Friday, April 20, 2012

سفرِ اطالیہ، دوسرا ٹکڑا

یہ مقام دراصل ایدریاتیکو گیسٹ ہاوس تھا جو کہ آئی سی ٹی پی کا حصہ ہے مگر مرکزی کیمپس سے ہٹ کر ہے۔ یہاں پرمعمول کی کاروائی کے بعدہمیں بتایا گیا کہ ہماراکمرہ تیسری منزل پر ہے اورہمیں پہلے سے موجود ایک صاحب کے ساتھ کمرہ بانٹنا ہو گا۔ ہم لفٹ سے تیسری منزل پر پہنچے اور صاحبِ کمرہ کو نیند سے جگایا۔یہ نائیجیریا سے تھے اور خاصے معقول آدمی تھے، آنکھیں ملتے ہوئے ہمیں خوش آمدید کہا اور ہم سے سفر کا حال دریافت کیا، ہم نے بھی خوشدلی سے انھیں جواب دیا۔ اس کے بعد ہم تازہ دم ہوئے اور سو گئے-
ہم یہاں اقوامِ متحدہ اورآئی سی ٹی پی کے اشتراک سے کی جانے والی ایک ورکشاپ میں شرکت کی غرض سے آئے تھے اور ہمارا یہاں قیام تین ہفتوں کا تھا۔ لہذا آہستہ آہستہ  اس جگہ سے واقفیت حاصل کی۔مرکزی کیمپس کے لئے روزانہ شٹل سروس دو رویہ چلتی ہے۔پیدل مرکزی کیمپس تک ۱۰ سے ۱۵ منٹ لگتے ہیں جس کے لئے آپ کو پہاڑی چڑھ کر بڑی سڑک پر جانا پڑتا ہے اور اس کے بعد دو سرنگوں کو پار کر کے آپ مرکزی عمارت یا یوں کہیں کہ عمارتوں کے سلسلے تک پہنچتے ہیں۔اس مرکزی سڑک کا نام اِسترادا کوستریئرا یعنی ساحلی سڑک ہے۔
ہوسٹل ایک قوس کی مانند شمالا جنوبا بنا ہوا ہے۔ قوس کا مرکز مغربی سمت میں ہے جہاں کُھلا سمندر ہے جسکا نا م بحیرہ ایدریاتک ہے۔ یہ بحیرہ اصل میں بحر روم کا حصہ ہے جو اطالیہ کے جزیرہ نما کے پاس جاکر اس سے مل جاتا ہے، گو کہ بیچ میں بحیرہ انائنن ہے مگر یہ بھی  فقط نام کا سمندر ہے جن کا اصل بحرروم ہے۔ایدریاتک سمندر کم اور جھیل زیادہ لگتا ہے اس میں جوار بھاٹا ہے اور نہ ہی ساحل سے سر پٹختی لہریں۔
تریئستے شہر یہاں سے بیس منٹ کی بس کی مسافت پر ہے اور اس بس کا آخری اسٹاپ ایدریاتیکوہوسٹل ہی ہے۔ یہاں سے آپ کشتی اور آبی بس کے ذریعے بھی شہر جا سکتے ہیں جو کہ آپ کو بندرگاہ پر اتارے گی اور پھر آپ کو شہر میں داخل ہونا ہوگا۔
اقوامِ متحدہ، یونیسکو کی اس ادارے پر خاص عنایت ہے جسکی وجہ سے یہاں سال کے بارہ مہینے علمی سرگرمیاں جاری رہتی ہیں۔ یہ ادارے حاضرین کو ناصرف یہ کہ علم کی دولت سےنوازتے ہیں بلکہ انکے طعام وقیام کا بندوبست بھی نہایت احسن طریقہ سے کرتے ہیں۔
ہم تین دن تک تو ورکشاپ کے پروگرام کے مطابق اچھے بچوں کی طرح محض پڑھائی کرتے رہے، مگر جمعہ کو آدھی چھٹی کی وجہ سے ہم سے رہا نہ گیا اور دوپہر کے کھانے کے فورا بعد بس نمبر ۳۶ سے شہر کی راہ لی۔ ارادہ تھا کہ شہر کے اسلامی مرکز میں نمازِ جمعہ ادا کر لیں گے اور شہر بھی دیکھ لیں گے۔ احتیاط کے طور پر گوگل سے نقشہ نکال لیا تھا اور بس سے اترنے کے بعد اسی کی مدد سے راستوں اور سڑکوں کو پہچاننے کی کوشش کی۔ پھر خیال آیا کہ راستہ پوچھ لیاجائے تو پتہ چلا کہ یہاں والوں کی انگریزی اورہماری اطالوی زبانوں کی صلاحیت ایک جیسی ہے۔ خیر پوچھنا بہتر رہا اور قریبا پندرہ منٹ کےگشت کے بعد ہم مطلوبہ پتہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔مگر وہاں سے مایوس لوٹنا پڑا کیونکہ بار بار گھنٹی بجانے پر بھی کوئی دروازہ کھولنے نہ آیا۔ انٹرنیٹ پر پتہ یہی دیا گیا تھا مگر شاید دوائے دل بیچنے والے اپنی دوکان بڑھا گئے تھے۔
اس کے بعد ہمیں اطالوی بجلی کے پلگ کی ضرورت یاد آئی کیونکہ یہاں پر تین ٹانگوںوالے پلگ ہوتے ہیں اور ہمارے پاکستانی یا آسٹریلیائی پلگ والے برقی آلات بنا کنورٹر کے یہاں کام نہیں کرنے والے تھے۔ یہ کنورٹر تلاش کرنے کے لئے ہمیں تین اسٹوروں پر جانا پڑا جو مخالف سمتوں میں تھے۔ پہلے اسٹور والے نے ہمارے لئے آسانی کر دی اور اطالوی زبان میں ہماری ضرورت لکھ کر ہمیں دے دی کہ ہم دوکاندار کو دکھا دیں اور ہمیں انگریزی اور اطالوی کے مخمسے میں نہ پڑنا پڑے۔ خیر تیسری دوکان پہ ہمیں کامیابی حاصل ہو گئی۔ اس پر وطن بہت یاد آیا کہ ایسی چھوٹی موٹی بجلی کی اشیاء ہمارے ہاں گلی محلہ کی دوکان سے بھی مل جاتی ہیں۔ اس کے بعد ہم نے ہوسٹل واپسی کی بس پکڑی ۔
اتوار کو کرنے کو کچھ نہ تھا تو ہم بیگ میں ہلکا پھلکا ناشتہ ڈال کرتریئستے کے مرکزی ریلوے اسٹیشن جا پہنچے اور وینس کا ٹکٹ خرید ڈالا۔
جاری ہے 

1 comment:

  1. ai bhai sair tu bohat acchi aur tumhara undaaze bayan bhi ghzab ka magr tay (urdu) aur tay (urdu) is qader gud mud hogai hein k tota kaha tota kaha ni bun gai aur tmater ko ub teemater kehne ko dil chanhe laga ha:) Allah kre yeh tay aur tay ki mushkil se tumhari jaan bhi jaldi chot jao werna tumhare bachay tumhari language he sahi kerte rahein g e bechare :) Amin bohat maza aya perh ker. bohat rawani ha mashaAllah.

    ReplyDelete