Sunday, April 28, 2013

نیاگرا کے دیس میں، پانچواں ٹکڑا


نیاگرا پر پہلی نظر پڑتے ہی دم بخود رہ گئے، اب تک اس کے بارے میں سنا کرتے تھے یا ٹی وی پر دیکھا تھا، مگر اب خود کو اس کے سامنے پاکرہماری سٹی گُم ہو گئی۔ ایک تو اسکا شور، دوسرے اسکے چھینٹے اور تیسرا کڑاکے کی سردی، یک نہ شُد سہ شُد ہو گیا۔ اللہ نے کیا قدرتی سرحد بنائی ہے دو بڑی زمینی طاقتوں کے درمیان، جھیل امریکی ہے تو آبشار کینیڈیائی۔آبشار کا دیدار ٹھیک طور پر کینیڈا سے ہی ممکن ہے کیونکہ یہ اِسی جانب گرتی ہے۔ اس طلسماتی منظرِ قدرت کو دیکھتے ہوئے آپ کو کوئی اور آواز سنائی نہیں دیتی، اسکے پانی کا شور اپنے انداز میں اللہ کی حمد بیان کرتا ہے اور نشیب میں جاکر پرسکون ہوجاتا ہے۔ سردی اسقدر تھی کہ نشیب میں کہیں کہیں پانی دکھائی دیتا تھا ورنہ برف کی اوپری تہہ پانی کو ڈھکے ہوئے تھی۔بیسویں صدی کے اوائل میں یہ جھیل مکمل طور پر جم گئی تھی۔
ایلکس ہمیں وہاں اتار کر خود گاڑی میں بیٹھا رہا تاکہ پارکنگ نہ ادا کرنی پڑے، ویسے بھی اسے نیاگرا میں کوئی خاص دلچسپی نہ تھی وہ محض ہمیں اسکا دیدارکرانےلایا تھا۔یہاں پر سیاحوں کی تعداد بہت کم تھی جسکی وجہ موسم کی سختی تھی، مگر اللہ دیسیوں کو سلامت رکھے یہ ہر موسم میں ہر جگہ پائے جاتے ہیں۔دیسیوں میں سرداروں اور پٹھانوں کو خاص اہمیت حاصل ہے، پہاڑوں کے پتھر کاٹنے ہوں یا زمین کا سینہ چیرنا ہو، بوجھ اٹھانا ہو یا ٹرک چلانا یہ دونوں اقوام کسی بھی محنت طلب کام سے جی نہیں چراتے، ہماری طرح صرف قلم کے سپاہی نہیں ہوتے بلکہ اپنے دست و بازو کو کام میں لاتے ہیں۔
یہاں بھی ہمیں ایک سردار جی مل گئے جنھوں نے خوشی خوشی ندیم اور ہمارے ساتھ تصاویر کھنچوائیں۔اکثر لوگ آبشار کو پس منظر میں رکھتے ہوئےتصاویر اتارتے ہیں مگرقوسِ قزح پل یعنی رینبو برج یہاں کا ایک مشہور پل ہےجو عین نیاگرا پر واقع ہے اور نیاگرا آبشار سے امریکہ جانے کی قریب ترین راہداری ہے،اس کے سامنے کھڑے ہو کر بھی لوگ شوق سے تصاویر کھینچواتے ہیں۔ ہم بھی ان لوگوں میں شامل ہوگئے۔
نیاگرا کے ساتھ دونوں جانب ڈالر بہانے کے بہت سے مقامات ہیں، جن میں بنتِ حوا سے لے کر  اُم الخبائث  تک  ہر طرح کی اجناس و جنس ڈالروں  کے مول بکتی ہے۔مگر ہم نے متذکرہ بالا ممنوعات سے خود کو باز رکھا اور نیاگرا کے پہلو میں واقع شیریٹن ہوٹل میں اسٹار بَک نامی کافی شاپ پر پہنچے۔ ایلکس ہمیں کچھ کھلانا پلانا چاہتا تھا اور ہم حلال کھانا ڈھونڈنے کی تگ و دو سے بچنا چاہتے تھے لہٰذا طے کیا کہ کافی سے گزارا کر لیا جائے۔ اب ندیم نے کافی کے متعلق فرمایا کہ ہم یہ کیسے پیئیں گے اتنی تو کڑوی ہوتی ہے، سچ تو یہ ہے کہ ہم بھی ان دنوں کافی نہ ہونے کے برابر پیا کرتے تھے، مگر ندیم کی تسلی کی خاطر جواب دیا کہ برادر یہاں بھوک اور سردی سے بچنے کا ایک طریقہ تو یہ کہ شراب سے شغل کر لو،لحمِ خنزیر کھالو یا پھر کافی کا ایک بڑا گلاس ڈکار جاو، اگر کافی کا دم مارنا ہے تو اس میں چاکلیٹ یا ونیلا کا سفوف ڈال لو جو کہ مفت ہے۔ ندیم کی سمجھ میں ہماری بات آگئی اور ہم لوگوں نے انگریزی کافی کو اردو میں کافی جان کر اپنے اپنے معدوں میں اتار لیا۔ اور پھر ہمارا تجزیہ درست ثابت ہوا کہ کہاں تو ہم جرسی، اوور کوٹ اور دستانے پہنے ہوئے تھے اور کافی پینے کے بعد سوئیٹر بھی ہمیں گرم لگنے لگا۔باہر نکل کر ہم نے گرم کپڑوں کے بغیر بھی تصاویر کھینچیں۔
نیاگرا کا دیدار کرنے کے بعد ہم نےواپس ٹورنٹو کا رُخ کیا، واسپی کا سفر خاصی تیز رفتاری سے طے ہوا۔ ایلکس ہمیں سی این  ٹاور لے آیا اور ہمیں وہاں اتار کر ایک چکر لگانے چلا گیا تاکہ اُسے پارکنگ نہ دینی پڑے۔ ہمارے لئے یہ وقت بہت تھا ہم نے اس دوران ٹاور کی  تصاویر اتاریں۔ یہ ٹاور قریبا اٹھارہ سو فٹ بلند ہے، جس پر چودہ سو فٹ کی بلندی پر یک مشاہداتی گول کمرہ ہے جس کا فرش شیشے کا ہے آپ جب اس پر چل رہے ہوتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ سینکٹروں فٹ کی گہرائی میں جا گریں گے۔
یہاں سے فارغ ہو کر شہرِ زیریں یعنی ڈاون ٹاون کی ایک مشہور سڑک  ینگسٹ اسٹریٹ پر سفر کیااور عشاء کے وقت واپس ہوٹل پہنچے۔کیونکہ ظہرانہ نہیں کیا تھااس لئےساتھ لایا ہوا  ادرکی مرغ کا سالن اُ ڑایا، تھک ہار کے رات سو پڑے۔
جاری ہے

5 comments:

  1. ندیم صاحب بھی کافی دلچسپ شخصیت کے حامل لگتے ہیں

    ReplyDelete
  2. اگر تصوریں بھی شایع کردی جاتیں تو بہت مناسب ہوتا۔

    ReplyDelete
  3. سر جی فوٹو کے بغیر سیشن ادھورا ہے، اور نیچرل بیوٹی مکمکل ڈسکرائیب نہ ہو تو دیسیوں کو سواد نہیں آںے کا :ڈ

    خوب منظر کشی ہے۔

    ReplyDelete
  4. dilchasp tareen hota ja raha hai safr nama......kisi nay dramay ki tarah.

    ReplyDelete