Sunday, July 15, 2012

سفرِاطالیہ، پانچواں اور آخری ٹکڑا


 راستے میں ایک جگہ اُترے، مقام اور سمت کا کچھ پتہ نہ تھا تو وہاں سے شہر کا نقشہ خریدا جس پر بسوں اور ریل گاڑیوں کے روٹس بھی درج تھے۔نقشہ خریدنے کے بعد کچھ دیر اسکا جائزہ لیا اور سمتوں کا تعین ہوتے ہی پہلا پڑاو کولوسیئم منتخب کیا۔ بس اسٹاپ پہنچے تو ایک انکل ملے انھوں نے اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ہمیں میٹرو یعنی ریل کے سفر کا مشورہ دیا اور بس کے آتے ہی ہم ان کے ساتھ اس میں سوار ہو گئے۔ایک دو اسٹاپس کے بعد ہم میٹرو کے اسٹیشن پر تھے۔جیسے ہی ہم پلیٹ فارم پر پہنچے تو کولوسیئم جانے والی ریل آگئی۔ ہم اس میں سوار ہو کر چند اسٹیشنز کے بعد منزل پر اترے۔ اسٹیشن سے باہر آتے ہی پہلی نظر کولوسیئم پر پڑی تو عقل دنگ رہ گئی۔کہ سینکڑوں برس پہلے اس شاہکار کو کیسے تعمیر کیا گیا ہوگا اور اس اسٹیڈیئم نے زمانے کے کتنے اتارچڑھاو دیکھے ہوں گے۔ یہ اسٹیشن زمین دوزتھا اور اوپر آنے پر ایک سڑک کے کنارے تھا جسکے دوسری جانب یہ شاندار تعمیرتھی۔
یوں تو دنیا میں چینیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے، مگر دیسی بھی کچھ کم گنتی نہیں رکھتے اور ان میں سردار ایک بڑی قوم ہے، ٹورنٹو ہو یا سڈنی، دوبئی ہو یا روم سردار ایک ایسی  مخلوق ہے جو ہر جگہ پائی جاتی ہے۔تو ہمارا ٹکراو بھی یہاں ایک سردار جی سے ہوا، سرداروں کو دیکھ خود بخود آپ کے منہ سے پنجابی جھڑنے لگتی ہے، لہذا ہم نے بھی اپنی پنجابی استعمال کی ۔ ہمیں اطالیہ میں سردار سے پنجابی بولنے کا الگ ہی مزہ آیا۔سردار جی سے ہمیں ٹکٹ وغیرہ کی معلومات ملی اور ساتھ ہی یہ بھی پتہ چلا کہ کولوسیئم کا ٹکٹ خریدنے پر ہم دیگر کھنڈرات بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ہم نے سردار جی کے اسٹال سے روم کے پوسٹ کارڈز کا ایک سیٹ خریدا اور ٹکٹ خریدنے کی قطار میں سڑک کی دوسری جانب جا لگے۔ قطار تھی کہ شیطان کی آنت، ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی،خیر ہم نے اپنی باری آنے پر ٹکٹ خریدا اور کولوسیئم میں داخل ہوئے، گو کہ ہم پہلے سے ہی اس کے اندر تھے مگر اب کی بار ہم سیڑھیوں سے اوپر کی منزل پر پہنچے۔
پہلے تو ہمیں اس پرشکوہ عمارت سے متعلق تصویری معلومات دیکھنے اور پڑھنے کو ملیں اس کے بعد ہم جیسے ہی چکر کاٹ کرعمارت کی اندرونی جانب آئے تو ہماری آنکھیں حیرت کے مارے پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ ہم نے اسٹیڈیئم تو دیکھے ہیں اور آج کے جدید دور کے کرکٹ اسٹیڈیئمز ٹی وی کے علاوہ بھی دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے مگر یہ اسٹیڈیئم بہت عظیم الشان تھا۔
اسے رومی سلطنت کی سب سے بڑی تعمیر کہا جاتا ہےاور اس کی تعمیرمیں آٹھ برس کا عرصہ لگا۔ تعمیر کا دور پہلی صدی عیسوی ہے۔اس کی گنجائش پچاس ہزار بتائی جاتی ہے اور اسکی چار منزلیں دیکھی جا سکتی ہیں۔باہر سے دیکھنے پر اس میں جھروکے نظر آتے ہیں۔
یہاں  پر ہمیں دنیا کے کم و بیش ہر ملک کے سیاح دکھائی دیئے، چند جوڑوں کی صورت تو چند گروہ میں اور ہمارے جیسے تنہا سیاحوں کی بھی کوئی کمی نہ تھی۔ چینیوں کو اللہ جیتا رکھے یہ ہر جگہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ انکو اور اطالیوں کو دیکھ کر اللہ کے انصاف پر ایمان مزید پختہ ہوتا ہے کیونکہ ان دونوں اقوام کی ناکوں کاوسطانیہ نکالا جائے تو یہ ہماری ناک بنتی ہے۔
کولوسیئم جسے مقامی زبان میں کولوسیو کہا جاتا ہے، اپنے اندر تاریخ ، تعمیراتی حسن اور ہیبت سموئے ہوئے ہے۔ اس کے مرکز میں ایک بھول بھلیاں ہیں جہاں جنگجو یا بُل فائٹر سانڈ سے لڑا کرتے تھے اور مدِمقابل میں سے ایک کی موت پر مقابلہ کا اختتام ہوتا تھا۔ مرکز کے گرداگرد گولائی میں نشستیں ہیں جو کہ سب کی سب بڑےبڑے پتھروں سے تعمیر کی گئی ہیں۔کسی زمانے میں یہ پورا ڈھکا ہوا ہوتا تھا کہ جیسے میلبورن کرکٹ اسٹیڈیئم کی چھت جو بارش کے دنوں میں اسے ڈھک دیتی ہے، مگر تضاد زمانہ کی وجہ سے یہ چھت ڈھے گئی۔
کیا کیا مکاں شاہ نشیں تھے وزیر کے
جب آئی موج حادثہ تنکےسے بہہ گئے
یہاں عام داخلہ ٹکٹ پر آپ صرف دیوانِ عام کا مشاہدہ کر سکتے ہیں،بھول بھلیوں کا قریبی مشاہدہ کرنے کے لئے آپ کو اضافی یورو خرچ کرنا پڑتے ہیں، ہم نے اطالیوں کے اس کھلے تضاد پر تمام یورپیوں کے گناہوں میں دل ہی دل میں کمی کی اور وہاں سے نکل پڑے۔
اس عجوبہ کے اردر گرد کھنڈر ہی کھنڈر ہیں جو کہ نصرانی سلطنت کی باقیات پر مشتمل ہیں، انکی سیر آپ کولوسیئم کے ٹکٹ میں ہی کر سکتے ہیں، لہذا ہم نے اپنے جوگر اور پیروں کو آزمانا شروع کیا، کھنڈرات تھے کہ ختم ہونے کا نا م ہی نہ لیتے تھے۔ کہیں باغ تو کہیں راہداریاں، کہیں بڑے بڑے داخلی مقام تو کہیں تنگ و تاریک کوٹھریاں، غرض ہمارے چہار سو تاریخ بکھری پڑی تھی۔ سب سے زیادہ حیرت ہمیں ستون دیکھ کر ہوئی جو نہایت بلند تھے، بہت سی عمارتوں کی باقیات محض ستونوں پر ہی مشتمل تھی کیونکہ اصل عمارت تو کب کی زمیں بوس ہو چکی تھی مگر ستون اکیلے کھڑے ان کا پتہ دیتے تھے۔
اس تھکا دینے والے کھنڈراتی مشاہدے کے بعد ہمارے معدے نے ہم سے احتجاج کیا کیونکہ ہم نے صبح کافی اور چند بسکٹ وغیرہ ہی معدے میں اتارے تھے جنھیں وہ کب کا ٹھکانے لگا چکا تھا لہذا ہم نے صدائے معدہ پر لبیک کہا اور کھنڈرات سے نکل کر سڑک کے کنارے  ٹرکوں میں بنے کیبن یعنی کھوکے سے پیزا مارگریٹا کے دام معلوم کئے، وہاں ہمارے بنگالی بھائی دوکانداری کر رہے تھے تو انھوں نے اس کے دام پانچ یورو بتائے، اب ہم بھی اپنے بنگالی بھائیوں کی فطرت سے  واقف ہیں کیونکہ ان سے ہمارے آباواجداد کا پرانا ساتھ رہا ہےلہذا ہم نے ان سے اس دام پر تین پانچ کی انھوں نے نہ تین اور نہ پانچ بلکہ چار یورو میں ہمیں پیزا دان کر دیا۔ پیزا سینڈوچ کے انداز کا تھا اور خاصا معقول تھا، ہماری زبان اور معدہ دونوں کو رضا مند کر گیا۔
جیسے ہیں ہمارے جسم میں کولوریز کی مقدار میں اضافہ ہوا ہمارا دماغ کچھ سوچنے کے قابل ہوا ، ہم نے اگلا پڑاو ویٹیکین سٹی کو بنایا، کیونکہ روم آکر ویٹیکین نہ جانا ایسا ہی ہے کہ آپ حرم جائیں اور طوافِ کعبہ نہ کریں، ہمیں طوافِ کعبہ کی سعادت تو ابھی تک حاصل نہیں ہوئی ہے تو ہم نے عیسائیوں کے کعبہ کی زیارت کا ارادہ کیا۔نقشہ کے مطابق بس میں سوار ہو کر ہم ویٹیکین کی جانب روانہ ہوئے، وہاں ایک دریا بہتا ہے جس کے کنارے نہایت مضبوط اور اونچے پشتے تعمیر کئے گئے ہیں جن پر دونوں جانب سڑکیں بچھائی گئی ہیں۔ ان سڑکوں کے فٹ پاتھ پر ویٹیکین کےراستے کی جانب بازار سجایا جاتا ہے، جہاں اطالیہ کی ریوایتی اشیاء فروخت کی جاتی ہیں۔یہاں بناگالیوں نے چادریں بچھا کر چھوٹی موٹی چیزیں اور کھلونے وغیرہ کی فروخت کا دھندہ اپنایا ہوا ہے، جب پولیس والوں کی گاڑی چکر لگاتی ہے تو یہ لوگ سامان چادر میں سمیٹ کر وہاں سے رفو چکر ہو جاتے ہیں۔ مگر پولیس عموما انھیں کچھ نہیں کہتی کیونکہ جیل میں ڈالنے پر انھیں سرکاری کھانا دینا پڑے گا جبکہ اسطرح وہ اپنی روٹی روضی بنا کسی پر بوجھ بنے کما رہے ہیں۔
دریا بلکہ اسے ندی کہنا زیادہ بہتر ہو گا، کے کنارے بھی عمارتیں ہیں جو خاصی تاریخی ہیں اور ان میں داخلے کے واسطے ٹکٹ خریدنا پڑتا ہے ہم نے کسی بھی عمارت میں داخلے سے گریز کیا اور باہر باہر سے ہی ان کی تصویریں کھینچ لیں۔ ایک سڑک پار کرتے ہی ہم ویٹیکین کی سرزمین پر تھے جو اپنی سیاسی اور مذہبی حیثیت کے ساتھ ایک الگ ملک کا درجہ رکھتی ہے۔ ہماری نگاہوں کے سامنے عیسائیوں کا مذہبی ھیڈکوارٹر تھا اور دونوں اطراف میں سیاحوں اور مذہب پسندوں کے لئے بازار تھا کہ جہاں بڑے پادری صاحب کی مورتیاں فروخت ہوتی تھیں۔ آرٹ اور مذہب کے نام پر لوگوں کو یہاں بھی بلیک میل کیا جاتا ہے۔ہم تو بت پرست ہندووں کو سمجھتے ہیں مگر سب نے ہی اپنے اپنے پیشروں کے بت بنا رکھے ہیں اور ہر کوئی ان بتوں کو پوج رہا ہے، جن کے پاس ظاہری بت نہیں ہیں وہ خود پسندی کا شکار ہو کر اپنی ہی ذات کے بت کو پوجتے نظر آتے ہیں۔
ویٹیکین کے مرکزی گرجا گھر کے قریب پہنچے تو معلوم ہوا کہ ایک طویل قطار میں سیاح محض گرجا کے درشن کرنے کی خاطر موجود تھے، وہاں ہمیں ایک دیسی گائیڈ نے سیر کروانے کے بہانے گھیرنے کی کوشش کی، کریدنے ہر پتہ چلا کہ موصوف لاہور سے ہیں، ہم نے ان سے دوستی کرلی اور گرجا پر چار حرف بھیجے۔ ان کے بقول بشپ یہاں ہر بدھوار آتا ہے اور خطبہ دیتا ہے، اس پر ہمیں ہمارے محترم رئیس صاحب کہ جو ہمدرد میں اسلامیات اور اردو کے سینیئر استاد ہیں کا سنایا ہوا ایک شعر یاد آ گیا جو کہ ایک پجاری اور اسکی بیٹی کے مقالمہ پر مشتمل ہے، اس میں بیٹی کہتی ہے،
پتا جی کچھ بسنت کی بھی شُدھ ہے
بڑا منہوس دن ہے آج بدھ ہے
ہم نے ان لاہوری بھائی سے سمندر کا راستہ پوچھا، کیونکہ ہم روم کی گرمی اچھی طرح کھا چکے تھے اور اب سمندری ہوا کا مزہ لینا چاہتے تھےگو کہ سڈنی کا بونڈائی بیچ دیکھ چکنے کے بعد دنیا کے کسی اور ساحل کو دیکھنے کی تمنا کسی دل میں کم ہی جاگتی ہے، مگر ہم 'صرف' سمندر دیکھنے کے خواہشمند تھے۔ ویٹیکین سے زمین دوز ریل کا اسٹیشن خاصا دور ہےمگرسڑک کے دونوں جانب بازار سے گزرتے ہوئے اور ونڈو شاپنگ کرتے ہوئے یہ راستہ باآسانی کٹ گیا اور ہم نے اسٹیشن سے ٹیوب لی، وہاں سے روما ترمینی اترے اور ایک اور ریل لی، جس نے ہمیں سمندر کو جانے والی پٹڑی تک پہنچایا جہاں سے تیسرے ریل لینا پڑی۔ یہ ریل مسافروں سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی یوں لگتا تھا کہ سب روم کی گرمی سے تنگ آکر ساحل کی جانب گامزن ہیں۔ ہمیں اس ریل میں پچاس منٹ کھڑا رہنا پڑا، مگر یہ پچاس منٹ تفریح سے بھرپور تھے۔ جو مسافر جوڑوں پر مشتمل تھے ان میں سے زیادہ ترکا درمیانی فاصلہ اکثر صفر سے کم رہتا  جبکہ کم سے کم درمیانی فاصلہ صفر رہتا۔ان کو دیکھنے سے زیادہ ہم نے ایک دیسی آنٹی کو دیکھا جو شاید اپنی پوری فیملی بشمول بچوں کے، پہلی بار روم آئی تھیں ۔ یہ آنٹی ماتھے پر بندیا لگائے، سر میں سندور کے ساتھ اپنی ساڑھی کے پلو کو سنبھالتیں اور ٹُکر ٹُکر ان جوڑوں کو دیکھتیں کہ اگر یہ بھارت میں ہوتے تو ان آنٹی سے ضرور پِٹ چکے ہوتے، مگر یہ اطالیہ تھا جس کی ریل میں انکا بس نہ چلتا تھا۔
سمندر کے ساتھ ساتھ تین اسٹیشنز تعمیر کئے گئے ہیں ہم ان میں سے ایک پر اترے اور اسٹیشن سےباہر آکر اندازہ لگایا کہ سمندر کس سمت میں ہو سکتا ہے۔ وہاں اسٹیشن پر ہی بازار موجود تھا جس میں بنگالی دکھائی دیئے ان سے راستہ پوچھا اور ساحل کی طرف روانہ ہوئے، ساحل پر موجود ایک میکڈونلڈر سے چپس اور کوک لی اور کچھ دیر سستانے کے بعد ساحل پر آئے، یہاں بھی بنگالی ہی ہر جگہ پائے جو تازہ پھولوں کے گلدستوں سے لے کر برقی آلات تک سب فروخت کر رہے تھے۔ایک اطالوی اپنا الیکٹرانک گٹار لئے بیٹھا اطالوی موسیقی بجا رہا تھا، اس نے ایک گیت کی دھن بجائی تو لوگ اس کے گرد بڑی تعداد میں جمع ہو گئے اور اس کے فن کی داد دینے لگے، چند ایک نے کچھ سکے بھی اسکی پیٹی میں ڈالے یوں وہ اپنی گزر بسر کا سامان کر رہا تھا۔ لوگوں کی ایک بڑی تعداد پانی میں اٹھکھیلیاں بھی کر رہی تھی اور ہم جیسے محض مشاہدہ تک ہی محدود تھے۔ کھلےسمندر میں بادبانی کشتیاں اوربحری جہاز بھی دکھائی دے جاتے تھے۔
کچھ وقت یہاں گزانے کے بعد ہم نے اسٹیشن کی راہ لی اور وہاں کی ایک سپر مارکیٹ سے کچھ خریداری کی۔ واپس روما ترمینی پہنچے تو عصر کا وقت تھا۔مسجد کی تلاش میں روما ترمینی کے گرد گھومتے ہوئے اندازہ ہوا کہ دیسیوں نے اس علاقہ پر اپنی اجارہ داری قائم کی ہوئی ہے۔ یہاں پاکستانی، بنگالی، سردار، ہندو اور پٹھان سبھی مقیم ہیں اور کاروبار کرتے ہیں۔یہ مارکیٹ اس قدر دیسی ہے کہ ہم نے یہاں دیسی سی ڈیز کی ایک دوکان دیکھی جس پر بھارتی فلموں کے پوسٹر بھی چسپاں تھے۔
 قانونی طور پریہاں مسجد بنانے کی اجازت نہیں ہے مگر دینی مراکز بنائے جا سکتے ہیں۔ بنگالی بھائیوں نے یہاں ایک مصّلہ بنا رکھا ہے جو کہ ایک دفتر کی عمارت کےمیزنائین فلور پر ہے۔ یہاں پر ظہر اور عصر دونوں ادا کیں، جس میں عصر با جماعت تھی جو ہمارے قیامِ اطالیہ کی پہلی اور آخری باجماعت نماز تھی۔
تریئستے سے نکلے سے پہلے ہم نے گوگل پر اس علاقہ میں ایک کے ایف سی جیسے حلال ریسٹورنٹ کا پتہ ڈھونڈا تھا لہذا اسکی تلا ش بعد از نماز شروع کی اور ایک پاکستانی دوکاندار سے اس کی بابت دریافت کیا۔ اس دوکان کا نام، پاکستانی اسٹور تھادوکاندار نے ہمیں اس ریسٹورنٹ کا پتہ سمجھایا اور کہا کہ ہم روسٹورنٹ پر ان کا ذکر کریں تو وہ ہمارے ساتھ رعایت بھی کر دیں گے۔ ہم رسٹورنٹ پہنے اور پاکستانی انداز میں سلام کیا، اسٹاف اور مالک ہمیں پنجابی لگے انھوں نے ہمیں گرم جوشی سے جواب دیا ۔ ہماری جیب میں ساڑھے چار یورو کے سکے موجود تھے انھوں نے ہمیں اسکی دوگنی قیمت کی ڈیل پیش کی جس میں چکن برگر، مرغ کا ایک روسٹ پیس ، چپس اور کولڈ ڈرنک سب شامل تھے۔ ہم نے سیر ہو کر مرغ اڑایا، یہ ہمارے قیامِ اطالیہ کا پہلا اور آخری حلال کھانا تھا، ورنہ ہم لحمیات میں مچھلی اور سالوں سے استفادہ کر سکے تھے۔
اسکے بعد ہمیں ریل کی آمد تک اسٹیشن پر رکنا پڑا گو کہ ریل رات گیارہ بجے روانہ ہوئی، مگر ہم دن بھر میں اتنا تھک چکے تھے کہ اسٹیشن پر گھوم پھر کے یہ وقت گزار دیا۔ ریل کا سفر رات بھر کا تھا اور صبح ہم تریئستے کے مرکزی اسٹیشن پر اتر رہے تھے۔
روم سے واپسی کے بعد ہم نے تین راتیں تریئستے میں گزاریں اورہماری چوتھی رات اماراتی طیارے میں وطن واپسی کی پرواز میں گزری۔
ختم شُد

1 comment:

  1. beautiful write up Ameen. I thoroughly enjoyed.

    ReplyDelete