Thursday, April 25, 2013

نیاگرا کے دیس میں، چوتھا ٹکڑا


ایلکس کی بات سو فیصد درست نکلی اور ہم نے نیاگرا جانے کے ارادے کو حتمی شکل دے ڈالی۔ فجر میں بیدارہوئے اور نماز کے بعد تیار ہو کر ناشتے کی میز پر پہنچے، ابھی ساڑھے آٹھ بھی نہ ہوئے تھے کہ ایلکس ہمیں لینے آن پہنچا۔ ایلکس کی گاڑی تھی، اونٹاریو کی شاہراہ اور ہم دیدارِ نیاگرا کی چاہ لئے محوِ سفر تھے۔ سڑکوں پر سے گذشتہ روز کی برف صاف کی جا رہی تھی، زیادہ تر صفائی کی جا چکی تھی، مگر شاہراہ کے کنارے اب بھی برف کے ڈھیر موجود تھی، برف کھرچنے اور ہٹانے کے بعد، سڑک پر نمک چھڑک دیا جاتا تھا تا کہ باقی ماندہ برف جلد پگھل جائے، ایسی صورت میں سڑک پر پھسلن ہو جاتی تھی اور گاڑی چلانے والوں کو احتیاط سے ڈرائیونگ کی تلقین کی جاتی تھی۔
شہر سے نکلتے نکلتے ہمیں خاصی تاخیر ہو گئی، وجہ گاڑیوں کی بھیڑ اور برف کی صفائی کا عمل تھا۔راستے کے دونوں جانب ہر شے برف پوشی اختیار کئے ہوئے تھی، ہمارا سفر اونٹاریو جھیل کے کنارے شاہراہ پر تھا، کہیں یہ شاہراہ بالکل جھیل سے آلگتی تو کہیں بیچ میں گھروں کی چند ایک قطاریں آجاتیں۔ اس جھیل کی وسعت کا اندارہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس میں باقاعدہ جہاز رانی ہوتی ہے۔
ندیم گاڑی کی پچھلی نشست پر اکیلے تھے، جبکہ ہم ایلکس کے برابر براجمان تھے، یہاں ٹریفک دائیں جانب چلتی تھی لہٰذا وطن کی نسبت سے ہماراسڑکوں پر گاڑیوں کا مشاہدہ بالعکس ہو گیا تھا، ندیم گفتگو سےبچنے کےلئے خاموش ہوتے تو اونگنا شروع کر دیتے اس پر ایلکس انھیں انکا نام لے کر چھیڑتا اور ندیم کو پھر سے حالتِ بیداری اختیار کرنا پڑتی۔ یہاں نشستی پیٹی یعنی سیٹ بیلٹ تمام سواروں کے لئے لازم تھی اور ایلکس اس کا خاص خیال کرتا تھا کہ ہم نے سیٹ بیلٹ باندھ رکھی ہے کیونکہ پکڑے جانے کی صورت میں اسے ٹریفک چالان بھرنا پڑتا۔
ندیم نے ایک جگہ ٹریفک میں پھنسے ہونے پر برابر کی گاڑیوں میں تانکاجھانکی شروع کردی، جس پر ایلکس نےانھیں سرزنش کی کہ یہاں پر اگر کسی صنفِ نازک نے آپ کی شکایت کردی تو پولیس آپ کو ہی حوالات میں داخل کرے گی۔
یہاں سڑکوں پر راستوں کی علامات اور بورڈ ز پرنظر رکھنا ضروری تھا، کیونکہ ایلکس کی گاڑی میں جی پی ایس نہیں لگاہوا تھا اسلیئے وہ بہت محتاط انداز سے گاڑی چلا رہا تھا کہ کہیں غلط موڑ یا راستہ اختیار نہ کر لے۔ ہم نے اس غیر معمولی احتیاط کی وجہ پوچھی تو کہنے لگا کہ یہاں سے بہت سے راستے سرزمینِ ریاست ہائے متحدہ امریکہ جاتے ہیں اور بیچ میں کوئی واپسی کاموڑ نہیں ہے، اگر غلطی سے ہم امریکہ صاحب بہادر والے رستے پر چل نکلے تو میری تو خیر ہے مگر آپ پاکستانیوں کو امریکی حساس اداروں کا مہمان بننا پڑے گا۔ اسکی بات سن کر ہمارے بدن میں ایک عجب سی سنسنی پیدا ہو گئی اور تصور میں ہم خود کو گونتانا موبے میں دیکھنے لگے۔ ہم نے اسے کہا کہ بھائی بھلے نیا گرا نہ لے جاو مگر اس طرح سے ہمیں ڈراو مت، آرام و سکون سے گاڑی چلاو اور راستے پر نظر رکھو۔ مگر ہم سے زیادہ وہ گھبرایا ہوا لگتا تھا کہ راستہ بھٹک کر نیاگرا کے قریب ایک قصبہ میں جا اترا۔ وہاں ایک بندہ خدا نے ہمیں نیاگرا کا راستہ بتلا دیا جس پر گاڑی دوڑاتے ایلکس ہمیں نیاگرا لے آیا۔
جاری ہے

3 comments:

  1. Aala....bas picturs ki kammi shadat se mehsos ho rahi hai.

    ReplyDelete
  2. I agree with Farhat Naqvi:) beautifully and skilfully written. one can easily visualize but would have been more interesting of pictures were there too.

    ReplyDelete
  3. اگلی قسط کا انتظار شدت سے انتظار ہے

    ReplyDelete