Sunday, April 21, 2013

نیاگرا کے دیس میں، تیسرا ٹکڑا


اگلی صبح پھر وہی ہوا کہ تڑکے ہی آنکھ کھل گئی۔ فجر کی نمازادا کی، برف باری شروع ہو گئی تھی- یہاں پر برف صاف کرنے کا ایک مکمل نظام موجود تھا جس پر ہر سال پچاس لاکھ ڈالر کی لاگت آتی تھی اور زیادہ تر دیسی موسمِ سرما میں یہ کام انجام دیتے تھے- ہاتھ گاڑی سے لے کر برف کھرچنے کے بڑے بڑے بلڈوزر اس کام کے لئے استعمال کئے جاتے تھے۔ ہر خاص وعام اپنی گاڑیوں میں کُھرپیاں رکھتے تھےاور کام سے فارغ ہو کر کھلی پارکنگ میں کھڑی اپنی  گاڑیوں کے شیشوں سے برف ہٹاتے اور پھر سفر کا آغاز کرتے تھے۔
ناشتہ کے بعد ایلکس کے ساتھ اسکے دفتر پہنچےاور تربیتی عمل کا آغاز کیا، کافی کے وقفہ کے دوران ایلکس ہمیں کینیڈا سے متعلق معلومات سے نوازتا رہا کہ اگر ہم ترکِ وطن کا ارادا کریں، جو کہ تاحال نہیں ہوا، تو یہ باتیں ہمارے کام آسکیں۔ ہم نے عمارت کے پچھواڑے باہرجاکر مقناطیسی آلہ پر مشق کی اور اس سے پیمائش کی۔ ہر سُو برف ہی برف تھی، پاس ہی ایک جھیل بھی بہتی تھی جو قریبا جم چکی تھی۔ ایسے میں چچا مستنصر حسین تارڑ ہوتے تو اس برفیلی جھیل میں کسی حسینہ کا عکس تلاش کرتے، محترم مشتاق احمد یوسفی، مرزاعبدالودودبیگ کا تذکرہ کرتے اور برف کے گولے گنڈوں کی بات کرتے، چچا غالب درودیوار پر برف کے 'اُگنے' کی بات کرتے، مگرہم ایلکس کی اُستادی میں سائنسی پیمائش اور ناپ تول میں مصروف رہے۔
 کھانا ایک مدراسی ریسٹورانٹ میں کھایا جس کا پتہ گذشتہ روز شیلا نے بتلایا تھا، اسکا نام سراوانہ بھَوَن تھا۔ یہ دیسی کھانا ناریل کے تیل میں بنا تھا ہم کراچی والوں کو کچھ خاص پسند تو نہ آیا مگر جیک آسٹر والے تجربہ سے بہت بہتر تھا ، پس منظر میں بالی ووڈ کی جانی پہچانی موسیقی بھی چل رہی تھی، کھانے کے بعد پان سے بھی شوق فرمایا۔ ایلکس کے لئے یہ کھانا بالکل نیا تھا۔
کھانے کے بعد پھر سکھلائی کا دور رہا شام کو فارغ ہو کر نکلے تو باہر شیلا دی دی اپنی گاڑی سے برف کھرچ رہیں تھیں ہم نے انکا دل رکھنے کے لئے انکا شکریہ ادا کیا کہ آج ہم نے دیسی کھانا ان کے بتائے ہوئے ریسٹورانٹ سے کھایا تھا۔ساتھ ہی یہ بھی کہہ ڈالا کہ ان کھانوں میں ہمیں پاکستانی کھانوں جیسی لذت ملی۔ وہ یہ بات سن کر بہت خوش ہوئیں-
شام کو ہم اپنی ہمدرد کے زمانے کی رفیقہ، مسز شبنم معراج سے ملنے انکے گھر گئےجوگذشتہ وہ دو برسوں سے اپنے دو چھوٹے بچوں اور بیہاری شوہر کے ساتھ ٹورنٹو میں مقیم تھیں، معراج بھائی بہت ہی نفیس اور انسان دوست طبیعت کے حامل شخصیت ہیں، دونوں میاں بیوی نے ہمارا پُر تپاک خیرمقدم کیااور ہمیں چائے ناشتہ پیش کیا، ایلکس نے ہمارے ساتھ ڈرائیور کی خدمات انجام دیں اور انکے گھر سے ہمیں شاپنگ مال لے گئے جہاں ہم نے وِنڈوشاپنگ کی اور مختلف اشیاء کی قیمتوں کا تقابل وطن کی مارکیٹ سے کیا ، ڈالر کی قدروقیمت اور قوتِ خرید کا ہمیں کسی حد تک اندازہ پہلی بار ہوا۔
ایلکس نے ہمیں ہوٹل چھوڑا اور خود گھر روانہ ہو گیا،ہم نے کچھ دیر ٹی وی دیکھا اور اسکے بعد انٹرنیٹ پر وقت گزارا، رات سو پڑے۔
اگلے دن کا آغاز گزشتہ ایام کی طرح ہی رہا، البتہ ظہرانہ ہم نے'چٹنی' نامی  ایک پاکستانی ڈھابہ سے کیا، کیونکہ گذشتہ روز سراوانہ بھون سے نکلتے ہوئے ہم نے اس ڈھابے کے پینافلیکس پر حلال لکھا ہوا تاڑ لیا تھا۔ایلکس آج بھی باز نہ آیا اور حلال حرام کا تذکرہ لے بیٹھا، ہم نے حتی المقدور اسکی طبیعت صاف کی اور پاکیزگی کے فلسفہ اور حلال جانور کے جسم سے خون نکلے کی سائنس بیان کی، مگر وہ اپنی ضد پر اڑا رہا کہ جب قدرت نے بس کچھ انسان کے لئے پیدا کیا ہے تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ حلال کریں یا جھٹکا، ہم نے اسے اس کے حال پر چھوڑ دیا ۔
'چٹنی' پرہمیں آلو قیمہ، پالک مرغ، بنا ہڈی کا گوشت، آلو پھلیاں اور تلی ہوئی مچھلی کے ساتھ خستہ نان پیش کئے گئے۔ ہم نے ایلکس کو نان سے سالن کھانا سکھایا۔ یہ تمام کھانے ایک ہی رکابی میں تھے اور ہر فرد کی تھالی الگ تھی۔ بقول ایلکس کے، کھانے کے اچھے ہونے کی دلیل یہ ہے کہ کھانے والا اپنی پوری پلیٹ صاف کرے ، تو خیر سے ہم تینوں نے اپنی اپنی رکابیاں صاف کیں۔اس ڈھابے کے مالک ایک ہزارہوی، پاکستانی  جن کا نام رفیق تھا انھوں نے ہمیں ہاتھوں ہاتھ لیا اور ہمارے لئے تازہ نان بنوائے۔
کھانا کھا کے واپس کمپنی پہنچے اور شام میں حسبِ معمول ہوٹل، عشائیہ گول کیا اور فرج میں پڑا دودھ پی لیا۔ انٹرنیٹ پر وقت گزارا اور رات دیر سے سوئے۔دن بھر پربرف باری ہوتی تھی مگر اگلے روز ایک چمکدار دن کی پیشنگوئی کی گئی تھی۔ موسم پر بات کرنا یہاں پر گفتگو کا لازمی جزو تھا اور لوگ لمحہ بہ لمحہ اس سے آگاہ رہنا ضروری سمجھتے تھے تاکہ اپنے معمولاتِ زندگی ترتیب دے سکیں۔حیرت انگیز طور پر یہاں کا محکمہ موسمیات ٹھیک ٹھیک پیشنگوئیاں کرتا تھا۔
اگلے دن کی پیشنگوئی کے متعلق ایلکس نے کہا کہ کل موسم صاف ہو گا اور ہم نیاگرا جاسکیں گے۔
جاری ہے

1 comment: