص  معلومات ہمیں چاند کو دیکھ کر ہی قمری ماہ کے آغاز کا درس دیتی ہے ورنہ  بقول غالب
ع کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں، یا رب 

Sunday, July 15, 2012

سفرِاطالیہ، پانچواں اور آخری ٹکڑا


 راستے میں ایک جگہ اُترے، مقام اور سمت کا کچھ پتہ نہ تھا تو وہاں سے شہر کا نقشہ خریدا جس پر بسوں اور ریل گاڑیوں کے روٹس بھی درج تھے۔نقشہ خریدنے کے بعد کچھ دیر اسکا جائزہ لیا اور سمتوں کا تعین ہوتے ہی پہلا پڑاو کولوسیئم منتخب کیا۔ بس اسٹاپ پہنچے تو ایک انکل ملے انھوں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ہمیں میٹرو یعنی ریل کے سفر کا مشورہ دیا اور بس کے آتے ہی ہم ان کے ساتھ اس میں سوار ہو گئے۔ایک دو اسٹاپس کے بعد ہم میٹرو کے اسٹیشن پر تھے۔جیسے ہی ہم پلیٹ فارم پر پہنچے تو کولوسیئم جانے والی ریل آگئی۔ ہم اس میں سوار ہو کر چند اسٹیشنز کے بعد منزل پر اترے۔ اسٹیشن سے باہر آتے ہی پہلی نظر کولوسیئم پر پڑی تو عقل دنگ رہ گئی۔کہ سینکڑوں برس پہلے اس شاہکار کو کیسے تعمیر کیا گیا ہوگا اور اس اسٹیڈیئم نے زمانے کے کتنے اتارچڑھاو دیکھے ہوں گے۔ یہ اسٹیشن زمین دوزتھا اور اوپر آنے پر ایک سڑک کے کنارے تھا جسکے دوسری جانب یہ شاندار تعمیرتھی۔
یوں تو دنیا میں چینیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، مگر دیسی بھی کچھ کم گنتی نہیں رکھتے اور ان میں سردار ایک بڑی قوم ہے، ٹورنٹو ہو یا سڈنی، دوبئی ہو یا روم سردار ایک ایسی  مخلوق ہے جو ہر جگہ پائی جاتی ہے۔تو ہمارا ٹکراو بھی یہاں ایک سردار جی سے ہوا، سرداروں کو دیکھ خود بخود آپ کے منہ سے پنجابی جھڑنے لگتی ہے، لہذا ہم نے بھی اپنی پنجابی استعمال کی ۔ ہمیں اطالیہ میں سردار سے پنجابی بولنے کا الگ ہی مزہ آیا۔سردار جی سے ہمیں ٹکٹ وغیرہ کی معلومات ملی اور ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ کولوسیئم کا ٹکٹ خریدنے پر ہم دیگر کھنڈرات بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے سردار جی کے اسٹال سے روم کے پوسٹ کارڈز کا ایک سیٹ خریدا اور ٹکٹ خریدنے کی قطار میں سڑک کی دوسری جانب جا لگے۔ قطار تھی کہ شیطان کی آنت، ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی،خیر ہم نے اپنی باری آنے پر ٹکٹ خریدا اور کولوسیئم میں داخل ہوئے، گو کہ ہم پہلے سے ہی اس کے اندر تھے مگر اب کی بار ہم سیڑھیوں سے اوپر کی منزل پر پہنچے۔
پہلے تو ہمیں اس پرشکوہ عمارت سے متعلق تصویری معلومات دیکھنے اور پڑھنے کو ملیں اس کے بعد ہم جیسے ہی چکر کاٹ کرعمارت کی اندرونی جانب آئے تو ہماری آنکھیں حیرت کے مارے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ہم نے اسٹیڈیئم تو دیکھے ہیں اور آج کے جدید دور کے کرکٹ اسٹیڈیئمز ٹی وی کے علاوہ بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے مگر یہ اسٹیڈیئم بہت عظیم الشان تھا۔
اسے رومی سلطنت کی سب سے بڑی تعمیر کہا جاتا ہےاور اس کی تعمیرمیں آٹھ برس کا عرصہ لگا۔ تعمیر کا دور پہلی صدی عیسوی ہے۔اس کی گنجائش پچاس ہزار بتائی جاتی ہے اور اسکی چار منزلیں دیکھی جا سکتی ہیں۔باہر سے دیکھنے پر اس میں جھروکے نظر آتے ہیں۔
یہاں  پر ہمیں دنیا کے کم و بیش ہر ملک کے سیاح دکھائی دیئے، چند جوڑوں کی صورت تو چند گروہ میں اور ہمارے جیسے تنہا سیاحوں کی بھی کوئی کمی نہ تھی۔ چینیوں کو اللہ جیتا رکھے یہ ہر جگہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ انکو اور اطالیوں کو دیکھ کر اللہ کے انصاف پر ایمان مزید پختہ ہوتا ہے کیونکہ ان دونوں اقوام کی ناکوں کاوسطانیہ نکالا جائے تو یہ ہماری ناک بنتی ہے۔
کولوسیئم جسے مقامی زبان میں کولوسیو کہا جاتا ہے، اپنے اندر تاریخ ، تعمیراتی حسن اور ہیبت سموئے ہوئے ہے۔ اس کے مرکز میں ایک بھول بھلیاں ہیں جہاں جنگجو یا بُل فائٹر سانڈ سے لڑا کرتے تھے اور مدِمقابل میں سے ایک کی موت پر مقابلہ کا اختتام ہوتا تھا۔ مرکز کے گرداگرد گولائی میں نشستیں ہیں جو کہ سب کی سب بڑےبڑے پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔کسی زمانے میں یہ پورا ڈھکا ہوا ہوتا تھا کہ جیسے میلبورن کرکٹ اسٹیڈیئم کی چھت جو بارش کے دنوں میں اسے ڈھک دیتی ہے، مگر تضاد زمانہ کی وجہ سے یہ چھت ڈھے گئی۔
کیا کیا مکاں شاہ نشیں تھے وزیر کے
جب آئی موج حادثہ تنکےسے بہہ گئے
یہاں عام داخلہ ٹکٹ پر آپ صرف دیوانِ عام کا مشاہدہ کر سکتے ہیں،بھول بھلیوں کا قریبی مشاہدہ کرنے کے لئے آپ کو اضافی یورو خرچ کرنا پڑتے ہیں، ہم نے اطالیوں کے اس کھلے تضاد پر تمام یورپیوں کے گناہوں میں دل ہی دل میں کمی کی اور وہاں سے نکل پڑے۔
اس عجوبہ کے اردر گرد کھنڈر ہی کھنڈر ہیں جو کہ نصرانی سلطنت کی باقیات پر مشتمل ہیں، انکی سیر آپ کولوسیئم کے ٹکٹ میں ہی کر سکتے ہیں، لہذا ہم نے اپنے جوگر اور پیروں کو آزمانا شروع کیا، کھنڈرات تھے کہ ختم ہونے کا نا م ہی نہ لیتے تھے۔ کہیں باغ تو کہیں راہداریاں، کہیں بڑے بڑے داخلی مقام تو کہیں تنگ و تاریک کوٹھریاں، غرض ہمارے چہار سو تاریخ بکھری پڑی تھی۔ سب سے زیادہ حیرت ہمیں ستون دیکھ کر ہوئی جو نہایت بلند تھے، بہت سی عمارتوں کی باقیات محض ستونوں پر ہی مشتمل تھی کیونکہ اصل عمارت تو کب کی زمیں بوس ہو چکی تھی مگر ستون اکیلے کھڑے ان کا پتہ دیتے تھے۔
اس تھکا دینے والے کھنڈراتی مشاہدے کے بعد ہمارے معدے نے ہم سے احتجاج کیا کیونکہ ہم نے صبح کافی اور چند بسکٹ وغیرہ ہی معدے میں اتارے تھے جنھیں وہ کب کا ٹھکانے لگا چکا تھا لہذا ہم نے صدائے معدہ پر لبیک کہا اور کھنڈرات سے نکل کر سڑک کے کنارے  ٹرکوں میں بنے کیبن یعنی کھوکے سے پیزا مارگریٹا کے دام معلوم کئے، وہاں ہمارے بنگالی بھائی دوکانداری کر رہے تھے تو انھوں نے اس کے دام پانچ یورو بتائے، اب ہم بھی اپنے بنگالی بھائیوں کی فطرت سے  واقف ہیں کیونکہ ان سے ہمارے آباواجداد کا پرانا ساتھ رہا ہےلہذا ہم نے ان سے اس دام پر تین پانچ کی انھوں نے نہ تین اور نہ پانچ بلکہ چار یورو میں ہمیں پیزا دان کر دیا۔ پیزا سینڈوچ کے انداز کا تھا اور خاصا معقول تھا، ہماری زبان اور معدہ دونوں کو رضا مند کر گیا۔
جیسے ہیں ہمارے جسم میں کولوریز کی مقدار میں اضافہ ہوا ہمارا دماغ کچھ سوچنے کے قابل ہوا ، ہم نے اگلا پڑاو ویٹیکین سٹی کو بنایا، کیونکہ روم آکر ویٹیکین نہ جانا ایسا ہی ہے کہ آپ حرم جائیں اور طوافِ کعبہ نہ کریں، ہمیں طوافِ کعبہ کی سعادت تو ابھی تک حاصل نہیں ہوئی ہے تو ہم نے عیسائیوں کے کعبہ کی زیارت کا ارادہ کیا۔نقشہ کے مطابق بس میں سوار ہو کر ہم ویٹیکین کی جانب روانہ ہوئے، وہاں ایک دریا بہتا ہے جس کے کنارے نہایت مضبوط اور اونچے پشتے تعمیر کئے گئے ہیں جن پر دونوں جانب سڑکیں بچھائی گئی ہیں۔ ان سڑکوں کے فٹ پاتھ پر ویٹیکین کےراستے کی جانب بازار سجایا جاتا ہے، جہاں اطالیہ کی ریوایتی اشیاء فروخت کی جاتی ہیں۔یہاں بناگالیوں نے چادریں بچھا کر چھوٹی موٹی چیزیں اور کھلونے وغیرہ کی فروخت کا دھندہ اپنایا ہوا ہے، جب پولیس والوں کی گاڑی چکر لگاتی ہے تو یہ لوگ سامان چادر میں سمیٹ کر وہاں سے رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ مگر پولیس عموما انھیں کچھ نہیں کہتی کیونکہ جیل میں ڈالنے پر انھیں سرکاری کھانا دینا پڑے گا جبکہ اسطرح وہ اپنی روٹی روضی بنا کسی پر بوجھ بنے کما رہے ہیں۔
دریا بلکہ اسے ندی کہنا زیادہ بہتر ہو گا، کے کنارے بھی عمارتیں ہیں جو خاصی تاریخی ہیں اور ان میں داخلے کے واسطے ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے ہم نے کسی بھی عمارت میں داخلے سے گریز کیا اور باہر باہر سے ہی ان کی تصویریں کھینچ لیں۔ ایک سڑک پار کرتے ہی ہم ویٹیکین کی سرزمین پر تھے جو اپنی سیاسی اور مذہبی حیثیت کے ساتھ ایک الگ ملک کا درجہ رکھتی ہے۔ ہماری نگاہوں کے سامنے عیسائیوں کا مذہبی ھیڈکوارٹر تھا اور دونوں اطراف میں سیاحوں اور مذہب پسندوں کے لئے بازار تھا کہ جہاں بڑے پادری صاحب کی مورتیاں فروخت ہوتی تھیں۔ آرٹ اور مذہب کے نام پر لوگوں کو یہاں بھی بلیک میل کیا جاتا ہے۔ہم تو بت پرست ہندووں کو سمجھتے ہیں مگر سب نے ہی اپنے اپنے پیشروں کے بت بنا رکھے ہیں اور ہر کوئی ان بتوں کو پوج رہا ہے، جن کے پاس ظاہری بت نہیں ہیں وہ خود پسندی کا شکار ہو کر اپنی ہی ذات کے بت کو پوجتے نظر آتے ہیں۔
ویٹیکین کے مرکزی گرجا گھر کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایک طویل قطار میں سیاح محض گرجا کے درشن کرنے کی خاطر موجود تھے، وہاں ہمیں ایک دیسی گائیڈ نے سیر کروانے کے بہانے گھیرنے کی کوشش کی، کریدنے ہر پتہ چلا کہ موصوف لاہور سے ہیں، ہم نے ان سے دوستی کرلی اور گرجا پر چار حرف بھیجے۔ ان کے بقول بشپ یہاں ہر بدھوار آتا ہے اور خطبہ دیتا ہے، اس پر ہمیں ہمارے محترم رئیس صاحب کہ جو ہمدرد میں اسلامیات اور اردو کے سینیئر استاد ہیں کا سنایا ہوا ایک شعر یاد آ گیا جو کہ ایک پجاری اور اسکی بیٹی کے مقالمہ پر مشتمل ہے، اس میں بیٹی کہتی ہے،
پتا جی کچھ بسنت کی بھی شُدھ ہے
بڑا منہوس دن ہے آج بدھ ہے
ہم نے ان لاہوری بھائی سے سمندر کا راستہ پوچھا، کیونکہ ہم روم کی گرمی اچھی طرح کھا چکے تھے اور اب سمندری ہوا کا مزہ لینا چاہتے تھےگو کہ سڈنی کا بونڈائی بیچ دیکھ چکنے کے بعد دنیا کے کسی اور ساحل کو دیکھنے کی تمنا کسی دل میں کم ہی جاگتی ہے، مگر ہم 'صرف' سمندر دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ ویٹیکین سے زمین دوز ریل کا اسٹیشن خاصا دور ہےمگرسڑک کے دونوں جانب بازار سے گزرتے ہوئے اور ونڈو شاپنگ کرتے ہوئے یہ راستہ باآسانی کٹ گیا اور ہم نے اسٹیشن سے ٹیوب لی، وہاں سے روما ترمینی اترے اور ایک اور ریل لی، جس نے ہمیں سمندر کو جانے والی پٹڑی تک پہنچایا جہاں سے تیسرے ریل لینا پڑی۔ یہ ریل مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی یوں لگتا تھا کہ سب روم کی گرمی سے تنگ آکر ساحل کی جانب گامزن ہیں۔ ہمیں اس ریل میں پچاس منٹ کھڑا رہنا پڑا، مگر یہ پچاس منٹ تفریح سے بھرپور تھے۔ جو مسافر جوڑوں پر مشتمل تھے ان میں سے زیادہ ترکا درمیانی فاصلہ اکثر صفر سے کم رہتا  جبکہ کم سے کم درمیانی فاصلہ صفر رہتا۔ان کو دیکھنے سے زیادہ ہم نے ایک دیسی آنٹی کو دیکھا جو شاید اپنی پوری فیملی بشمول بچوں کے، پہلی بار روم آئی تھیں ۔ یہ آنٹی ماتھے پر بندیا لگائے، سر میں سندور کے ساتھ اپنی ساڑھی کے پلو کو سنبھالتیں اور ٹُکر ٹُکر ان جوڑوں کو دیکھتیں کہ اگر یہ بھارت میں ہوتے تو ان آنٹی سے ضرور پِٹ چکے ہوتے، مگر یہ اطالیہ تھا جس کی ریل میں انکا بس نہ چلتا تھا۔
سمندر کے ساتھ ساتھ تین اسٹیشنز تعمیر کئے گئے ہیں ہم ان میں سے ایک پر اترے اور اسٹیشن سےباہر آکر اندازہ لگایا کہ سمندر کس سمت میں ہو سکتا ہے۔ وہاں اسٹیشن پر ہی بازار موجود تھا جس میں بنگالی دکھائی دیئے ان سے راستہ پوچھا اور ساحل کی طرف روانہ ہوئے، ساحل پر موجود ایک میکڈونلڈر سے چپس اور کوک لی اور کچھ دیر سستانے کے بعد ساحل پر آئے، یہاں بھی بنگالی ہی ہر جگہ پائے جو تازہ پھولوں کے گلدستوں سے لے کر برقی آلات تک سب فروخت کر رہے تھے۔ایک اطالوی اپنا الیکٹرانک گٹار لئے بیٹھا اطالوی موسیقی بجا رہا تھا، اس نے ایک گیت کی دھن بجائی تو لوگ اس کے گرد بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور اس کے فن کی داد دینے لگے، چند ایک نے کچھ سکے بھی اسکی پیٹی میں ڈالے یوں وہ اپنی گزر بسر کا سامان کر رہا تھا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد پانی میں اٹھکھیلیاں بھی کر رہی تھی اور ہم جیسے محض مشاہدہ تک ہی محدود تھے۔ کھلےسمندر میں بادبانی کشتیاں اوربحری جہاز بھی دکھائی دے جاتے تھے۔
کچھ وقت یہاں گزانے کے بعد ہم نے اسٹیشن کی راہ لی اور وہاں کی ایک سپر مارکیٹ سے کچھ خریداری کی۔ واپس روما ترمینی پہنچے تو عصر کا وقت تھا۔مسجد کی تلاش میں روما ترمینی کے گرد گھومتے ہوئے اندازہ ہوا کہ دیسیوں نے اس علاقہ پر اپنی اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے۔ یہاں پاکستانی، بنگالی، سردار، ہندو اور پٹھان سبھی مقیم ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔یہ مارکیٹ اس قدر دیسی ہے کہ ہم نے یہاں دیسی سی ڈیز کی ایک دوکان دیکھی جس پر بھارتی فلموں کے پوسٹر بھی چسپاں تھے۔
 قانونی طور پریہاں مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے مگر دینی مراکز بنائے جا سکتے ہیں۔ بنگالی بھائیوں نے یہاں ایک مصّلہ بنا رکھا ہے جو کہ ایک دفتر کی عمارت کےمیزنائین فلور پر ہے۔ یہاں پر ظہر اور عصر دونوں ادا کیں، جس میں عصر با جماعت تھی جو ہمارے قیامِ اطالیہ کی پہلی اور آخری باجماعت نماز تھی۔
تریئستے سے نکلے سے پہلے ہم نے گوگل پر اس علاقہ میں ایک کے ایف سی جیسے حلال ریسٹورنٹ کا پتہ ڈھونڈا تھا لہذا اسکی تلا ش بعد از نماز شروع کی اور ایک پاکستانی دوکاندار سے اس کی بابت دریافت کیا۔ اس دوکان کا نام، پاکستانی اسٹور تھادوکاندار نے ہمیں اس ریسٹورنٹ کا پتہ سمجھایا اور کہا کہ ہم روسٹورنٹ پر ان کا ذکر کریں تو وہ ہمارے ساتھ رعایت بھی کر دیں گے۔ ہم رسٹورنٹ پہنے اور پاکستانی انداز میں سلام کیا، اسٹاف اور مالک ہمیں پنجابی لگے انھوں نے ہمیں گرم جوشی سے جواب دیا ۔ ہماری جیب میں ساڑھے چار یورو کے سکے موجود تھے انھوں نے ہمیں اسکی دوگنی قیمت کی ڈیل پیش کی جس میں چکن برگر، مرغ کا ایک روسٹ پیس ، چپس اور کولڈ ڈرنک سب شامل تھے۔ ہم نے سیر ہو کر مرغ اڑایا، یہ ہمارے قیامِ اطالیہ کا پہلا اور آخری حلال کھانا تھا، ورنہ ہم لحمیات میں مچھلی اور سالوں سے استفادہ کر سکے تھے۔
اسکے بعد ہمیں ریل کی آمد تک اسٹیشن پر رکنا پڑا گو کہ ریل رات گیارہ بجے روانہ ہوئی، مگر ہم دن بھر میں اتنا تھک چکے تھے کہ اسٹیشن پر گھوم پھر کے یہ وقت گزار دیا۔ ریل کا سفر رات بھر کا تھا اور صبح ہم تریئستے کے مرکزی اسٹیشن پر اتر رہے تھے۔
روم سے واپسی کے بعد ہم نے تین راتیں تریئستے میں گزاریں اورہماری چوتھی رات اماراتی طیارے میں وطن واپسی کی پرواز میں گزری۔
ختم شُد

Saturday, May 12, 2012

سفرِ اطالیہ، چوتھا ٹکڑا


سان مارکو میں ایک جگہ ہمیں مصری طرز کے مجسمے بھی دکھائی دیئے،ہم اس پر حیرت زدہ ہوئے کہ یہ مصری احرام کے مجسمے یہاں کیا کر رہے ہیں، بہت بعد میں پتہ چلاکہ یہ مصر سے چوری کر کے یہاں لائے گئے تھے۔
یہاں پر بیت الخلا پر بھی اطالویوں نے ٹکٹ لگا رکھا ہے اور بنا ٹکٹ کے کوئی کونہ کھدرا بھی نہیں ہے۔
شام ہونے سے پہلے ہی ہم واپس سانتا لُوسیا پہنچے اور ریل کا انتظار کیا جسکا وقت ۶ بجکر ۱۸ منٹ تھا۔ قریبا ۹ بجے ہم اپنے ہوسٹل کے کمرے میں داخل ہو رہے تھے۔
اس کے بعد دو ہفتوں تک ہم ورکشاپ میں مصروف رہے اور پڑھائی کرتے رہے۔ بیچ میں ایک ہفتہ کو روم جانے کا ارادہ کیا مگر پتہ چلا کہ ریل کے ٹکٹ دستیاب نہیں ہے لہذا ہم روم آنے جانے کا پیشگی ٹکٹ بک کرائے بغیر چین سے نہ بیٹھے، اب ہمیں جمعہ کا انتظار تھا۔ اس دن ورکشاپ کا آخری روز تھا اور سوموار سے دو روزہ سیمینار شروع ہونا تھا اس وجہ سے جلدی فراغت ہو گئی۔ ہماری ریل کا وقت رات ۹ بجکر ۵۳ منٹ تھا ہم اس حسا ب سے اسٹیشن پہنچ گئے اور مقررہ ریل میں بک کی گئی نشست پر قبضہ جمالیا۔ ریل کے رات بھر کےسفر میں ہر اسٹیشن پر نہ رکنا اس کے لئے ہتک کی بات تھی لہذا اس نے روم تک شاید ہی کوئی اسٹیشن اپنے قیام سے محروم کیا ہوگا۔جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم ایک گھنٹہ تاخیر سے روم پہنچے۔
روم کا مرکزی ریلوے اسٹیشن مقامی زبان میں روما ترمینی کہلاتا ہےاور کسی بھی جدید ریلوے اسٹیشن سے کم نہیں ہے، ہم نے آسٹریلیا میں بڑے بڑے اسٹیشنز دیکھے ہیں مگر یہ ترمینی ان سے بھی بازی لے گیا گو کہ یہاں پلیٹ فارم سڈنی کے مقابلے میں کم ہیں مگر یہاں کا ماحول اور شاپنگ مال اسے ایک ریلوے اسٹیشن سے زیادہ ایک ہوئی اڈے کے طور ہر پیش کرتے ہیں۔اسٹیشن سے باہر آتے ہی میکڈونلڈز میں کافی پی اور اب ہمیں کنزفورڈ کا میکڈونلڈز یاد آیا کہ جو ہماری قیام گاہ سے متصل تھا اور ہم وہاں اکثر کافی پیا کرتے تھے، روم کے میکڈونلڈز کی کافی میں سڈنی میکڈونلڈز کی کافی کا مزہ قطعی طور پر نہ تھا۔
ناشتہ کرنے کےبعدہم نےاسٹیشن پرموجوداخباراسٹینڈسےدن بھر کابس اورریل کا ٹکٹ خریدا جس کاتجربہ ہمیں سڈنی کےقیام کےدوران بخوبی ہوچکاتھا،اوراسٹیشن سے نکلنےوالی ایک بس میں جاسوارہوئے۔ 
جاری ہے

Friday, May 4, 2012

سفرِ اطالیہ، تیسرا ٹکڑا


ریل جانے کا وقت گیارہ بجکر چوالیس منٹ تھا۔ یہ چوالیس منٹ قابلِ ہضم معلوم نہیں ہوتے، مگر جناب ٹرین ٹھیک وقت پر ہی روانہ ہوئی۔ سفر کے دوران یورپ کا روایتی سبزہ دیکھنے کو ملا۔ پہاڑ، میدان، وادیاں سب سبزے کی چادر اوڑھے تھیں۔ ریل مختلف اسٹیشنز پر رکتی چلتی وینس کے زمینی اسٹیشن پہنچی، اسے اطالوی زبان میں وینیزیامسترے کہا جاتا ہے۔یہ ایک جنکشن اسٹیشن ہے جہاں سے اطالیہ کے طول و عرض میں جانے کے لئے ریل دستیاب ہے، یوں سمجھ لیں کہ تریئستے سے آپ اطالیہ کے کسی بھی شہر جانا چاہیں گے تو آپ کو یہاں سے ہو کر گزرنا پڑے گا۔
اگلا اور آخری اسٹیشن وینیزیاسانتا لُوسیا تھا اور یہی درحقیقت دریاوں کا شہر ہے۔ یہاں تک پہنچے کے لیے آپ کو ایک طویل پُل پر سے آناا پڑتا ہے چاہے آپ گاڑی میں ہوں یا ریل میں۔اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی ہمارے آگے دریا تھا۔ اس وقت ہلکی بارش ہو رہی تھی اور دیسی برادران چھتریاں بیچ رہے تھے۔ ہم نے بھی ایک دیسی سے بھاو تاو کرنے کے بعد چھتری خرید لی اور آبی بس کا ٹکٹ خریدنے قطار میں جا کھڑے ہوئے۔یہاں آپ دن بھر کا یا بارہ گھنٹوں کا ٹکٹ خرید سکتے ہیں جو ان گنت مرتبہ سفر کرنے کے لئے کارآمد ہے۔ہم آبی بس میں سوار ہوئے اور مخلتف مقامات پر اترتے رہے۔ کچھ چہل قدمی کرتے اور پھر بڑی کشتی میں سوار ہو جاتے۔ بارش تھی کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی مگر ہمارا شوقِ سیاحت اس بارش کی وجہ سے بھی ٹھنڈا نہ ہوا۔
وینس کا آنکھوں دیکھا حال لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ شہر پانی میں ہے اور پانی شہر میں ہے۔ مکانات کی ایک ترتیب ہے جو مرکزی آبی گزر گاہ کے دونوں جانب ہے اور چھوٹی چھوٹی گلیاں بھی پانی والی ہیں۔ گھر پرانے ہیں مگر اب ان میں جدیدیت آرہی ہے کیونکہ یہ سیاحت کا ایک بہت بڑامرکز ہیں۔ ان میں سے سامنے والے مکانات کو زیادہ تر ہوٹلوں میں بدل دیا گیا ہے اور لوگ یہاں مختلف دورانیوں کے لئے قیام کرتے ہیں۔دریا کے دونوں جانب نچلی منزلوں پر طعام کا انتظام ہے جس میں خاص حیثیت پیزا کی ہے جو یہاں کی جانی پہچانی خوراک ہے۔ اگر آپ دریاسے تھوڑا ہٹ کر اندر کی جانب جائیں تو ملتان کے پرانے محلوں جیسی گلیاں ملیں گی، جن میں گھریلو دستکاری کے خوبصورت نمونے فروخت کے لئے دستیاب ہیں۔ یہاں کی سب سے بڑی پیداواربلّور ہےجسے رنگنے کے بعد مختلف اشیاء بنائی جاتی ہیں اور پھر فروخت کیا جاتا ہے۔ گھروں میں بھی ان اشیاء کی دکانیں بنائی گئی ہیں۔
یہ تو ونیس کا ایک پہلو ہوا دوسرا رخ یہ ہے کہ یہاں موجود قریبا تمام عمارتوں پر چھوٹے بڑے مجسمے بنائے گئے ہیں۔ گرجا گھروں میں تو بطورِ خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ سلام اور حضرت مریم علیہ سلام کے مجسمے مذہبی عقیدت مندی کے ساتھ تراشیدہ موجود ہیں۔ ہم نے یہاں اچھی خاصی آوارہ گردی کی اور جان بوجھ کر انجانے راستوں پر چلتے رہے، تصاویر کھینچیں اور جب بھوک کا احساس ہوا تو کچھ کھانے کا ارادہ کیا۔ مرکزی بازار میں ہم اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں تاڑ چکے تھے لہذا ہم نے اپنے آپ کووہاں کچھ کھانے سے روکے رکھا۔ گلیوں میں گھومتے ہوئے اسوقت ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی جب ہم نے ایک جگہ حلال لکھا پایا۔ یہ ایک اُردنی کی دکان تھی اور اطالوی بڑی رونی سے بول رہاتھا۔ ہم نے انگریزی میں لب کشائی کی تو ہم سے انگریزی میں بات کرنے لگا۔ ہم نے اس سے پیزا کا ایک بڑا ٹکڑا خریدا  جو اس نے گرم کرنے کے بعد اس پر مرچوں والی چٹنی یعنی ساس ڈال کر دی۔ ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور رقم کی ادائیگی کے بعد سلام کیا جسکا اس نے ٹھیٹ عربی انداز میں جوب دیا۔ ہم نے پیزا لیا اور باہر آکر گیلے موسم میں اس سے اپنے شکم کو سیر کیا۔
اس کے بعد ہم پھر سے آبی بس میں سوار ہو کر مرکزی مقام سان مارکو پہنچے۔ یہ رومی سلطنت کا پرانا مرکز رہا ہوگا۔ یہاں پر عمارتوں کی ایک طویل قطار تھی جس میں گرجا گھر، عجائب گھر، گھنٹہ گھراور بازار شامل ہیں جو کہ مغلوں کی بارہ دری یا بادشاہی مسجد کے دریچوں جیسی مشابہت اور طوالت رکھتے ہے۔
یہا ں پر لوگوں کا ایک جم غفیر تھا کہ آس پاس والوں سے بچ کے گزرنا پڑتا تھا اور کے باوجود بھی جب پیار کیا تو ڈرنا کیا کے مصداق بہت سے مناظر دیکھنے کو ملے جو احاطہ تحریر میں نہیں لائے جا سکتے۔
یہاں منظر کشی کے لئے پورا دن بھی ناکافی ہے، ہم نے جہاں تک ہو سکا تصاویر لیں اور واپسی کی کشتی میں سوار ہوئے کیونکہ تریئستے کا ریل کا سفر دو گھنٹوں کا تھا 
اور ہم رات میں سفر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ 
جاری ہے

Friday, April 20, 2012

سفرِ اطالیہ، دوسرا ٹکڑا

یہ مقام دراصل ایدریاتیکو گیسٹ ہاوس تھا جو کہ آئی سی ٹی پی کا حصہ ہے مگر مرکزی کیمپس سے ہٹ کر ہے۔ یہاں پرمعمول کی کاروائی کے بعدہمیں بتایا گیا کہ ہماراکمرہ تیسری منزل پر ہے اورہمیں پہلے سے موجود ایک صاحب کے ساتھ کمرہ بانٹنا ہو گا۔ ہم لفٹ سے تیسری منزل پر پہنچے اور صاحبِ کمرہ کو نیند سے جگایا۔یہ نائیجیریا سے تھے اور خاصے معقول آدمی تھے، آنکھیں ملتے ہوئے ہمیں خوش آمدید کہا اور ہم سے سفر کا حال دریافت کیا، ہم نے بھی خوشدلی سے انھیں جواب دیا۔ اس کے بعد ہم تازہ دم ہوئے اور سو گئے-
ہم یہاں اقوامِ متحدہ اورآئی سی ٹی پی کے اشتراک سے کی جانے والی ایک ورکشاپ میں شرکت کی غرض سے آئے تھے اور ہمارا یہاں قیام تین ہفتوں کا تھا۔ لہذا آہستہ آہستہ  اس جگہ سے واقفیت حاصل کی۔مرکزی کیمپس کے لئے روزانہ شٹل سروس دو رویہ چلتی ہے۔پیدل مرکزی کیمپس تک ۱۰ سے ۱۵ منٹ لگتے ہیں جس کے لئے آپ کو پہاڑی چڑھ کر بڑی سڑک پر جانا پڑتا ہے اور اس کے بعد دو سرنگوں کو پار کر کے آپ مرکزی عمارت یا یوں کہیں کہ عمارتوں کے سلسلے تک پہنچتے ہیں۔اس مرکزی سڑک کا نام اِسترادا کوستریئرا یعنی ساحلی سڑک ہے۔
ہوسٹل ایک قوس کی مانند شمالا جنوبا بنا ہوا ہے۔ قوس کا مرکز مغربی سمت میں ہے جہاں کُھلا سمندر ہے جسکا نا م بحیرہ ایدریاتک ہے۔ یہ بحیرہ اصل میں بحر روم کا حصہ ہے جو اطالیہ کے جزیرہ نما کے پاس جاکر اس سے مل جاتا ہے، گو کہ بیچ میں بحیرہ انائنن ہے مگر یہ بھی  فقط نام کا سمندر ہے جن کا اصل بحرروم ہے۔ایدریاتک سمندر کم اور جھیل زیادہ لگتا ہے اس میں جوار بھاٹا ہے اور نہ ہی ساحل سے سر پٹختی لہریں۔
تریئستے شہر یہاں سے بیس منٹ کی بس کی مسافت پر ہے اور اس بس کا آخری اسٹاپ ایدریاتیکوہوسٹل ہی ہے۔ یہاں سے آپ کشتی اور آبی بس کے ذریعے بھی شہر جا سکتے ہیں جو کہ آپ کو بندرگاہ پر اتارے گی اور پھر آپ کو شہر میں داخل ہونا ہوگا۔
اقوامِ متحدہ، یونیسکو کی اس ادارے پر خاص عنایت ہے جسکی وجہ سے یہاں سال کے بارہ مہینے علمی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ یہ ادارے حاضرین کو ناصرف یہ کہ علم کی دولت سےنوازتے ہیں بلکہ انکے طعام وقیام کا بندوبست بھی نہایت احسن طریقہ سے کرتے ہیں۔
ہم تین دن تک تو ورکشاپ کے پروگرام کے مطابق اچھے بچوں کی طرح محض پڑھائی کرتے رہے، مگر جمعہ کو آدھی چھٹی کی وجہ سے ہم سے رہا نہ گیا اور دوپہر کے کھانے کے فورا بعد بس نمبر ۳۶ سے شہر کی راہ لی۔ ارادہ تھا کہ شہر کے اسلامی مرکز میں نمازِ جمعہ ادا کر لیں گے اور شہر بھی دیکھ لیں گے۔ احتیاط کے طور پر گوگل سے نقشہ نکال لیا تھا اور بس سے اترنے کے بعد اسی کی مدد سے راستوں اور سڑکوں کو پہچاننے کی کوشش کی۔ پھر خیال آیا کہ راستہ پوچھ لیاجائے تو پتہ چلا کہ یہاں والوں کی انگریزی اورہماری اطالوی زبانوں کی صلاحیت ایک جیسی ہے۔ خیر پوچھنا بہتر رہا اور قریبا پندرہ منٹ کےگشت کے بعد ہم مطلوبہ پتہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔مگر وہاں سے مایوس لوٹنا پڑا کیونکہ بار بار گھنٹی بجانے پر بھی کوئی دروازہ کھولنے نہ آیا۔ انٹرنیٹ پر پتہ یہی دیا گیا تھا مگر شاید دوائے دل بیچنے والے اپنی دوکان بڑھا گئے تھے۔
اس کے بعد ہمیں اطالوی بجلی کے پلگ کی ضرورت یاد آئی کیونکہ یہاں پر تین ٹانگوںوالے پلگ ہوتے ہیں اور ہمارے پاکستانی یا آسٹریلیائی پلگ والے برقی آلات بنا کنورٹر کے یہاں کام نہیں کرنے والے تھے۔ یہ کنورٹر تلاش کرنے کے لئے ہمیں تین اسٹوروں پر جانا پڑا جو مخالف سمتوں میں تھے۔ پہلے اسٹور والے نے ہمارے لئے آسانی کر دی اور اطالوی زبان میں ہماری ضرورت لکھ کر ہمیں دے دی کہ ہم دوکاندار کو دکھا دیں اور ہمیں انگریزی اور اطالوی کے مخمسے میں نہ پڑنا پڑے۔ خیر تیسری دوکان پہ ہمیں کامیابی حاصل ہو گئی۔ اس پر وطن بہت یاد آیا کہ ایسی چھوٹی موٹی بجلی کی اشیاء ہمارے ہاں گلی محلہ کی دوکان سے بھی مل جاتی ہیں۔ اس کے بعد ہم نے ہوسٹل واپسی کی بس پکڑی ۔
اتوار کو کرنے کو کچھ نہ تھا تو ہم بیگ میں ہلکا پھلکا ناشتہ ڈال کرتریئستے کے مرکزی ریلوے اسٹیشن جا پہنچے اور وینس کا ٹکٹ خرید ڈالا۔
جاری ہے 

Tuesday, April 17, 2012

سفرِ اطالیہ، پہلا ٹکڑا

 آسٹریلیا سے واپسی پر ہم نےسوچا تو یہ تھا کہ اب بیرونِ ملک جانا آسان نہیں ہوگا، مگر انسان کی سوچ مالک کی کرنی کے آگے بے بس ٹھہری سو ہم گذشتہ ہفتہ سامانِ سفر سمیت جناح انٹرنیشنل کی بین الاقوامی انتظار گاہ میں امارات کی ہوائی کمپنی کے تین عدد بورڈنگ کارڈ لیےبراجمان تھے اور کافی کے کش لے رہے تھے۔ہماری پرواز کا وقت دوپہر کے سوا بارہ بجے تھا اور منزل تھی اطالیہ کا ایک چھوٹا سا شہر ۔ اس سے پہلے جدّہ اور شارجہ کی پروازیں جانا تھی لہٰذا عمرہ کے لئے جانے والوں کا خاصا رش تھا۔ خیر ہمارے جہاز میں جانے کا اعلان کیا گیا اور ہم اپنی نشست پر آ ٹکے۔ ہمارے نشست جہاز کے درمیانی قطار میں چار نشستوں کی ترتیب میں تھی۔ ہمارے دائیں جانب ایک دیسی پردیسی تھے اور بائیں جانب ایک خان صاحب۔ دیسی پردیسی درحقیقت بھارتی مسلم تھے اور برطانیہ کی شہریت رکھتے تھے۔ ممبئی میں تعطیلات گزار کر گھر جا رہے تھے۔ خان صاحب دوبئی میں خواتین کے ملبوسات کی دوکان کے مالک تھے۔
سفر پرسکون رہا اور کھانا بھی اچھا کھانے کو ملا۔ برطانیہ والے انکل سے ہماری دوستی ہو گئی اور وہ ہم سے حال چال کرنے لگے۔ انھوں نے ہم سے انگریزی میں بات چیت شروع کی اور دھیرے دھیرے اردو اور ہندی میں منتقل ہو گئے۔ ہماری انگریزی کی تعریف کرنے لگےتو ہم نے اس کا سہرا اپنے قیامِ آسٹریلیا کے سر باندھ دیا کہ اس سے پہلے جیسے ہمیں انگریزی نہیں آتی تھی۔ انکل کی انگریزی گو کہ صاف تھی مگر لہجہ ٹھیٹ بمبئی والا تھا۔
کھانے کے دوران جو اشیاء بچ گئیں انکل ان کو سمیٹ کر اپنے بیگ میں رکھنے لگے اور ساتھ ہی ہمیں بھی تاکید کی کہ کچھ چھوڑنا مت، ہم نے اس کے پیسے بھرے ہیں اور ہوائی کمپنی والے ہم پر احسان نہیں کر رہے، ویسے بھی منزل پر پہنچ کر کھانے کو جو بھی ملے گا وہ مہنگا ہی وہ گا لہٰذا اس کو سمیٹ لو۔ اس دوران انکی میٹھے والی کٹوری نیچے گر پڑی، تو اس پر افسوس سے کہنے لگے کہ اس میں کیا تھا۔ ہم کہ جو میٹھے پر پہلے ہی ہاتھ صاف کر بیٹھے تھے بولے کہ اس میں حبشی حلوہ تھا۔ اس پر انکی آنکھیں چمک اٹھیں اور منہ سے ایک آہ نکلی، انھوں نے فوری طور پر دوسری جانب بیٹھے صاحب کی ٹرے پر نظر ڈالی اور ان سے میٹھا مانگ لیا کیونکہ وہ صاحب میٹھا نہیں کھا رہے تھے۔ انھوں نے انکل کو میٹھے کی کٹوری پکڑا دی جو انکل نے اپنے قبضہ میں لے کر بیگ میں رکھ ڈالی۔جہاز میں کیونکہ تمباکو نوشی منع ہوتی ہے تو انھوں نے اپنے ظہرانے کی ابتدا مئے رنگیں سے کی اور ہم سے معذرت چاہی کہ وہ پی رہے تھے۔ ہم  ان کے عمل میں مخل نہ ہوئے اور انھوں نے اپنا شوق فرمایا۔
دوبئی پہنچے تو ہمارے رستے جدا ہوگئے کیونکہ انھیں لندن کی پرواز لینا تھی اور ہم روم کے مسافر تھے۔ دوبئی کے ہوائی اڈے پردوسری پرواز کے لئے کتنا چلنا پڑتا ہے اس کا اندازہ سفر کرنے والوں کو بخوبی ہوگا۔ہم بھی ایک ٹرمنل سے دوسرے تک پہنچے تو کم وبیش دس منٹ لگے۔اگلی پرواز میں ابھی وقت تھا تو ہم نے ظہر ادا کی اور پھر مقررہ دروازے کے پاس پہنچ کر انتظار کرنے لگے۔ انٹرنیٹ پر وقت گزارا اور پرواز کے اعلان کے بعد نیچے پہنچ کر جہاز میں داخل ہونے کےمنتظر ہوئے۔ جہاز میں جانے کا اعلان ہوا تو ایک عجب عالم ِ بدتمیزی دیکھنے کو ملا کہ سب کے سب مسافر بنا قطار کے جہاز کی جانب جانے ولی سرنگ کے منہ پر جمع ہو گئے۔ اعلان کرنے والے بھی واضح طور پر نہ بتا پائے کہ پہلے کس کو جانا ہے، خیر ہم اکانومی والے سکون میں تھے کیونکہ ہماری باری آخر میں آنا تھی۔ جہاز اپنے مقررہ وقت سے کچھ تاخیر سےاُڑا۔
دوبئی سےاطالیہ کے دارالحکومت تک کا سفر چھے گھنٹوں سے زیادہ کا ہے۔کپتان صاحب خاصے مشّاق تھے انھوں نے ہمیں قریبا چھے گھنٹوں میں ہی روم پہنچا ڈالا۔ سفر نہایت خوشگوارگزرا، ہم نے جہاز میں میسر سہولیات سے بھرپور استفادہ کیا ۔اس بار  ہماری نشست کھڑی کے ساتھ تھی اور ہمارے پڑوس میں ایک بوڑھا جوڑا تھا جو اپنی جمع شدہ دولت کا کچھ حصہ دوبئی میں خرچ کرنے کے بعد وطن واپس جا رہا تھا۔ آنٹی کو انگریزی کی شُد بُد تھی مگر انکل انگریزی سے نا بلد معلوم ہوتے تھے۔
روم کے قریب پہنچ کر جب جہاز نے نیچی پرواز لی تو ہم نے یورپ پر پہلی نگاہ ڈالی۔ حدِ نگاہ تک پہاڑ اور سبزہ دکھائی دیا اور آہستہ آہستہ بستیاں اور شہر بھی نظر آنے لگے۔ سورج کی ڈھلتی کرنوں کی پرچھائیں میں ہم روم کے ہوائی اڈے پر اُترے۔ یہاں سے ریل کے ذریعہ بین الصوبائی ٹرمنل جانا تھا۔ یہاں پر بھی بے ترتیبی نظر آئی اور لوگ بنا قطار کے ہی ریل کے انتظار میں کھڑے ہوتے گئے، جیسی ہی ریل آئی لوگوں کا ریلہ اس میں داخل ہوا۔ ہمارے لئے یہ منظر نیا نہیں تھا لہٰذا ہم بھی ریلے میں شامل ہو کر ریل میں سوار ہو گئے۔ دوسری جانب پہنچے تو قطار بنانا مجبوری ٹھہری کیونکہ یہاں جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا تھا۔ خیریہاں سے فراغت کے بعد مطلوبہ ٹرمنل تک پہنچے کے لئے پھر اچھا خاصا پیدل چلنا پڑا۔ اس پرواز کو تریئستے جانا تھا۔ اطالوی زبان میں ٹے، ڈال وغیرہ نہیں ہوتے لہذا انگریزی کا ٹی یہاں تی بن جاتا ہے۔
انتظار گاہ میں پہنچ کر پہلا دھچکا یہ لگا کہ یہاں مفت کا انٹرنیٹ نہیں تھا، اس سے اچھا تو ہمارا کراچی یا عربوں کا دوبئی تھا کہ جہاں یہ سہولت مفت میں مہیا کی گئی تھی۔ہمیں یورپ والوں کی مہمان نوازی کا اندازہ یہیں سے ہو گیا۔
ہماری پرواز کا وقت ساڑھے نو بجے کا تھا ۔ اعلان ہوتے ہی ایک بس کےذریعہ ہمیں جہاز کے قریب اتارا گیا، یہاں بھی قطار بنائے بغیر ہی جہاز میں داخل کئے گئے ۔ جہاز تاخیر سے روانہ ہوا اور نیچی اور ناہموار پرواز لیتا ہوا مقررہ وقت پر تریئستے اترا۔ جہاز میں تواضع کے لئے پانی، چائے اور کافی مفت تھے۔
ہوائ اڈے پر اترے تو ساڑھے دس ہو چکے تھے۔ خدا خدا کر کے سامان ملا اور ہم بس کا ٹکٹ خودکار مشین سے خریدنے کے بعد بس اسٹاپ پر جا کھڑے ہوئے۔ یہ اس ہوائی اڈے پر اترنے والی غالبا آخری پرواز تھی اور ہم عبد سلام بین الاقوامی ادارہ برائے نظریاتی طبیعات جسے انگریزی میں آئی سی ٹی پی کہتے ہیں، جانے والی آخری بس کے منتظر تھے جسے ساڑھے گیارہ بجے آنا تھا۔ شکر ہے کہ تیس کے قریب مسافر اس بس کا انتظار فرما رہے تھے ورنہ اکیلے تو یہ بس اسٹاپ ہمیں کاٹ کھانے کو دوڑتا۔ بس اپنے مقررہ وقت پر آئی اور ہم اس میں سوار ہوئے۔ ہمارے علاوہ دو خواتین جن کا تعلق ارجنٹائن سے تھا، نے بھی آئی سی ٹی پی ہی جانا تھا جن میں سے ایک خاتون کا اس ادارے کا یہ دوسرا دورہ تھا۔ اس وجہ سے ہم اسٹاپ کے متعلق بے فکر تھے۔ جب ہم آئی سی ٹی پی پہنچے تو رات کے ساڑھے بارہ بجے کے قریب کا وقت تھا۔
جاری ہے 

Sunday, February 26, 2012

ایک اور دن استادِ محترم کے ساتھ، دوسرا اور آخری ٹکڑا

اتنے میں افطار کا وقت ہوا چاہتا تھا لہٰذا ہم نے استادِ محترم کے گھر کی راہ لی اور مغرب کے قریب وہاں پہنچ گئے۔اپنے ساتھ لائی ہوئی کھجوروں سے روزہ افطار کیا اور استادِ محترم کو بھی افطار کرایا۔ عصرو مغرب ادا کی، جائےنماز ہم ساتھ ساتھ لے گئے تھے ، ایک کٹر عیسائی کی خوابگاہ میں اللہ تعالٰی کے حضور سجدہ ریز ہوئے۔
ذیشان نے اب تک گوروں کے گھروں کو فلموں میں ہی دیکھا تھا مگر آج اصل میں گورے کا گھر دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ اس دوران خاتونِ خانہ کھانے کی میز سجا چکی تھیں۔ عمران اور ہمیں انگریزی کھانے کا بخوبی اندازہ و تجربہ تھا مگر ذیشان کی لئے یہ پہلا تجربہ تھا۔ اب کھانے کی تفصیل کچھ یوں تھی کہ ابلی ہوئی سبزیاں ، انڈے کی گریبی جس میں شوربہ ندارد تھا، ابلے چاول مع زیرہ کے، اور ابلی ہوئی سبز موسمی پھلیاں۔ میٹھے میں کسٹرڈتھا جو کہ ایک خاص قسم کے انگریزی طعام کے ساتھ کھانے کا حکم ملا، اس میں ابلے ہوئے  جو، باجرا اور دیگر اجناس کے مرکب جس میں سیبوں کا مربہ بنا شکرکے شامل تھا۔ کھانے کے دوران عمران اور ہم مسلسل ذیشان کو تکے جارہے تھے کہ انھیں چٹ پٹا کھانا کھانے کی عادت تھی اور یہ کھانا مصالحہ کے بغیر تھا ۔ استادِ محترم اور استانی جی نے یقینا اپنی جانب سے بہترین کھانے کا انتظام کیا تھا مگر ہماری دیسی زبانیں اس ذائقہ کو کیا جانیں۔ ذیشان پر جو گزری وہ کم وبیش وہی کیفیت تھی کہ جسکا تجربہ ہم اپنے پہلے دورہ میں کر چکے تھے۔
کھانے کے دوران استانی جی کینیڈا کے قصّے سناتی رہیں اور ہمیں گرم مشروب بھی پیش کیا یہاں تک کہ استاد جی کو گفتگو میں مخل ہونا پڑا۔ ان کے گرجا گھر جانے کا وقت ہو چلا تھا تو وہ  استانی جی کو انکے قصوں پرکن اکھیوں سے روکنے لگے۔ استانی جی نے سلسلہ کلام موقوف کیا اور ہمیں جانے کی اجازت دی۔
ہم استاد جی کی رہنمائی میں عمران کی گاڑی کے ذریعے گرجا گھر جاپہنچے۔یہ گرجا گھر روایتی چرچ نہیں تھا بلکہ اسے ایک قدرے جدید طرز کا اجتماعتی مرکز کہا جاسکتا ہے۔ اسکا نام ۶۴۵چرچ تھا کیونکہ یہ شام کے پونے سات بجے  اجتماع اور درسِ بائبل کا آغاز کرتا تھا۔اس چرچ میں تمام عمر کے مقلدین آتے تھے ۔ ان کے درسی اوقات مختلف تھے مگر پونے سات بجے والی محفل سب کے لئے ہوتی تھی۔ ہمارے استادِ محترم اس چرچ کے ایک سر گرم مبلغ تھے۔
جب ہم وہاں پہنچے تو درس کا آغاز ہوا ہی چاہتا تھا۔ اس میں بائبل کے ایک باب کی تعلیم دی گئی جو حضرت داود علیہ سلام سے متعلق تھا۔ تمام حاضرین کے لئے بائبل کی جلدیں نشستوں کے سامنے رکھی تھی۔ استادِ محترم نے ہمیں متذکرہ باب نکال کر دیا۔ عمران اور ہم نے ایک کہانی کی صورت وہ باب پڑھنا شروع کیا، ویسے بھی انکے مبلغ وہ سطور پڑھ ہی رہے تھے، ہم فقط اپنی نظریں کتاب پر ڈالتے رہے۔ ذیشان نے تو بائبل کو ہاتھ لگانا بھی گناہ سمجھا اور محض سننے پر اکتفا کیا۔ درس کے دوران اس باب کی تشریح کی گئی اور اسکا پس منظر و پیش منظر بیان کیا گیا، ساتھ ہی گیتوں کی صورت حضرت عیسٰی علیہ سلام کی تعریف بیان کی گئی۔ چرچ سے متعلق ہمارا تصور کافی مختلف تھا۔ ہم نے تو فلموں میں بڑےبڑے گرجا گھر دیکھے ہیں مگر یہ گرجا الگ ہی انداز کا تھا۔
 درس کے بعد حاضرین کے لئے عشائیے کا بندوبست بھی تھا، جس سے ہم مستفید نہ ہوئے اور استادِمحترم کو انکے گھر پہنچا کر اپنے گھر کی راہ لی ،یوں ہماری گرجا گھر دیکھنے کی حسرت تمام ہوئی۔
ختم شُد

Saturday, February 25, 2012

ایک اور دن استادِ محترم کے ساتھ، پہلا ٹکڑا

جون سن ۲۰۱۰ ء میں ہمیں ہمارے استادِ محترم نے اپنے گھر آنے کی دعوت دی تھی اب کی بار جبکہہمارے سڈنی سے وطن واپسی میں چند دن باقی تھے کہ ہمارے استاد محترم نے ہماری ایک پرانی فرمائش ہمیں یاد دلائی جس میں ہم نے انھیں گرجا گھر لے جانے کا کہا تھا۔ ہم نے فوری طور پر ہامی بھر لی اور اپنے ساتھ محمد عمران اور ذیشان وسیم کو بھی تیار کرلیا۔ اتوار کو ہم ان کے ہاں عمران کی ٹویوٹا میں دوپہر کے دوبجے کے قریب پہنچے۔ استادِ محترم اور استانی صاحبہ پہلے سےہمارے منتظر تھے۔ اللہ بھلا کرے سڈنی کے موسم کا کہ صبح تک خاصا گرم تھا مگر اب بارش کی پیشنگوئی تھی اور ہم چھتریاں ساتھ نہیں لائے تھے۔ استادِ محترم نے ہمیں چھاتے دیئے اور ہم عمران کی گاڑی میں سمندر کی جانب نکل پڑے۔
ہمارے استادِ محترم نے ہمیں سڈنی آتے ہی چند ایک ساحلوں پر جانے کا کہا تھا جو کہ شہر کے شمال میں تھے، ہمارا شمالی سڈنی کم ہی جانا ہوتا تھا لہٰذا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ہمیں متذکرہ ساحلوں کی طرف لے چلے – ان میں 'ووئے ووئے'، 'ویسٹ ہیڈ'اور 'لونگ ریف' نامی مناظر گاہیں اہم ہیں کہ جہاں سے سمندر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ دراصل یہ تمام مقامات پہاڑی ہیں اور سمندر کھاڑیاں بناتا ہوا ان میں گھس آیا ہے۔
ہمارا پہلا پڑاو ویسٹ ہیڈ نامی چھوٹی سی پہاڑی تھی، اسلام آباد کے دامن کوہ سے مماثلت رکھتی اس چڑھائی پر جانے کیلئے جب ہم شہر سے باہر رواں دواں تھے تو راستے کی طوالت کا اندازہ ہوتے ہی عمران نے کسی مشکل سے بچنے کی خاطر گاڑی میں پیٹرول بھروا لیا۔ ویسٹ ہیڈ ایک تشریف فرما شیر جیسے نقشہ سے ملتے جلتے چھوٹے سے پہاڑی جزیرے کے بالکل ساتھ ہے ۔ گورا بھی کمال کا ہے کہ اپنی چھوٹی اور غیر اہم جگہ کو بھی اسقدر خوبصورت اور اہم  بنا دیتا ہے کہ سیاح اسے دیکھنے کھنچے چلے آتے ہیں یعنی یہ نالہ کو بھی نغمہ میں بدل دیتے ہیں -بقول غالب
ع نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
 یہاں سے مشرقی سمت کا نظر اٹھائی تو سامنے پام بیچ تھا اور بیچ میں سمندر۔وہیں ذرا جنوبی سمت میں کشتیوں کی گودی تھی کہ جہاں ہم نے اپنے ایک گذشتہ سفر میں ذیشان اور زبیر کے ساتھ کھوکھے سے کافی پی تھی۔
یہاں کا نظارہ کرنے کے بعد ہم اگلی منزل کی طرف روانہ ہوئے، مگر اُترائی اُترتےہوئے طوفانی بارش کا سامنا کرنا پڑا اور ایسی زبردست ژالہ باری ہوئی کہ الا مان الحفیظ ۔ اولے تھے کہ گاڑی کی ونڈ اسکرین پر تڑاک تڑاک برسے جارہے تھے اور مینہ ایسا کہ سامنے کا منظر بھی دیکھنا محال تھا، عمران بظاہر تو سکون سے گاڑی چلا رہے تھے مگر اندر سے ڈر بھی رہے تھے کہ کہیں ونڈ اسکرین پر کوئی خراش نہ آجائے۔ خیر خدا خدا کرکے ہم اس طوفان سے باہرنکل آئے۔ اب ہمارا رُخ لانگ ریف  یعنی لمبی اور گہری کھاڑی کی جانب تھا جسکے لئے ہم  نے جنوب مشرق میں سفر کیا اور وہاں جا پہنچے۔ یہ ایک خوبصورت مقام تھا جو کہ ایک عدد گولف کورس رکھتا تھا، گولف کورس کے ساتھ ساتھ ایک پیدل گزرگاہ تھی جو کہ ایک چھوٹی سی پہاڑی پر ختم ہوتی تھی ۔ ساتھ ہی سمندر تھا گویا یہ مقام بھی ایک قدرتی پہاڑی کھاڑی تھی اور یہاں ہمیں  اپنے بچپن کے کھیل کی نظم 'ہرا سمندر' کے مصداق حقیقی معنوں میں ہرا سمندر نظر آیا۔یہاں بھی ہم نے منظر کشی کی اور سرد موسم کا لطف اٹھایا۔ پانی میں عجیب سی کشش ہوتی ہے اور سمندر تو ویسے بھی اپنے اندر گہرائی و گیرائی رکھتا ہے لہذا سمندر کا نظارہ کرنا دلچسپی سےخالی نہیں ہے۔
جاری ہے

Sunday, February 19, 2012

ولیمہ فہد الٰہی کا

سب سے پہلے تو قارئین سے معذرت کہ ہم کافی عرصہ بلاگ نہ لکھ سکے، تازہ ترین بلاگ پیشِ خدمت ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور زمین پر ملتے ہیں، ایسی ہی ایک خوش نصیب جوڑی کے ولیمہ میں شرکت کا شرف ہمیں گذشتہ ماہ حاصل ہوا۔ ہمارے سڈنی کے ساتھی حافظ فہد الٰہی اپنی دلہنیا لے آئے کہ جن کی آمد پر ان کا استقبال ترے مست مست دو نین کے گیت پر کیا گیا۔ جی ہاں، جب یہ جوڑی پنڈال میں داخل ہوئی تو گیت کے یہ بول بجائے گئے اور نوبیہاتاجوڑا پوری تمکنت کے ساتھ چلتا ہوا اسٹیج پر پہنچا۔ راہداری کے دونوں جانب قالین سے منسلک صوفوں کی نشستیں لگائی گئی تھیں جن کے پیچھے دونوں اطراف میں گول میزوں کے گرد کرسیوں پر براجمان مہمانان کی نظریں مست مست نین اور ان نینوں کے جملہ حقوق کے محافظ کو بغور تکے جارہی تھیں۔ آخر کو یہ فہد الٰہی کا ولیمہ تھا تو وہ سب کی نگاہوں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔
ہمارے سڈنی کے ساتھیوں میں سے محترم شہباز واڈیوالا بطورِ خاص دوبئی سے کراچی پہنچے تھے کہ ان کے یار کی شادی تھی۔ عثمان حسن اور عمّار انیس کے ساتھ ساتھ ہم بھی وہیں موجود تھے اور ایک میز پر بیٹھے مصروفِ گفتگو تھے۔ گو کہ گفتگو کا مرکز نیا شادی شدہ جوڑا اور ولیمہ کی تقریب تھی مگر انزیکی ہونے کی وجہ سے سڈنی کے حالات پر بھی روشنی ڈالی جا رہی تھی۔ دیگر دوستوں کا بھی ذکر چل نکلا اور سب کے 
حال احوال کاجائزہ لیا گیا۔

دلہن نے ہلکے گلابی رنگ کا عروسی لباس مع زیورات کے زیب تن کیا ہوا تھا اور دولہا میاں روایتی سوٹ میں ملبوس تھے ان کی ٹائی دولہن کے لباس سے میل کھا رہی تھی۔ غالب نے تو بیوی کو پیر کی بیڑی کہا تھا، مگر فہد بھائی کے تو گلے میں یہ بیڑی پڑی تھی۔ گو کہ گلے میں پھندا پڑا کرتا ہے، مگر یہ خوشی خوشی پہنا گیا پھندا تھا۔ ماشاءاللہ سے یہ جوڑی کمال کی لگ رہی تھی۔
شادی اور ولیمہ کی تقریبات میں مہمانان کو سب سے زیادہ مرغوب و مطلوب تقریب کی ضیافت ہوتی ہے تو یہ دعوت ولیمہ ہماری اب تک کی شرکت کردہ تمام دعوتوں پر سبقت لے گئی۔ انگریزی کے ایک مقولہ "یو آسک فار اِٹ وی ہیو اِٹ" کے مصداق دال، سبزی  سے لے کرمرغی، مچھلی اورسادہ پانی سے لے کر کافی اور آئس کریم تک سب کچھ وافر مقدار میں موجود تھا۔ عام طور پر ایسی دعوتوں میں مہمانان کھانے کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو چنگیز خان نے بغداد والوں کے ساتھ کیا تھا مگر یہاں افراتفریح دیکھنے میں نہ آئی اور سب نے سیر ہو کر کھانے سے انصاف کیا۔
کھانے کے دوران ہمارے دوست  شیخ محمد احسن کے والدِ محترم سے بھی ملاقات ہوئی اور ہم نے اپنا تعارف بلاگ کے لکھاری کی حیثیت سے کرایا کیونکہ وہ ہمارے بلاگ کے مستقل قاری ہیں۔ وہ بہت محبت سے ملے اور  ہمیں ایسے لگا کہ ہم احسن کے مستقبل سے مل رہے ہیں۔
دولہا میاں بطورِ خاص ہم سے ملنے تشریف لائے اور کھانے کے متعلق استفسار فرمایا کہ ہم سب نے سیر ہو کر کھایا یا نہیں گویا انھوں نے اپنے میزبان اور دلّی والے ہونے کا حق ادا کردیا۔
کھانے کے بعد ہم اسٹیج پر جا پہنچے اور فہد الٰہی سے جانے کی اجازت چاہی۔ وہ ہمیں رخصت کرنے نیچے اترے تو شہباز نے انکی ملاقات اپنے گھر والوں اور ایک خاص مہمان سے بھی کرائی۔
ہم سب وہاں سے رخصت ہوئے اور عثمان کی گاڑی میں عمّار کے ساتھ  براجمان ہوکر گھر کی راہ لی۔