Sunday, February 19, 2012

ولیمہ فہد الٰہی کا

سب سے پہلے تو قارئین سے معذرت کہ ہم کافی عرصہ بلاگ نہ لکھ سکے، تازہ ترین بلاگ پیشِ خدمت ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور زمین پر ملتے ہیں، ایسی ہی ایک خوش نصیب جوڑی کے ولیمہ میں شرکت کا شرف ہمیں گذشتہ ماہ حاصل ہوا۔ ہمارے سڈنی کے ساتھی حافظ فہد الٰہی اپنی دلہنیا لے آئے کہ جن کی آمد پر ان کا استقبال ترے مست مست دو نین کے گیت پر کیا گیا۔ جی ہاں، جب یہ جوڑی پنڈال میں داخل ہوئی تو گیت کے یہ بول بجائے گئے اور نوبیہاتاجوڑا پوری تمکنت کے ساتھ چلتا ہوا اسٹیج پر پہنچا۔ راہداری کے دونوں جانب قالین سے منسلک صوفوں کی نشستیں لگائی گئی تھیں جن کے پیچھے دونوں اطراف میں گول میزوں کے گرد کرسیوں پر براجمان مہمانان کی نظریں مست مست نین اور ان نینوں کے جملہ حقوق کے محافظ کو بغور تکے جارہی تھیں۔ آخر کو یہ فہد الٰہی کا ولیمہ تھا تو وہ سب کی نگاہوں کا مرکز بنے ہوئے تھے۔
ہمارے سڈنی کے ساتھیوں میں سے محترم شہباز واڈیوالا بطورِ خاص دوبئی سے کراچی پہنچے تھے کہ ان کے یار کی شادی تھی۔ عثمان حسن اور عمّار انیس کے ساتھ ساتھ ہم بھی وہیں موجود تھے اور ایک میز پر بیٹھے مصروفِ گفتگو تھے۔ گو کہ گفتگو کا مرکز نیا شادی شدہ جوڑا اور ولیمہ کی تقریب تھی مگر انزیکی ہونے کی وجہ سے سڈنی کے حالات پر بھی روشنی ڈالی جا رہی تھی۔ دیگر دوستوں کا بھی ذکر چل نکلا اور سب کے 
حال احوال کاجائزہ لیا گیا۔

دلہن نے ہلکے گلابی رنگ کا عروسی لباس مع زیورات کے زیب تن کیا ہوا تھا اور دولہا میاں روایتی سوٹ میں ملبوس تھے ان کی ٹائی دولہن کے لباس سے میل کھا رہی تھی۔ غالب نے تو بیوی کو پیر کی بیڑی کہا تھا، مگر فہد بھائی کے تو گلے میں یہ بیڑی پڑی تھی۔ گو کہ گلے میں پھندا پڑا کرتا ہے، مگر یہ خوشی خوشی پہنا گیا پھندا تھا۔ ماشاءاللہ سے یہ جوڑی کمال کی لگ رہی تھی۔
شادی اور ولیمہ کی تقریبات میں مہمانان کو سب سے زیادہ مرغوب و مطلوب تقریب کی ضیافت ہوتی ہے تو یہ دعوت ولیمہ ہماری اب تک کی شرکت کردہ تمام دعوتوں پر سبقت لے گئی۔ انگریزی کے ایک مقولہ "یو آسک فار اِٹ وی ہیو اِٹ" کے مصداق دال، سبزی  سے لے کرمرغی، مچھلی اورسادہ پانی سے لے کر کافی اور آئس کریم تک سب کچھ وافر مقدار میں موجود تھا۔ عام طور پر ایسی دعوتوں میں مہمانان کھانے کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو چنگیز خان نے بغداد والوں کے ساتھ کیا تھا مگر یہاں افراتفریح دیکھنے میں نہ آئی اور سب نے سیر ہو کر کھانے سے انصاف کیا۔
کھانے کے دوران ہمارے دوست  شیخ محمد احسن کے والدِ محترم سے بھی ملاقات ہوئی اور ہم نے اپنا تعارف بلاگ کے لکھاری کی حیثیت سے کرایا کیونکہ وہ ہمارے بلاگ کے مستقل قاری ہیں۔ وہ بہت محبت سے ملے اور  ہمیں ایسے لگا کہ ہم احسن کے مستقبل سے مل رہے ہیں۔
دولہا میاں بطورِ خاص ہم سے ملنے تشریف لائے اور کھانے کے متعلق استفسار فرمایا کہ ہم سب نے سیر ہو کر کھایا یا نہیں گویا انھوں نے اپنے میزبان اور دلّی والے ہونے کا حق ادا کردیا۔
کھانے کے بعد ہم اسٹیج پر جا پہنچے اور فہد الٰہی سے جانے کی اجازت چاہی۔ وہ ہمیں رخصت کرنے نیچے اترے تو شہباز نے انکی ملاقات اپنے گھر والوں اور ایک خاص مہمان سے بھی کرائی۔
ہم سب وہاں سے رخصت ہوئے اور عثمان کی گاڑی میں عمّار کے ساتھ  براجمان ہوکر گھر کی راہ لی۔  

3 comments:

  1. کہتے ہیں کہ صبح کا بھولا شام کو گھر آ جائے تو اُسے بھولا نہیں کہتے لیکن آپ تو شادیاں کھانے گئے تھے اسلئے بھولے نہیں

    ReplyDelete
  2. You end up coming back with Usman and Ammar..So they manage to drop you back home instead of ending up somewhere else...:)

    ReplyDelete
  3. khaas mehmaan? ... :)

    ReplyDelete