Tuesday, April 17, 2012

سفرِ اطالیہ، پہلا ٹکڑا

 آسٹریلیا سے واپسی پر ہم نےسوچا تو یہ تھا کہ اب بیرونِ ملک جانا آسان نہیں ہوگا، مگر انسان کی سوچ مالک کی کرنی کے آگے بے بس ٹھہری سو ہم گذشتہ ہفتہ سامانِ سفر سمیت جناح انٹرنیشنل کی بین الاقوامی انتظار گاہ میں امارات کی ہوائی کمپنی کے تین عدد بورڈنگ کارڈ لیےبراجمان تھے اور کافی کے کش لے رہے تھے۔ہماری پرواز کا وقت دوپہر کے سوا بارہ بجے تھا اور منزل تھی اطالیہ کا ایک چھوٹا سا شہر ۔ اس سے پہلے جدّہ اور شارجہ کی پروازیں جانا تھی لہٰذا عمرہ کے لئے جانے والوں کا خاصا رش تھا۔ خیر ہمارے جہاز میں جانے کا اعلان کیا گیا اور ہم اپنی نشست پر آ ٹکے۔ ہمارے نشست جہاز کے درمیانی قطار میں چار نشستوں کی ترتیب میں تھی۔ ہمارے دائیں جانب ایک دیسی پردیسی تھے اور بائیں جانب ایک خان صاحب۔ دیسی پردیسی درحقیقت بھارتی مسلم تھے اور برطانیہ کی شہریت رکھتے تھے۔ ممبئی میں تعطیلات گزار کر گھر جا رہے تھے۔ خان صاحب دوبئی میں خواتین کے ملبوسات کی دوکان کے مالک تھے۔
سفر پرسکون رہا اور کھانا بھی اچھا کھانے کو ملا۔ برطانیہ والے انکل سے ہماری دوستی ہو گئی اور وہ ہم سے حال چال کرنے لگے۔ انھوں نے ہم سے انگریزی میں بات چیت شروع کی اور دھیرے دھیرے اردو اور ہندی میں منتقل ہو گئے۔ ہماری انگریزی کی تعریف کرنے لگےتو ہم نے اس کا سہرا اپنے قیامِ آسٹریلیا کے سر باندھ دیا کہ اس سے پہلے جیسے ہمیں انگریزی نہیں آتی تھی۔ انکل کی انگریزی گو کہ صاف تھی مگر لہجہ ٹھیٹ بمبئی والا تھا۔
کھانے کے دوران جو اشیاء بچ گئیں انکل ان کو سمیٹ کر اپنے بیگ میں رکھنے لگے اور ساتھ ہی ہمیں بھی تاکید کی کہ کچھ چھوڑنا مت، ہم نے اس کے پیسے بھرے ہیں اور ہوائی کمپنی والے ہم پر احسان نہیں کر رہے، ویسے بھی منزل پر پہنچ کر کھانے کو جو بھی ملے گا وہ مہنگا ہی وہ گا لہٰذا اس کو سمیٹ لو۔ اس دوران انکی میٹھے والی کٹوری نیچے گر پڑی، تو اس پر افسوس سے کہنے لگے کہ اس میں کیا تھا۔ ہم کہ جو میٹھے پر پہلے ہی ہاتھ صاف کر بیٹھے تھے بولے کہ اس میں حبشی حلوہ تھا۔ اس پر انکی آنکھیں چمک اٹھیں اور منہ سے ایک آہ نکلی، انھوں نے فوری طور پر دوسری جانب بیٹھے صاحب کی ٹرے پر نظر ڈالی اور ان سے میٹھا مانگ لیا کیونکہ وہ صاحب میٹھا نہیں کھا رہے تھے۔ انھوں نے انکل کو میٹھے کی کٹوری پکڑا دی جو انکل نے اپنے قبضہ میں لے کر بیگ میں رکھ ڈالی۔جہاز میں کیونکہ تمباکو نوشی منع ہوتی ہے تو انھوں نے اپنے ظہرانے کی ابتدا مئے رنگیں سے کی اور ہم سے معذرت چاہی کہ وہ پی رہے تھے۔ ہم  ان کے عمل میں مخل نہ ہوئے اور انھوں نے اپنا شوق فرمایا۔
دوبئی پہنچے تو ہمارے رستے جدا ہوگئے کیونکہ انھیں لندن کی پرواز لینا تھی اور ہم روم کے مسافر تھے۔ دوبئی کے ہوائی اڈے پردوسری پرواز کے لئے کتنا چلنا پڑتا ہے اس کا اندازہ سفر کرنے والوں کو بخوبی ہوگا۔ہم بھی ایک ٹرمنل سے دوسرے تک پہنچے تو کم وبیش دس منٹ لگے۔اگلی پرواز میں ابھی وقت تھا تو ہم نے ظہر ادا کی اور پھر مقررہ دروازے کے پاس پہنچ کر انتظار کرنے لگے۔ انٹرنیٹ پر وقت گزارا اور پرواز کے اعلان کے بعد نیچے پہنچ کر جہاز میں داخل ہونے کےمنتظر ہوئے۔ جہاز میں جانے کا اعلان ہوا تو ایک عجب عالم ِ بدتمیزی دیکھنے کو ملا کہ سب کے سب مسافر بنا قطار کے جہاز کی جانب جانے ولی سرنگ کے منہ پر جمع ہو گئے۔ اعلان کرنے والے بھی واضح طور پر نہ بتا پائے کہ پہلے کس کو جانا ہے، خیر ہم اکانومی والے سکون میں تھے کیونکہ ہماری باری آخر میں آنا تھی۔ جہاز اپنے مقررہ وقت سے کچھ تاخیر سےاُڑا۔
دوبئی سےاطالیہ کے دارالحکومت تک کا سفر چھے گھنٹوں سے زیادہ کا ہے۔کپتان صاحب خاصے مشّاق تھے انھوں نے ہمیں قریبا چھے گھنٹوں میں ہی روم پہنچا ڈالا۔ سفر نہایت خوشگوارگزرا، ہم نے جہاز میں میسر سہولیات سے بھرپور استفادہ کیا ۔اس بار  ہماری نشست کھڑی کے ساتھ تھی اور ہمارے پڑوس میں ایک بوڑھا جوڑا تھا جو اپنی جمع شدہ دولت کا کچھ حصہ دوبئی میں خرچ کرنے کے بعد وطن واپس جا رہا تھا۔ آنٹی کو انگریزی کی شُد بُد تھی مگر انکل انگریزی سے نا بلد معلوم ہوتے تھے۔
روم کے قریب پہنچ کر جب جہاز نے نیچی پرواز لی تو ہم نے یورپ پر پہلی نگاہ ڈالی۔ حدِ نگاہ تک پہاڑ اور سبزہ دکھائی دیا اور آہستہ آہستہ بستیاں اور شہر بھی نظر آنے لگے۔ سورج کی ڈھلتی کرنوں کی پرچھائیں میں ہم روم کے ہوائی اڈے پر اُترے۔ یہاں سے ریل کے ذریعہ بین الصوبائی ٹرمنل جانا تھا۔ یہاں پر بھی بے ترتیبی نظر آئی اور لوگ بنا قطار کے ہی ریل کے انتظار میں کھڑے ہوتے گئے، جیسی ہی ریل آئی لوگوں کا ریلہ اس میں داخل ہوا۔ ہمارے لئے یہ منظر نیا نہیں تھا لہٰذا ہم بھی ریلے میں شامل ہو کر ریل میں سوار ہو گئے۔ دوسری جانب پہنچے تو قطار بنانا مجبوری ٹھہری کیونکہ یہاں جانچ پڑتال کے عمل سے گزرنا تھا۔ خیریہاں سے فراغت کے بعد مطلوبہ ٹرمنل تک پہنچے کے لئے پھر اچھا خاصا پیدل چلنا پڑا۔ اس پرواز کو تریئستے جانا تھا۔ اطالوی زبان میں ٹے، ڈال وغیرہ نہیں ہوتے لہذا انگریزی کا ٹی یہاں تی بن جاتا ہے۔
انتظار گاہ میں پہنچ کر پہلا دھچکا یہ لگا کہ یہاں مفت کا انٹرنیٹ نہیں تھا، اس سے اچھا تو ہمارا کراچی یا عربوں کا دوبئی تھا کہ جہاں یہ سہولت مفت میں مہیا کی گئی تھی۔ہمیں یورپ والوں کی مہمان نوازی کا اندازہ یہیں سے ہو گیا۔
ہماری پرواز کا وقت ساڑھے نو بجے کا تھا ۔ اعلان ہوتے ہی ایک بس کےذریعہ ہمیں جہاز کے قریب اتارا گیا، یہاں بھی قطار بنائے بغیر ہی جہاز میں داخل کئے گئے ۔ جہاز تاخیر سے روانہ ہوا اور نیچی اور ناہموار پرواز لیتا ہوا مقررہ وقت پر تریئستے اترا۔ جہاز میں تواضع کے لئے پانی، چائے اور کافی مفت تھے۔
ہوائ اڈے پر اترے تو ساڑھے دس ہو چکے تھے۔ خدا خدا کر کے سامان ملا اور ہم بس کا ٹکٹ خودکار مشین سے خریدنے کے بعد بس اسٹاپ پر جا کھڑے ہوئے۔ یہ اس ہوائی اڈے پر اترنے والی غالبا آخری پرواز تھی اور ہم عبد سلام بین الاقوامی ادارہ برائے نظریاتی طبیعات جسے انگریزی میں آئی سی ٹی پی کہتے ہیں، جانے والی آخری بس کے منتظر تھے جسے ساڑھے گیارہ بجے آنا تھا۔ شکر ہے کہ تیس کے قریب مسافر اس بس کا انتظار فرما رہے تھے ورنہ اکیلے تو یہ بس اسٹاپ ہمیں کاٹ کھانے کو دوڑتا۔ بس اپنے مقررہ وقت پر آئی اور ہم اس میں سوار ہوئے۔ ہمارے علاوہ دو خواتین جن کا تعلق ارجنٹائن سے تھا، نے بھی آئی سی ٹی پی ہی جانا تھا جن میں سے ایک خاتون کا اس ادارے کا یہ دوسرا دورہ تھا۔ اس وجہ سے ہم اسٹاپ کے متعلق بے فکر تھے۔ جب ہم آئی سی ٹی پی پہنچے تو رات کے ساڑھے بارہ بجے کے قریب کا وقت تھا۔
جاری ہے 

14 comments:

  1. Replies
    1. بلاگ پسند کرنے کا شکریہ، بہتر ہوتا کہ آپ اپنا نام بھی تحریر کر دیتے/دیتیں

      Delete
  2. سفرنامہ آپ اچھا لکھتے ہیں
    دبئی ایئر پورٹ پر واقعی آدمی چلتے چلتے تھک جاتا ہے ۔ اگر سفر دبئی تک ہو تو باہر نکلنے کیلئے کبھی اُوپر کی منزل اور کبھی نیچے کی منزل پر جانا پڑتا ہے جس کی مجھے ابھی تک سمجھ نہیں آئی
    دعا کیجئے کہ آپ کو سردیوں میں امریکہ کی اندرونی ریاست نہ جانا پڑے جب نیو یارک میں خاصی برف باری ہوئی ہو ۔ میلوں تک آپ اپنا سامان گھسیٹیں گے کیونکہ شٹل ٹرین برفباری کی وجہ سے بند ہو جائے گی

    ReplyDelete
    Replies
    1. جزاک اللہ، آپ ہمیشہ میری حوصلہ افزائی فرماتے ہیں۔
      جی ہاں آپ نے بال کل صحیح فرمایا امریکہ کے بارے میں ایسا ہی سنا ہے۔

      Delete
  3. thank you min for giving us a round free of charge. the way you write is so picturesque that reader travels with you feels same what you feel. i enjoyed ging with you unseen unheard:)

    ReplyDelete
    Replies
    1. آپ کی سپندیدگی اور حوصلہ افزائی کا بہت بہت شکریہ

      Delete
  4. Muhammad Moiz UllahApril 18, 2012 at 6:38 PM

    Assalam o Alaikum
    So now a days,, in Italy,Enjoy Leaning tower of pisa,,,,,,Colloseum

    ReplyDelete
    Replies
    1. وعلیکم اسلام، جی ہاں آجکل اطالیہ میں ہوں۔انشااللہ ارادا ہے جانے کا

      Delete
  5. Abdus Salam: THE DREAM OF SYMMETRY
    http://www.youtube.com/watch?v=za3GYzigNsk

    ReplyDelete
  6. Asalam u alaikum sir,
    Maza aagya perh ker. Sari pic aankhon ke aage aagyi.

    ReplyDelete
  7. qalam aur tehreer mein kia rawani hy....Wah Ji....Mahir writer ki pori khobian....bohat hi interesting.

    ReplyDelete