Friday, May 4, 2012

سفرِ اطالیہ، تیسرا ٹکڑا


ریل جانے کا وقت گیارہ بجکر چوالیس منٹ تھا۔ یہ چوالیس منٹ قابلِ ہضم معلوم نہیں ہوتے، مگر جناب ٹرین ٹھیک وقت پر ہی روانہ ہوئی۔ سفر کے دوران یورپ کا روایتی سبزہ دیکھنے کو ملا۔ پہاڑ، میدان، وادیاں سب سبزے کی چادر اوڑھے تھیں۔ ریل مختلف اسٹیشنز پر رکتی چلتی وینس کے زمینی اسٹیشن پہنچی، اسے اطالوی زبان میں وینیزیامسترے کہا جاتا ہے۔یہ ایک جنکشن اسٹیشن ہے جہاں سے اطالیہ کے طول و عرض میں جانے کے لئے ریل دستیاب ہے، یوں سمجھ لیں کہ تریئستے سے آپ اطالیہ کے کسی بھی شہر جانا چاہیں گے تو آپ کو یہاں سے ہو کر گزرنا پڑے گا۔
اگلا اور آخری اسٹیشن وینیزیاسانتا لُوسیا تھا اور یہی درحقیقت دریاوں کا شہر ہے۔ یہاں تک پہنچے کے لیے آپ کو ایک طویل پُل پر سے آناا پڑتا ہے چاہے آپ گاڑی میں ہوں یا ریل میں۔اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی ہمارے آگے دریا تھا۔ اس وقت ہلکی بارش ہو رہی تھی اور دیسی برادران چھتریاں بیچ رہے تھے۔ ہم نے بھی ایک دیسی سے بھاو تاو کرنے کے بعد چھتری خرید لی اور آبی بس کا ٹکٹ خریدنے قطار میں جا کھڑے ہوئے۔یہاں آپ دن بھر کا یا بارہ گھنٹوں کا ٹکٹ خرید سکتے ہیں جو ان گنت مرتبہ سفر کرنے کے لئے کارآمد ہے۔ہم آبی بس میں سوار ہوئے اور مخلتف مقامات پر اترتے رہے۔ کچھ چہل قدمی کرتے اور پھر بڑی کشتی میں سوار ہو جاتے۔ بارش تھی کہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی مگر ہمارا شوقِ سیاحت اس بارش کی وجہ سے بھی ٹھنڈا نہ ہوا۔
وینس کا آنکھوں دیکھا حال لفظوں میں بیان کرنا آسان نہیں ہے۔ یہ شہر پانی میں ہے اور پانی شہر میں ہے۔ مکانات کی ایک ترتیب ہے جو مرکزی آبی گزر گاہ کے دونوں جانب ہے اور چھوٹی چھوٹی گلیاں بھی پانی والی ہیں۔ گھر پرانے ہیں مگر اب ان میں جدیدیت آرہی ہے کیونکہ یہ سیاحت کا ایک بہت بڑامرکز ہیں۔ ان میں سے سامنے والے مکانات کو زیادہ تر ہوٹلوں میں بدل دیا گیا ہے اور لوگ یہاں مختلف دورانیوں کے لئے قیام کرتے ہیں۔دریا کے دونوں جانب نچلی منزلوں پر طعام کا انتظام ہے جس میں خاص حیثیت پیزا کی ہے جو یہاں کی جانی پہچانی خوراک ہے۔ اگر آپ دریاسے تھوڑا ہٹ کر اندر کی جانب جائیں تو ملتان کے پرانے محلوں جیسی گلیاں ملیں گی، جن میں گھریلو دستکاری کے خوبصورت نمونے فروخت کے لئے دستیاب ہیں۔ یہاں کی سب سے بڑی پیداواربلّور ہےجسے رنگنے کے بعد مختلف اشیاء بنائی جاتی ہیں اور پھر فروخت کیا جاتا ہے۔ گھروں میں بھی ان اشیاء کی دکانیں بنائی گئی ہیں۔
یہ تو ونیس کا ایک پہلو ہوا دوسرا رخ یہ ہے کہ یہاں موجود قریبا تمام عمارتوں پر چھوٹے بڑے مجسمے بنائے گئے ہیں۔ گرجا گھروں میں تو بطورِ خاص اہتمام کیا گیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ سلام اور حضرت مریم علیہ سلام کے مجسمے مذہبی عقیدت مندی کے ساتھ تراشیدہ موجود ہیں۔ ہم نے یہاں اچھی خاصی آوارہ گردی کی اور جان بوجھ کر انجانے راستوں پر چلتے رہے، تصاویر کھینچیں اور جب بھوک کا احساس ہوا تو کچھ کھانے کا ارادہ کیا۔ مرکزی بازار میں ہم اشیائے خورد ونوش کی قیمتیں تاڑ چکے تھے لہذا ہم نے اپنے آپ کووہاں کچھ کھانے سے روکے رکھا۔ گلیوں میں گھومتے ہوئے اسوقت ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی جب ہم نے ایک جگہ حلال لکھا پایا۔ یہ ایک اُردنی کی دکان تھی اور اطالوی بڑی رونی سے بول رہاتھا۔ ہم نے انگریزی میں لب کشائی کی تو ہم سے انگریزی میں بات کرنے لگا۔ ہم نے اس سے پیزا کا ایک بڑا ٹکڑا خریدا  جو اس نے گرم کرنے کے بعد اس پر مرچوں والی چٹنی یعنی ساس ڈال کر دی۔ ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا اور رقم کی ادائیگی کے بعد سلام کیا جسکا اس نے ٹھیٹ عربی انداز میں جوب دیا۔ ہم نے پیزا لیا اور باہر آکر گیلے موسم میں اس سے اپنے شکم کو سیر کیا۔
اس کے بعد ہم پھر سے آبی بس میں سوار ہو کر مرکزی مقام سان مارکو پہنچے۔ یہ رومی سلطنت کا پرانا مرکز رہا ہوگا۔ یہاں پر عمارتوں کی ایک طویل قطار تھی جس میں گرجا گھر، عجائب گھر، گھنٹہ گھراور بازار شامل ہیں جو کہ مغلوں کی بارہ دری یا بادشاہی مسجد کے دریچوں جیسی مشابہت اور طوالت رکھتے ہے۔
یہا ں پر لوگوں کا ایک جم غفیر تھا کہ آس پاس والوں سے بچ کے گزرنا پڑتا تھا اور کے باوجود بھی جب پیار کیا تو ڈرنا کیا کے مصداق بہت سے مناظر دیکھنے کو ملے جو احاطہ تحریر میں نہیں لائے جا سکتے۔
یہاں منظر کشی کے لئے پورا دن بھی ناکافی ہے، ہم نے جہاں تک ہو سکا تصاویر لیں اور واپسی کی کشتی میں سوار ہوئے کیونکہ تریئستے کا ریل کا سفر دو گھنٹوں کا تھا 
اور ہم رات میں سفر نہیں کرنا چاہتے تھے۔ 
جاری ہے

8 comments:

  1. ﮐﻮﺉ ﻓﻮﭨﻮ ﻭﻭﭨﻮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﻟﮕﺎﺅ ﺑﮭﺎﺉ .
    ﺳﻌﻴﺪ

    ReplyDelete
    Replies
    1. فوٹو پیشِ خدمت ہے، برادر

      Delete
    2. ﺑﮩﺖ ﺷﮑﺮﻳﮧ... ﺍﺏ ﮨﻮﺉ ﺳﻴﺮ ﺳﮯ ﺳﻴﺮﯼ.
      ﺳﻌﻴﺪ

      Delete
  2. bilkul, blog k sath 1 adad tasweer lagain , tehreer ko 4 chand lag jain gay :)

    ReplyDelete
    Replies
    1. تین عدد تصاویر لگا دی ہیں تو گویا بارہ چاند تو لگ ہی گئے

      Delete
  3. tasaveer dekh ker yaqeen agaya k jo likha ha wo aap ne dekh ker he likha:) suni sunai nahi bulke ek dum aap beeti ha. mashaAllah bohat accha ha bohat maza aya. aray sahib aaj is baat ka inkeshaf howa k saas urdi ki ho ya english ki hoti mirchoon wali ha chutpatti hahahahha

    ReplyDelete
    Replies
    1. بلاگ کی پسندیگی کا شکریہ۔
      ہاہاہاہا، ساس ساس ہوتی ہے، چاہے انگریزی ہو یا دیسی۔

      Delete