Sunday, July 22, 2012

چندا رے چندا


اس بلاگ کے آغاز میں ہی ہم ایک بات واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہم نہ تو کوئی مفتی ہیں اور نہ ہی سائنسدان بلکہ ایک عام سے آدمی ہیں، کام کے ہیں یا نہیں اسکا فیصلہ تو غالب کر گئے کہ عشق کام کے آدمی کو بھی نکما کردیتا ہے۔ہمیں بھی ایک وقت میں کئی عشق لاحق رہتے ہیں، مثلا اس بلاگ لکھنے کے شوق کو ہی لے لیں یہ بھی کبھی عشق کا روپ دھار کر سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور ہم، لیپ ٹاپ پر اپنی انگلیاں چلانا شروع کر دیتے ہیں۔
خیر ہم موضوع سے کہیں دور چلے گئے، ہاں تو بات کرنا ہے ہمیں چاند کی، زمین کا ذیلی سیارہ جو کہ اس سے نسبت رکھنے کی بدولت چندا ماما بھی کہا جاتا ہے فلکیاتی اعتبار سے خاصی اہمیت کا حامل ہے۔ زمین کا وجود جہاں سورج کا محتاج ہے وہیں چاند کے بغیر بھی زمین پر توازنِ ہستی ممکن نہیں۔ پرانے وقتوں میں لوگ اسکی پوجا کرتے تھےاور آج بھی ہر ماں کو اپنے بیٹے کے لئے چاند سی بہو درکار ہے چاہے بیٹاتوے کے پچھلے حصے جیسا ہی کیوں نہ ہو۔
مسلمانوں کیلئے چاند قمری تقویم کی وجہ سے کافی اہمیت رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں پاکستان میں ہر کسی کا اپنا اپنا چاند ہوتا ہے بالخصوص رمضان اور شوال میں، اس چیز سے بچنے کیلئے حکومت پاکستان نے چاند کو دیکھنے کی ذمہ داری رویت ہلال کمیٹی کے سپرد کی ہے۔ اس کمیٹی میں ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے علما ء حضرات شامل ہیں۔ ان کی تیکنیکی معاونت محکمہ موسمیات اور پاکستان کا خلائی تحقیقاتی ادارہ کرتے ہیں، اس کمیٹی کا اجلاس ہر ماہ چاند کی ۲۹ تاریخ کو ہوتا ہے۔ آجکل یہ اجلاس محکمہ موسمیات کراچی کی عمارت میں ہوتا ہے، ماضی میں اسطرح کے اجلاس شہر کی بلند و بالا عمارتوں پر بھی منعقد ہوتے رہے ہیں۔ اس کمیٹی کے زونل اجلاس صوبائی دارالحکومت میں ہوا کرتے ہیں، مگر اکثر کراچی کومرکزی اجلاسوں کے منعقد کرنے کا شرف حاصل رہا ہے۔
چاند کی موجودگی ، اسکی عمر، زمین سے اونچائی، آسمان میں اسکا مقام وغیرہ یہ وہ تمام طبعی مقداریں ہیں جو علم فلکیات ہمیں کسی بھی جگہ کے لحاظ سے بتا دیتا ہے، مگر شرعی اعتبار سے چاند کی رویت ضروری ہے، اور اس شرعی ضرورت کی سے اسکی رویت کا حتمی فیصلہ رویتِ ہلال کمیٹی ہی کرتی ہے۔ یاد رہے کہ چاند کا موجود ہونا اور دکھائی دینا دو الگ باتیں ہیں اور قمری ماہ کے آغاز کیلئے چاند کا نظر آنا ضروری ہے۔
بعض اوقات فلکیات کی رو سے چاند کی موجودگی میں کسی شک کی گنجائش نہیں ہوتی مگر موسمی حالات یا شہروں کی فضا میں آلودگی وغیرہ چاند کے دیکھنے میں مانع ہوتی ہے، تبھی چاند دیکھے جانے کی شہادت کا انتظار کیا جاتا ہے یا، اونچائی سے مشاہدہ کیا جاتا ہے تا کہ آلودگی کی تہہ سے بالا آسمان واضح طور پر نظر آ سکے۔ یہ عمل سال کے بارہ مہینے اختیار کیا جاتا ہے، مگر ہمیں چاند کی ضرورت صرف رمضان اور عید پر ہی پڑتی ہے تو اس لئے ہمارے لئے ان ماہ کے چاند کی اہمیت ہوتی ہے۔
ایک بحث یہ بھی کی جاتی ہے کہ ہم خود سے چاند دیکھ کر قمری ماہ کا آغاز کیوں نہیں کر لیتے؟ تو جواب یہ ہے کہ ہاں ہمارے ہاں ایسا چند مقامات یا ایک آدھ صوبہ میں ہوتا ہے، مگر جب ایک حکومتی ادارہ موجود ہے اور اسکی ذمہ داری ہے کہ وہ اس بات کا فیصلہ کرے تو اس کمیٹی کو اسکا کام کرنے دینا چاہیئے۔ فلکیات کی رو سے چاند کی تقویم موجود ہوتی ہے، مگر یہ تقویم یا کیلنڈر رویت کی شرعی شرط پوری نہیں کرتا۔ سعودی عرب میں ام القریٰ سے ریاضی اور فلکیات کی مدد سے ایسا کرلیا گیا ہے جو کہ انکا اپنا طریقہ ہے۔ ہماری ناقص  معلومات ہمیں چاند کو دیکھ کر ہی قمری ماہ کے آغاز کا درس دیتی ہے ورنہ  بقول غالب
ع کیوں نہ فردوس میں دوزخ کو ملا لیں، یا رب 

2 comments:

  1. Ayaz sahab on a non serious note the color of the moon in reality is also similar to taway ka pichla hissa. Bahu bhi chand jaisi aaye gi.

    ReplyDelete