Saturday, February 25, 2012

ایک اور دن استادِ محترم کے ساتھ، پہلا ٹکڑا

جون سن ۲۰۱۰ ء میں ہمیں ہمارے استادِ محترم نے اپنے گھر آنے کی دعوت دی تھی اب کی بار جبکہہمارے سڈنی سے وطن واپسی میں چند دن باقی تھے کہ ہمارے استاد محترم نے ہماری ایک پرانی فرمائش ہمیں یاد دلائی جس میں ہم نے انھیں گرجا گھر لے جانے کا کہا تھا۔ ہم نے فوری طور پر ہامی بھر لی اور اپنے ساتھ محمد عمران اور ذیشان وسیم کو بھی تیار کرلیا۔ اتوار کو ہم ان کے ہاں عمران کی ٹویوٹا میں دوپہر کے دوبجے کے قریب پہنچے۔ استادِ محترم اور استانی صاحبہ پہلے سےہمارے منتظر تھے۔ اللہ بھلا کرے سڈنی کے موسم کا کہ صبح تک خاصا گرم تھا مگر اب بارش کی پیشنگوئی تھی اور ہم چھتریاں ساتھ نہیں لائے تھے۔ استادِ محترم نے ہمیں چھاتے دیئے اور ہم عمران کی گاڑی میں سمندر کی جانب نکل پڑے۔
ہمارے استادِ محترم نے ہمیں سڈنی آتے ہی چند ایک ساحلوں پر جانے کا کہا تھا جو کہ شہر کے شمال میں تھے، ہمارا شمالی سڈنی کم ہی جانا ہوتا تھا لہٰذا اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ ہمیں متذکرہ ساحلوں کی طرف لے چلے – ان میں 'ووئے ووئے'، 'ویسٹ ہیڈ'اور 'لونگ ریف' نامی مناظر گاہیں اہم ہیں کہ جہاں سے سمندر کا نظارہ کیا جا سکتا ہے۔ دراصل یہ تمام مقامات پہاڑی ہیں اور سمندر کھاڑیاں بناتا ہوا ان میں گھس آیا ہے۔
ہمارا پہلا پڑاو ویسٹ ہیڈ نامی چھوٹی سی پہاڑی تھی، اسلام آباد کے دامن کوہ سے مماثلت رکھتی اس چڑھائی پر جانے کیلئے جب ہم شہر سے باہر رواں دواں تھے تو راستے کی طوالت کا اندازہ ہوتے ہی عمران نے کسی مشکل سے بچنے کی خاطر گاڑی میں پیٹرول بھروا لیا۔ ویسٹ ہیڈ ایک تشریف فرما شیر جیسے نقشہ سے ملتے جلتے چھوٹے سے پہاڑی جزیرے کے بالکل ساتھ ہے ۔ گورا بھی کمال کا ہے کہ اپنی چھوٹی اور غیر اہم جگہ کو بھی اسقدر خوبصورت اور اہم  بنا دیتا ہے کہ سیاح اسے دیکھنے کھنچے چلے آتے ہیں یعنی یہ نالہ کو بھی نغمہ میں بدل دیتے ہیں -بقول غالب
ع نغمہ ہو جاتا ہے واں گر نالہ میرا جائے ہے
 یہاں سے مشرقی سمت کا نظر اٹھائی تو سامنے پام بیچ تھا اور بیچ میں سمندر۔وہیں ذرا جنوبی سمت میں کشتیوں کی گودی تھی کہ جہاں ہم نے اپنے ایک گذشتہ سفر میں ذیشان اور زبیر کے ساتھ کھوکھے سے کافی پی تھی۔
یہاں کا نظارہ کرنے کے بعد ہم اگلی منزل کی طرف روانہ ہوئے، مگر اُترائی اُترتےہوئے طوفانی بارش کا سامنا کرنا پڑا اور ایسی زبردست ژالہ باری ہوئی کہ الا مان الحفیظ ۔ اولے تھے کہ گاڑی کی ونڈ اسکرین پر تڑاک تڑاک برسے جارہے تھے اور مینہ ایسا کہ سامنے کا منظر بھی دیکھنا محال تھا، عمران بظاہر تو سکون سے گاڑی چلا رہے تھے مگر اندر سے ڈر بھی رہے تھے کہ کہیں ونڈ اسکرین پر کوئی خراش نہ آجائے۔ خیر خدا خدا کرکے ہم اس طوفان سے باہرنکل آئے۔ اب ہمارا رُخ لانگ ریف  یعنی لمبی اور گہری کھاڑی کی جانب تھا جسکے لئے ہم  نے جنوب مشرق میں سفر کیا اور وہاں جا پہنچے۔ یہ ایک خوبصورت مقام تھا جو کہ ایک عدد گولف کورس رکھتا تھا، گولف کورس کے ساتھ ساتھ ایک پیدل گزرگاہ تھی جو کہ ایک چھوٹی سی پہاڑی پر ختم ہوتی تھی ۔ ساتھ ہی سمندر تھا گویا یہ مقام بھی ایک قدرتی پہاڑی کھاڑی تھی اور یہاں ہمیں  اپنے بچپن کے کھیل کی نظم 'ہرا سمندر' کے مصداق حقیقی معنوں میں ہرا سمندر نظر آیا۔یہاں بھی ہم نے منظر کشی کی اور سرد موسم کا لطف اٹھایا۔ پانی میں عجیب سی کشش ہوتی ہے اور سمندر تو ویسے بھی اپنے اندر گہرائی و گیرائی رکھتا ہے لہذا سمندر کا نظارہ کرنا دلچسپی سےخالی نہیں ہے۔
جاری ہے

1 comment:

  1. Bohat khub tasweer kashi ki gai hay , parh kar ...............

    jari hay :P

    ReplyDelete