Saturday, April 13, 2013

نیاگرا کے دیس میں، پہلا ٹکڑا


یہ سن ۲۰۰۸ کے اوائل کا ذکر ہے کہ ہم نے اپنا پہلا بین الاقوامی سفر نیاگرا کے دیس یعنی کینیڈا کی جانب کیا۔ کڑاکے کی سردی میں برفیلی جھیلوں کی سرزمین کی سیر کا ہمیں کوئی خاص شوق تو نہیں تھا مگر سرکاری نوکری کی وجہ سے ہمیں اپنے ایک دفتری ساتھی جنھیں ہم ندیم کے نام سے یاد کریں گے، کے ہمراہ رختِ سفر باندھنا پڑا۔ سو جناح کا بین الاقوامی ہوائی اڈا تھا اور ہم تھے دوستو۔ علی الصبح  ہوائی اڈے میں داخل ہو کر قومی ہوائی کمپنی کا سفری داخلی نامہ حاصل کیا اور انتظار گا ہ  میں منتظرپرواز ہو گئے۔
 یہ لگا تار ساڑھے پندرہ گھنٹوں کی اڑان تھی جو شیطان کی آنت محسوس ہوئی اورختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔ دورانِ پرواز ہم نے تمام جتن کر ڈالے، پہلے ٹی وی، ویڈیوز، کمپیئوٹر گیمز وغیرہ سے شغل کیا، پھر ندیم سے گپ شپ کی، کھانے کے وقفوں میں آب و دانہ سے سیر ہوئے،کچھ سو بھی لئے، حتٰی کہ جہاز میں تانک جھانک اور چہل قدمی بھی کر ڈالی مگر یہ سفر انگریزی کا سفر ہونے لگا۔ خدا خدا کر کے پاکستانی وقت کے مطابق رات سوا بارہ بجے ہمارے جہاز نے ٹورنٹوکے ہوائی اڈے کےرن وے پر حالتِ سکون اختیار کی اور ہم جہاز سے باہر آئے۔مقامی وقت تھا دوپہر کے سوا دو، یوں ہم جیٹ لیگ کا شکار ہو چکے تھے کہ وطن میں تاریخ بدل چکی تھی اور ٹورنٹو میں ابھی وہی گذشتہ تاریخ تھی کہ جس دن کی صبح کو ہم جہاز میں سوار ہوئے تھے۔
برقی زینوں اور طویل راہداریوں کے بعد ویزہ کی جانچ پڑتال اور داخلہ کا مرحلہ تھا، ندیم قطار میں ہم سے آگے ہو لئے اور امیگریشن افسر کا سامنا بھی ہم سے پہلے کیا۔ اس افسر نے ندیم سے ضابطہ کی پوچھ گچھ کی کہ کیا کرنے آئے ہو کینیڈا ؟اور کے دن کا قیام ہوگا؟کہاں رُکو گے؟ وغیرہ وغیرہ۔ بیچارے ندیم کی انگریزی زبان میں کم و بیش ایسی ہی مہارت ہے جیسی  بی بی مرحومہ کی اردو دانی تھی۔لہٰذا یس، نو سے کام چلایا اور پلٹ کر میری جانب دیکھا کہ بچو اب تمہاری باری ہے۔  ہماری قسمت اچھی تھی کہ افسر نے فقط اتنا پوچھا کہ تم اس شخص کے ساتھ ہو اور ہم نے فوری طور پر جی حضور کی صدا لگا دی، یوں ہمیں اپنی انگریزی کو استعمال کرنے کی خاطر خواہ نوبت ہی پیش نہ آئی۔ ہم وطن سے یہ ٹھان کر نکلے تھے کہ گوروں کے دیس میں انکی انگریزی سے مرعوب نہ ہونگے بھلے ہی یہ ہمارا پہلا بیرونِ ملک کا دورہ تھا۔
سامان کے حصول میں خاصی دیر لگی قریباپینتالیس منٹ کے بعد ہم وہاں سے فارغ ہوئے اور ٹیکسی کی تلاش میں ایک عدد سردار جی سے آ ٹکرائے، ان سے پنجابی میں بات کی کیونکہ سردار کو دیکھتے ہی ہم  پنجابی میں سوچنے لگتے ہیں۔ انھوں نے ہماری وطنیّت پوچھی اور ہمیں ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور کو سونپ دیا۔ یہ ٹیکسی ڈرائیور جنکا نام انیس اور سکنہ گوجرانوالہ تھا کافی دلچسپ شخصیت کے مالک نکلے۔ پیشہ کے اعتبار سے ماہرِنفسیات  تھے اور زیادہ تر تارکینِ وطن کے کیسسز  لیا کرتے تھے اور وہ بھی ایسے جن میں مدعی نے اپنا پاسپورٹ کھو دیا ہو یا جانے انجانے میں پھاڑ دیا ہو۔ اس کے علاہ شاید وطن میں اپنی زمینوں کو بھی یاد کرتے تھے اور ہفتہ وار تعطیلات پرلیموزین ٹیکسی بھی چلاتے تھے۔ ہمارے ہوٹل تک کے پینتالیس منٹ کے سفر میں انھوں نے ہمیں مسلسل اپنی گفتگو سے لطف اندوزکئے رکھا۔
ہماری منزلِ مقصودمارکھم کے علاقہ کی ایک سڑک ووڈبائن ایونیوپر واقع ہوٹل مونٹی کارلواِن تھی۔ٹیکسی والے دیسی کو امریکی ڈالرمیں کرایہ ادا کیا تو انھوں نے اپنا کارڈ ہمیں دیا کہ ایک فون پر وہ ہمیں نیاگرا کی سیر کرانے آحاضر ہوں گے۔ہوٹل کے استقبالیہ پر پہنچےاور اپنے کمرے کا زرِ ضمانت اور سات ایّام کا پیشگی کرایہ ادا کیا۔ یہاں یہ بتاتے چلیں کہ اُن دِنوں امریکی ڈالر ساٹھ روپے کے لگ بھگ تھا اور کینیڈا کا ڈالر چند پیسے سستا تھامگر کینیڈا میں یہ ترتیب اُلٹ نکلی اور ہمیں سو امریکی ڈالر پر نناوے کینیڈین ملے۔یوں ہم اپنے بٹوے میں سے تقریبا پچپن فیصد ڈالروں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔اس مالی صدمہ کے بعد جب تیسری منزل کے اپنے کمرے میں پہنچے تو کمرے کا سازوسامان دیکھ کر اس صدمے میں کافی کمی واقع ہوئی کیونکہ وہاں موجود سہولیات کم وبیش چار ستاروں والے ہوٹل جیسی تھیں۔ہم دو افراد کیلئے الگ الگ پلنگ، کرسیاں میزیں وغیرہ اور کافی بنانے کا ضروری سامان قریبا سبھی کچھ میسر تھا۔ہم نے سب سے پہلے لاہوری انداز کا اشنان فرمایا اور آوارہ گردی کرنے نکل کھڑے ہوئے تاکہ دودھ اور ڈبل روٹی کا بندوبست کر سکیں۔ ہم اپنے قیام کے دوران ہوٹل کے کھانے سے دور رہنا چاہتے تھے، ویسے تو ہمارے پاس ٹین کے ڈبوں میں گھر کے بنے پکوان تھے جو کہ زیادہ تر ندیم اپنے ساتھ لائے تھے مگر ہم نے پھر بھی احتیاط کے طور پر دودھ وغیرہ خریدنا چاہا۔ راستے میں ایک آنٹی سے اسٹور کا پتہ پوچھا تو معلوم ہوا کہ یہ علاقہ ایسی نعمتوں سے محروم ہے، البتہ گیس اسٹیشن پراسٹور ہوتا ہے۔ ہم ان کے بتائے ہوئے پتہ پر ناک کی سیدھ میں چلتے ہوئے پہنچ گئے، وہاں بھی ایک دیسی ٹکرایا۔ ہم اب تک چاند پر نہ جا سکے پر ہمیں یقین ہے کہ وہاں بھی کوئی نہ کوئی دیسی ہم سے پہلے موجود ہو گا۔
ڈبل روٹی اور دودھ خرید کر واپس ہوٹل آئےاور ہوٹل کے بغلی دروازے سے زینے کے راستے اپنے کمرے میں پہنچے، سردی اچھی خاصی تھی اور باہر چہار سو برف ہی برف تھی کہ جسکا نظارہ ہم جہاز کے ٹورنٹو ہوائی اڈے پر اترے ہوئے کر چکے تھے۔لہٰذا سردی تھی کہ بقول یوسفی لگے ہی چلی جا رہی تھی۔ ہم نے لاہوری چھولوں کا سالن مائکروویو میں تتا کر کے کھایا، اسکے بعد انٹرنیٹ پر کچھ وقت گزارا اور رات جلدی سو پڑے کیونکہ وقت کی تبدیلی کی وجہ سے یہ نیند ہم نے چوبیس گھنٹوں بعد لی تھی۔
جاری ہے


3 comments:

  1. بہت عمدہ جناب۔۔۔
    نیاگرا کے دیس کے بارے میں خوب لکھا۔۔۔ اگلی تحریر ویاگرا کے دیس کے بارے میں لکھیے گا۔

    ReplyDelete