Saturday, May 11, 2013

ہم نے ووٹ ڈالا


 جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہم نے پہلے عام انتخابات سن پچاسی میں دیکھے، اتنا یاد ہے کہ وہ غیر جماعتی انتخابات تھے اور جونیجو مرحوم کی حکومت بنی تھی، نئی روشنی اسکول انکے دور کا ہی کارنامہ تھا۔ اس کے بعد کے سیاسی حالات قارئین  ہم سے بہتر جانتے ہونگے یا وکی وغیرہ پر دیکھ سکتے ہیں۔ ہمارے دور میں مطالعہ پاکستان کی کتابوں میں بھی یہ تمام تاریخ درج ہوا کرتی تھی۔
خیر بات کرتے ہیں موجودہ انتخابات کی،ہم نے میڈیا پر قریبا تمام سیاسی پارٹیز کے اشتہارات چلتے دیکھے اور چیدہ چیدہ سیاست دانوں کی تقاریر بھی سنیں۔ گزشتہ ہفتہ کے دوران ہم نے مذہبی جماعتوں کی ریلیز بھی اپنے محلہ میں دیکھیں۔ اس کے علاوہ شہر بھر میں سیاسی پارٹیز کے جھنڈے، بینرز، پمفلٹس اور ہینڈ بلز وغیرہ بھی دیکھے۔ ہنسی اس وقت آئی جب علیحدگی پسند پارٹیز کہ جو قیامِ پاکستان کو ہی نہیں مانتیں، اسی ملک کے قانون اور الیکشن کمیشن کے وضع کئے گئے نظام کے تحت ووٹ مانگتی نظر آئیں اور غصہ اس وقت آیا جب اللہ ورسول کے ناموں والے پمفلٹس سڑک پر اڑتے دیکھے۔ خیر یہ تو اللہ اور رسول کا معاملہ ہے جس کا حساب اللہ خود کرنے پر قادر ہے مگر ہم جیسے بندے کا خون اس وقت بھی کھولتا ہے جب ہم کسی بھی پارٹی کا پوسٹر کسی کے گھر کی دیوار پر لگے دیکھتے ہیں۔ چلیں یہ بھی قبول، مگر اسکول کی دیواروں اور دروازوں کو بھی سیاسی پرٹیز کے کارکنان رنگ برنگ پوسٹرز سے بھرنے سے باز نہیں آتے۔
اسی پسمنظر میں چند دن پہلے ہم نے اپنے تازہ کلام میں ووٹ کا ہوائی جہاز بنا کر اڑا دیا تھا
نامِ خدا پرچوں پر لکھ کر اُڑاتے ہیں
اسلحہ بھی سرِ عام لہراتے ہیں
ووٹ مانگتے ہیں اپنا حق سمجھ کر
عوام کو مسلسل بیوقوف بناتے ہیں
ہو شیر کہ بلا، تیر کہ سائیکل ہو
عوام کو چرخی پکڑا کر پتنگ اُڑاتے ہیں
ہاتھ میں ترازو خود خیمہ میں مقیم
لوڈ شیدنگ کے دور میں لالٹین جلاتے ہیں
دیکھ حال اپنے سیاست دونوں کا امین
ہم بھی ووٹ کا جہاز بنا کر اڑاتے ہیں

مگر پھر خیال آیا کہ ہمارا نام ووٹرز کی فہرست میں ہے اور ہمارے لئے ووٹ بھی چھاپا گیا ہو گا۔ ہم پر ملکی خزانے کے پینسٹھ روپے خرچ کئے گئے ہیں اور ایک طویل المدت مرحلہ سے گزر کر ملک انتخابی عمل کی جانب رواں دواں ہے تو ہمیں بھی اس عمل کا حصہ بننا چائیے۔ گو کہ ہم اقبال کے پیروکار بھی ہیں مگر پھر بھی بندوں کو گننے کے عمل میں شریک ہو گئے۔
ہمارے حلقہ میں پولنگ اسٹیشن خیر سے گیارہ بجے تک کُھلا ہی نہ تھا۔ ہم بھی آرام سے گھر پر رہے اور ٹی وی دیکھا کئے۔ سہ پہر کے بعد اطمینان سے پولنگ اسٹیشن پہنچے ۔ باہر شامیانہ لگا تھا جہاں الیکشن کمیشن  کی فہرستیں لئے پولنگ ایجنٹ موجود تھے۔ ہم نے پہلے ہی الیکشن کمیشن سے اپنا نمبر شمار اور پولنگ اسٹیشن معلوم کر رکھا تھا، صرف فہرست میں ترتیب معلوم کرنا تھی۔ اس عمل کے بعد ہم قطار میں جا لگے۔ ووٹرز کا جذبہ دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ اٹھارہ سال سے زیادہ کی عمر کے بہت سے ووٹرز قطار میں لگے تھے، ہماری خوشی اور حیرت کی اس وقت کوئی انتہا نہ رہی جب  ہم نے  ایک ضعیف اماں جی کو وہیل چیئر پر ووٹ ڈالنے کے لئے آتے دیکھا۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران ہم پاکستانیوں نے جو حالات برداشت کئے ہیں اس کے بعد یہ جذبہ اور لگن ہمیں بھی ہمت دلا گئی اور امید ہو چلی کہ خدا اس قوم کی حالت بدلنا چاہتا ہے جبھی قوم اپنی حالت بدلنے کی خاطر گھروں سے نکلی ہے۔
اللہ بھلا کرے پولیس اور رینجرز والوں کا کہ انھوں نے ہمارے محلہ کے ووٹرز کو ایک ساتھ اندر جانے دیا کیونکہ ہمارے محلے کا بوتھ الگ تھا۔ اندر جاکر بھی ہمیں قطار میں لگنا پڑا مگر یہ باہر دھوپ میں کھڑے ہونے سے بہتر تھا۔ سرکاری اسکول وہ بھی سندھی میڈیم، مگر نو تعمیر شدہ ہونے سے بھوت بنگلہ معلوم نہیں ہو رہا تھا۔ اندر کا ماحول قدرے بہتر تھا۔
ہمارے اہلِ محلہ وہاں موجود تھے اور ہم ان کے درمیان اپنائیت محسوس کر رہے تھے۔ کمرہ میں پہنچے تو ترتیب وار پہلے اپنا انگوٹھا فہرست پر لگایا، اسکے بعد صوبائی اور قومی اسمبلییز کے ووٹ حاصل کئے، اس دوران  ایک بیلٹ بکس بھر چکا تھا تو پولنگ کے عملہ نے دوسرا بکس سب کے سامنے سِیل کیا اور اسکے پلاسٹک کے بند پر لگے نمبر بھی مختلف پارٹیز کے پولنگ ایجنٹس کو لکھوائے۔ ہم نے اپنی آنکھوں سے شفاف پولنگ ہوتے دیکھی۔ اپنے ووٹس پر نو خانوں والی مہر لگائی اور انھیں تہہ لگا کر کے متعلقہ بکسوں میں ڈال دیا۔ اس عمل کے بعد ہم خود کو ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگے اور گھر کو روانہ ہو گئے۔
اب نتیجہ کچھ بھی نکلے ہم نے اپنی ذمہ داری پوری کردی آگے اللہ مالک ہےکیونکہ بقول شاعر
یہ معاملے ہیں نازک جو تری رضا ہو تُو کر 

5 comments:

  1. I enjoyed reading it Amin. Thank you for registering your memory on paperless page. it is history so better make hard copy of it so you can see it in future too and show yuor children. may be when their time comes for voting the system would be changed or different from this one:)

    ReplyDelete
  2. اللہ بھلا کرے ۔ یہی ہونا اور سوچنا چاہیئے جیسے آپ نے کیا

    ReplyDelete
  3. Bohat Khob.....par lagta hai k " Abhi qoum ke imtehaan aur bhi hein."

    ReplyDelete
  4. i read it today sir.. thats y enjoyed.. thanx god i dint on 11th ;)
    well i was not able to cast my vote... the reason was similar to u as my polling station was nt established till 11 35 am.... n after the "khatir tawazoh" by namaloom afraad at a montessori complex.. was not in a condition to vote...
    otherwise, i would have written something like this too :(

    ReplyDelete