Saturday, November 1, 2014

پوٹھوہاراور لاہور کی سیر، تیسرا اورآخری ٹکڑا

پہلا ٹکڑا یہاں اور دوسرا یہاں پڑھیں۔
اگلے دن صبح سویرے ہی ہم ڈائیوو کے اڈے پر پہنچے، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور موسم کچھ خنک تھا، بہار کی بارش پوٹھوہار کو بھی سر سبز بنا دیتی ہے اور بقول چچا غالب درودیوار پر بھی سبزہ اُگنے لگتا ہے۔
ڈائیوو کا سفر نہایت آرام دہ تھا اور آجکل کی جدید مواصلاتی سہولیات سے پُر تھا کہ وطن میں پہلی بار ہم نے بس کے سفر میں وائی فائی کا لطف اٹھایا۔ آجکل کے دورمیں ہم شاید خوراک اور پانی کے بغیر زندہ رہ سکیں مگر وائی فائی کے بغیر نہیں جیا جا سکتا۔
راستہ میں موٹروے پر پھوار پڑتی رہی۔ بھیرا کے مقام پر کچھ سستانے کے لئے وقت دیا گیا تو ہم نے چائے اور ہلکا ناشتہ کیا-
جب ہم لاہور پہنچے تو دوپہر ہو چلی تھی۔
لاہور میں گرمی تھی اور اس گرمی میں ہم ہوٹل کی تلاش میں نکلے۔ خدا خدا کر کے اسٹیشن سے کچھ دور ایک مناسب سا ہوٹل ملا اور ہم نے ایک رات وہیں گزارنے کا ارادہ کیا۔ دوپہر کے کھانے میں لاہور کے روایتی دال چاول اور برگرلبرٹی چوک سے لا کر کھائے۔کھانے کے بعد ریلوے ھیڈ کوارٹر جاکر اگلے دن کی کراچی واپسی کی بُکنگ کرائی اور بعد از سہ پہر لاہور دیکھنے نکلے۔ وقت کی کمی کے باعث واہگہ بارڈر تک نہ جا سکے اور شام کی موسلادھار  بارش نے ہمیں دوبارہ ہوٹل کے کمرے میں آنے پر مجبور کر دیا۔ بارش سے موسم ایک دم بدل گیا اور ٹھنڈک کا احساس ہونے لگا۔ رات میں بچے جلد سو گئے اور ہم بھی سونےکا ارادہ کئے بیٹھے تھے کہ ہمارے خالہ زاد برادر ،جنکا تبادلہ اسی برس کراچی سے لاہور ہوا تھا، تشریف لے آئے۔ یہ لاہور میں چھڑے یعنی اکیلے ہی قیام پذیر ہیں اور ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہیں۔ یہ ہمارے لئے لاہور کے مشہور محمود نان بائی کی تازہ اور خستہ نانخطائی لائے تھے۔ بلاشبہ ایسی نانخطائی ہم نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں کھائی تھی کہ جو منہ میں رکھتے ہی گھل جائے اور طبیعت میں بھاری پن بھی محسوس نہ ہو۔
اگلی صبح لبرٹی چوک سے پائے کا ناشتہ کیا اور سیاحت کا آغاز ریس کورس سے کیا۔ یہاں جشنِ بہاراں کی وجہ سےپھولوں کی  نمائش جاری تھی۔ مختلف اقسام کے پھول اور پودےاپنی بہار دکھا رہے تھے۔ جاپانی بونسائی سے لے کر پاکستانی یاسمین اور سرخ گلاب سے لے کر یورپی پھولوں کی انگنت ترتیب نہایت خوبصورتی سے پارک میں سجائی گئی تھیں۔ ہم نے یہاں کچھ وقت گزارا اور تصاویر اتاریں۔ اس کے بعد ریس کورس کا ایک طویل چکر کاٹا اور دوسری جانب سے باہر نکلے۔
اب کی بار ہماری منزل داتا دربار تھی۔ وہاں پہنچے تو ایک جمِ غفیر دکھائی دیا جو دربار میں داخلہ کا متمنی تھا مگر سیکیورٹی کی سختی کے باعث قطار بنانے پر مجبور تھا، کیونکہ ہم عام طور پر تو قطار کی پابندی نہیں کرتے۔ پولیس والے جامہ تلاشی کے بعد ایک ایک کر کے لوگوں کو اندر جانے دے رہے تھے۔ عورتوں اور مردوں کے  لئےداخلی و خارجی راستے الگ الگ بنائے گئے تھے۔ اتنی سختی کی وجہ ماضی میں ہونے والے بم دھماکے تھے جن سے خاصا جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔
اندرونی منظر ایک روایتی مزار کا تھا کہ جہاں مختلف اقسام کے زائرین اپنے اپنے انداز میں فاتحہ خونی کر رہے تھے یا ماتھا ٹیک رہے تھے۔ ہم نے محض فاتحہ پڑھی اور باہر کی راہ لی۔
اگلی منزل مینارِ پاکستان تھی، مگر وہاں جاکر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تخریب کاری کے خطرے کی وجہ سے مینارِ پاکستان کے چبوترے پر بھی جانے کی اجازت نہ تھی اور اس کے گرد خاردار تار لگی ہوئی تھی۔ ہم نے سبزہ زار میں ہی کچھ دیر آرام کیا ۔ یادگار کے داخلی دروازے پر سڑک کے کنارے لاہوری چاٹ سے لطف اندوز ہوئے اور پھر سڑک پار کر کے بادشاہی مسجد کی راہ لی، یہاں بھی وہی عالم تھا کہ بادشاہی مسجد کےمرکزی داخلی دروازہ بند کر کے آگے خار دار تار لگا دی گئی تھی۔ بچوں کو بہت غصہ آیا کہ ہمارے  اہم و تاریخی مقامات تو بند کر دیئے جاتے ہیں اور دہشت گرد کھلے دندناتے بھرتے ہیں۔ اس بندش کی وجہ سے ہم علامہ اقبال کے مقبرہ پر فاتحہ خونی نہ کرسکے اور نہ ہی عالمگیری مسجد میں داخل ہو سکے البتہ عالمگیری دروازے سے شاہی قلعہ میں ضرور داخل ہوئے ۔
شاہی قلعہ کی حالت پر ہم بہت پہلے ایک بلاگ لکھ چکے ہیں۔ یہاں کی حالت کچھ خاص تسلی بخش نہ تھی۔ زیادہ تر عمارات و محلات یا تو تزئین و آرائش کے لئے بند تھے یا پھر انکے درو دیوار تضادِ زمانہ کی منہ بولتی تصویر تھے۔اس کے باوجود بھی یہاں سیاحوں اوراسکولوں کے طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ شاہی قلعہ لاہور کا تفصیلی دورہ و مشاہدہ کرنے کے لئے پورا ایک دن بھی نا کافی ہے اور ہمارے پاس  وقت  بہت کم تھا۔ اس کے باوجود بھی ہم نے قلعہ کے اہم مقامات کا مشاہدہ  کر لیا، جس میں قابلِ ذکر شیش محل، بارہ دری اور سکھوں کے دور کا عجائب خانہ ہیں۔ہمنےقلعہ کو خیر باد کہنے کا ارادہ کیا تو بارہ بجے کا وقت  تھا۔ ہماری ایک ہونہار شاگردہ بنام مہوش فریال ،لاہور میں مقیم ہیں ،ان سے ہمارا رابطہ تھا، انکے مشورہ اور وقت کی کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے شالامار باغ اور پھر فورٹریس اسٹیڈیم جانے کا ارادہ کیا، کیونکہ چار بجے ہم نے کراچی کی ریل لینا تھی اور اس سے پہلے اپنا سامان ہوٹل سے اٹھانا تھا۔
شاہی قلعہ سے نکل کر سڑک پر آئے اور وہاں  ایک گنے والے سے تازہ رس لے کر پیا۔ شالامار باغ پہنچے اور کچھ چہل قدمی کی۔ کچھ تصاویر کھینچیں اور وہاں سے فورٹریس اسٹیڈیم پہنچے۔ یہاں پر اسٹیڈیم کی بیرونی دیوار کو بازار کی شکل دی گئی ہے۔ اس کے تمام اطراف میں شو روم اور دوکانیں ہیں، جہاں ونڈوشاپنگ کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہیں سے بریانی پیک کروا لی کہ ریل گاڑی میں کھا لیں گے۔ لبرٹی چوک کے برگر ہمیں لاہور کے مختصر دورے میں پسند آئے تھے سو لبرٹی سے یہ برگر لیتے ہوئے بھاگم بھاگ ہوٹل پہنچے اور وہاں سے سامان اٹھا کر اسٹیشن کی راہ لی۔ جب ہم ریل کے مطلوبہ ڈبے میں اپنی نشستوں پر آکر بیٹھے تو ساڑھے تین سے کچھ اوپر ہوئے تھے اور ریل کی روانگی کا وقت چار بجے کا تھا۔ یوں گذشتہ روز دوپہر سے شروع ہونے والے لاہور کا دورہ اُس دن سہ پہر میں تمام ہوا اور ہماری ریل نے ٹھیک وقت پر لاہور کے ریلوے اسٹیشن سے کراچی کے سفر کا آغاز کیا۔
واپسی کا سفر خیروعافیت سے کٹَا اور ہم کم و بیش ٹھیک وقت پر اگلے دن کراچی پہنچے۔ آپ دنیا کے کسی بھی خطہ میں چلے جائیں  سکون آپ کو اپنے ہی گھر میں آکر ملتا ہے۔

ختم شُد

Friday, October 10, 2014

پوٹھوہاراور لاہور کی سیر، دوسرا ٹکڑا

پہلا ٹکڑا یہاں پڑھیں۔
اگلے دن ہم بچوں کو جامعہ قائدِاعظم میں بنے اپنے ایک دفتر لے گئے۔ وہاں پر ہمارے ماتحت عملہ نے ہماری تواضع جامعہ کی سموسہ چاٹ سے کی۔ وہاں کچھ وقت گزار کر ہم واپس پہنچے اور ظہرانے کے بعد بچوں کی خالہ اورخالو ہمیں دامنِ کوہ اور مونال دِکھانے لے گئے۔ مونال ہم اپنے گذشتہ سرکاری دورے میں نہ جا سکے، جسکا حال ہم قارئین کے نذر کر چکے ہیں مگر اب کی بار ہم اپنے گھر والوں کے ساتھ وہاں دن کے اجالے میں ہو آئے۔
مونال کا راستہ واقعی بہت کٹھن ہے اور اس پر گاڑی چلانا کوئی خالہ جی کا گھر نہیں ہے ،مگر ہمارے ہم زلف نہات مہارت سے مہران کو اوپر چڑھارہے تھے، ایک مقام پر پہاڑی سڑک قریبا چالیس درجے کا زاویہ بناتی ہے اور ایسے میں کلچ اور گیئر کا صحیح استعمال ہی گاڑی کو اس چڑھائی سے پار کروا سکتا ہے۔
مونال کے دنوں اطراف وادیاں ہیں۔ ایک جانب پورا اسلام آباد دیکھا جا سکتا ہے تو دوسری طرف مرگلہ کی وادی میں چھوٹے موٹے گاوں انچائی سے نہایت دلفریب منظر پیش کرتے ہیں۔
دامنِ کوہ اور مونال کی زیارت کے بعد ہم نے شاہدرہ کی راہ لی، وہاں بھی سالگراں کی مانند پہاڑی جھرنے ایک نالے کی صورت اختیار کرتے ہیں اور لوگ پانی میں پاوں ڈال کر تازہ پکوڑوں اور چائے سے لطف اندوز ہونے آتے ہیں۔ سو ہم بھی اس راہ چل پڑے۔ شاہدرہ جانے کے لئے پہلے آپ کو دامنِ کوہ سے اسلام آباد اترنا پڑتا ہے اور پھر آپ جامعہ قائدِاعظم سے نیشنل سینٹر فار فزکس کی جانب جاتی سڑک پر مزید آگے جاتے ہیں اور ایک خطرناک موڑ سے نالہ پار کر کے اس متذکرہ مقام تک پہنچتے ہیں۔ جب ہم اس وادی میں پہنچے تو شام پڑ چکی تھی، مگر مغرب میں وقت تھا۔ سو ہم نے جلدی سے چائے اور پکوڑوں کا آرڈر دیا اور پانی میں چہل قدمی کرنے لگے۔ جیسے ہی چائے اور پکوڑے تیار ہوئے ہم نےمزے لے لے کراُن سے انصاف کیا ، اس دوران ہم پانی میں رکھی کرسیوں پر ٹکے ہوئے تھے۔
جب ہم  شاہدرہ سے نکلے تو آفتاب مرگلہ کی پہاڑیوں کے پیچھے پوری طرح غائب ہو چکا تھا۔یہاں سے ہم لیک ویو پہنچے، جو کہ راول جھیل کے کنارے قدرے نئی تفریح گاہ ہے۔ یہاں پر ایک خوبصورت پارک بنایا گیا جس میں درخت اور پھول اگائے گئے ہیں۔ یہاں کی سب سے قابلِ دید چیز، پرندوں کی آماجگاہ یعنی aviaryہے، جو ہے تو مصنوعی مگر اس میں قدرتی عنصر کو غالب کیا گیا ہے۔ اس آماجگاہ میں پرندے آزادانہ طور پر اپنے قدرتی ماحول میں پرورش پاتے ہیں۔ اس میں اُن کے کھانے پینے کا خاطر خواہ اہتمام کیا گیا ہے۔ آماجگاہ کا عملہ نہایت مستعد اور ذمہ دار ہے۔ یہاں ہمیں کبوتر سے لے کر مور تک دیکھنے کو ملے۔ سفید موروں کی نایاب نسل کا دیدار بھی ہیں یہاں  نصیب ہوا۔
 ہمارا اگلا پڑاو اسلام آباد شہر میں تہذیب بیکری تھا۔ یہ راحت کے نام سے جانی جاتی تھی مگر اب انکے کچھ اندرونی معاملات کی وجہ سے نام بدل دیا گیا ہے۔ یہاں بیکری کے دیگر آئٹمز کے ساتھ ساتھ سلاد اور پیزا بھی دستیاب ہوتے ہیں اور بھیڑ دیکھ کر لگتا ہے کہ سب مفت مل رہا ہے۔ اسلام آبادی بھی کھانے پینے میں لاہوریوں سے کم نہیں، ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے ہر منٹ میں ایک پیزا اوون سے باہر آتا اور اسلام آبادی اسے لے کر چلتے بنتے۔ چند افراد بیکری کے باہر سبزہ زار میں لگی کرسیوں پر تشریف فرما  پیزے سے انصاف کرتے اور زیادہ تر پیزے کے حصے گھر جا کر کرتے۔ ہمارے ہم زلف نے بھی ایک ایکسٹرا لارج پیزا کا آرڈر دیا اور اپنی باری آنے پر پیزا وصول کیا۔ باہر موجود نشستوں پر بیٹھ کر ہم نے پیزا کھایا۔ پیزا نہات لذیذ اور خستہ تھا، چاہنے کے باوجود بھی ہم مکمل پیزا ختم نہ کرسے کیونکہ پیٹ بھر چکا تھا اور پیزا ابھی باقی تھا۔ باقی ماندہ پیزا سمیٹا اور گھر کی راہ لی۔
اگلے دن ہم نے پنڈی کے مشہور راجہ بازار کا چکر لگایا اور چھوٹی موٹی خریداری کی۔ یہاں پر ایک گلی میں دہی بھلے اور چھولوں کی چاٹ فروخت ہوتی ہے اور بالخصوص خواتین کا رش ہوتا ہے، ہم بھی اپنی خاتونِ اول کے ساتھ تھے تو یہاں کی روایتی چاٹ سے سیر ہوئے۔
ظہر کے بعد ہمارے ہم زلف نے ایک ٹیکسی والے کو فون کیا اور ہمیں اسلام آباد دکھانے کو کہا۔گذشتہ روز ہم نے راول جھیل کا ایک کنارا دیکھا تھا تو آج ہم نے راول ڈیم دیکھنے کا ارادہ کیا۔ راول ڈیم گو کہ ایک اہم مقام ہےلیکن یہاں سیاحوں کے لئے خاطر خواہ انتظام موجود نہیں ہے۔ سبزہ زار میں سبزہ نہ ہونے کے برابر ہے اور تفریح گاہ میں مناسب صفائی نہ ہونے کی وجہ سے اکتاہٹ کا احساس ہوتا ہے۔ ڈیم کی جانب بھی کوئی راستہ یا حفاظتی حصار نہیں ہے اور کوئی بھی با آسانی ڈیم کے چلّو بھر پانی میں غرق ہو سکتا ہے۔
جھیل  اور ڈیم کے دیدار کے بعد ہم لوک ورثہ پہنچے، وہاں بچوں نے عجائب گھر اور گیلیریز میں خاصی دلچسپی لی۔ اسکے بعد یادگارِ پاکستان، شکر پڑیاں پر پڑاو ڈالا، وہاں بھی بچے تحریکِ پاکستان اور اسکے پس منظر کی پیش کردہ عکاسی سے خوب لطف اندوز ہوئے اور انکی معلومات میں گراں قدر اضافہ ہوا۔ اس طرح کی مشاہداتی معلومات اُن کو اسکول کے کمرے میں محض کتابوں سے نہیں مل سکتی تھی۔
مغرب ہو چکی تھی اور شکر پڑیاں پر تعمیر شدہ پھول، چاند اور تارے والی یادگار برقی قمقموں میں نہایت حسین منظر پیش کر رہی تھی۔ ہم نے بچوں کو خود سے اس میں کنندہ عمارتوں اور مقامات کی شناخت پر معمور کیا جو انھوں نے بہت آسانی سے بوجھ لیں اور اس پر خوش ہوئے۔
اسلام آباد کا دیدار فیصل مسجد کی زیارت کے بغیر ادھورا ہے ، ہمیں وہاں عشاء ادا کرنے کا شرف حاصل ہوا، گو کہ ہم نے یہ نماز اکیلے ہی پڑھی کیونکہ ہم مسافر تھے پر اندر ونی ہال میں نماز کی ادائگی کا ماحول ہی کچھ الگ سا تھا۔ اندر قرآن پاک کے نسخے  رکھے تھے۔ ان نسخوں کی جسامت ایک جیبی کتابچہ سے لے کر جہازی جسامت تک تھی اور مختلف اسلامی خطوط میں خطاطی کی گئی تھی، جن میں خطِ کُوفی، خطِ نسخ، خطِ نستعلیق نمایاں تھے۔
جب ہم بچوں کی خالہ کے ہاں پہنچے تو دس بج چکے تھے۔ گھر پہنچ کر  سامان سمیٹا  کیونکہ اگلی  ہم نے صبح لاہور روانہ ہونا تھا۔

جاری ہے
نوٹ: اس بلاگ کے ساتھ ہی ہمارے ۱۰۰ بلاگ مکمل ہوئے

Sunday, October 5, 2014

پوٹھوہار اور لاہور کی سیر- پہلا ٹکڑا

'ہاں ایسے ٹورسٹ جو ایک چھوٹی سی پہاڑی چڑھ کر ہی تھک جاتے ہیں'، وجیہہ نے  پھبتی کسی۔ اسی لمحے ہم اسلام آباد کے سینٹورس پلازہ کے صدر دروازہ پر پہنچے اور ٹیکسی والے عمر عباسی کو فارغ کیا۔
الحمد اللہ ، ہم تو اندرون اور بیرون ملک سفر کیا ہی کرتے ہیں اور نگری نگری گھومتےرہتے ہیں مگر ہمارے اہل و عیال اب تک ملتان سے آگے نہ جا سکے۔ اس بار تعلیمی سال کے خاتمہ پر بچہ پارٹی ملتان اپنے ننھیال روانہ ہوئی اور ہم نے انھیں مری وغیرہ گھمانے کا ارادہ کیا۔ ملتان سے انکو لیا اور براستہ سڑک ڈائیوو میں راول پنڈی کے سفر کا آغاز کیا۔
وجہیہ فاطمہ نے جماعت پنجم کے سالانہ امتحانات دیئے تھے اور محمد علی سوم سے چہارم میں جانے کے منتظر تھے، ان دونوں کا یہ بس کا پہلا طویل سفر تھا۔ ملتان سے بس کبیر والہ سے ہوتی ہوئی جھنگ والے روڈ پر چڑھ گئی اور براستہ سرگودھا، پنڈی پہنچی۔ راستہ میں اہلِ خانہ نے سفر سے لطف اٹھایا، کھانا کھایا، خوش گپیاں کیں اور بس سےباہر کے مناظر پر تبصرے کئے۔ بس کی میزبان سے ہمارے بچوں کی دوستی ہوگئی اور وہ ہمارا خاص خیال رکھنے لگیں۔ جھنگ اور سرگودھا کے اسٹاپس پر اترے۔ سرگودھا کے اڈے پر شام کی چائے پی۔ مغرب کے بعد اندھیرے کے باعث بچوں کو نیند کے جھونکے آنے لگے کیونکہ باہر کے مناظر دکھائی نہیں دے رہے تھے اور ان کی بوریت بڑھ رہی تھی۔ رات کے ساڑھے نو بجے ہم پنڈی کے بس کے اڈے پر پہنچے۔
وہاں سے ٹیکسی کے ذریعہ بچوں کی چھوٹی خالہ کے گھر پہنچے اور سو پڑے۔ اگلے دن ناشتہ کئے بنا ہی تیار ہوکر فیض آباد آئے اور وہاں ناشتہ کیا، ایک ٹیکسی والے سے پتریاٹہ اور مری کے سفر کا کرایہ طے کیا اور پتریاٹہ کے سفر کا آغاز کیا۔ ٹیکسی ڈرائیور، عمر عباسی بہت دلچسپ انسان تھے، پورا پاکستان دیکھ چکے تھے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے تھے، کراچی میں بھی کئی برسوں کے قیام کا شرف حاصل تھا اور بے تکان بولتے تھے، مگر باتیں مزے کی کرتے تھے۔گاڑی چلانے میں خاصی مہارت رکھتے تھے اور سڑک پر موجود ہر ڈرائیور انکے نزدیک اناڑی تھا، ما سوائے انکے۔
وہ ہمیں موٹر وے سے پتریاٹہ لے گئے اور ہمیں ہدایت دی کہ اگر ہم انکے بتائے ہوئے وقت کے مطابق سیر کرتے رہے تو با آسانی پتریاٹہ ، مری اور اسلام آباد تک کے قابلِ دید مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ ہم نے انکی ہدایات پر بھرپور طریقہ سے عمل کیا اور شام تک ان سے خوشگوارتعلقات استوار ہو چکے تھے۔
پنڈی سے روانہ ہوتے ہوئے ہم نے فیض آباد سے ناشتہ تو کر لیا تھا مگر چائے نہیں پی تھی، عمر بھائی سے کہا کہ ہمیں چائے ایسی جگہ سے پلائیں جہاں سے ڈرائیور حضرات چائےپیا کرتے ہیں، ایسی جگہوں پر چائے اچھی ملتی ہے۔ لہٰذا پتریاٹہ پہنچتے ہی انھوں نے سب سے پہلے پارکنگ کے پاس ایک کھوکھے والے کو چائے بنانے کا آرڈر دیا ۔ ہم سڑک کے کنارے لگی کرسیوں پر بیٹھ گئے اور بچے قریب کی چھوٹی چھوٹی اونچائیوں پر چڑھنے اور اترنے لگے۔ اتنے میں چائے آگئی اور ہم نے بسکٹس کے ساتھ چائے پی۔ چائے واقعی مزے کی تھی اور اسے پینے کے بعد ہم خود کو تازہ دم محسوس کرنے لگے۔
پتریاٹہ کی سب سے بڑی دلچسپی چیئر لفٹ اور کیبل کار ہیں۔ ہم چیئر لفٹ کی چار ٹکٹس خرید کر قطار میں جا لگے۔ بچے  چیئر لفٹ میں  چڑھنےاور اترنےکے طریقہ کار  کا مشاہدہ کرتے رہے اور ہم سے پوچھتے رہے کہ یہ چیئر لفٹ کہاں جائے گی اور آگے کے مناظر کیسے ہونگے۔ اس دوران ہماری باری آگئی ، وجہیہ اپنی والدہ کے ساتھ اور علی صاحب ہمارے ساتھ بیٹھے۔ بچوں کو لفٹ میں سوار ہونے میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔ اوپر جاتے ہوئے لفٹ ہچکولے لیتی ہوئی اس وقت تیز ہو جاتی جب اسکے تار کا کوئی ستون راستے میں آتا، علی صاحب نے اس کا نام اسپیڈ بریکر رکھ دیا۔ نیچے کے مناظر قابلِ دید تھے اور حدِ نگاہ کے بڑھ جانے کے باعث ہم افق کے پار تک دیکھنے کی کوشش میں لگے تھے۔ سرسبز پہاڑ اور گہری وادیاں، مکانوں کی چمنیوں سے اٹھتا دھواں ، پس منظر میں برف پوش پہاڑ  اور دھوپ چھاوں کا عالم سب مل کر ماحول کو نہایت پر کشش اور حسین بنا رہے تھے۔
اوپر پہنچے تو اگلا سفر کیبل کار کا تھا۔ یہاں بھی قطار بنی اور اس میں سوار ہونے کا مشاہدہ کیا گیا ، کیونکہ کیبل کار بھی چیئر لفٹ کی طرح  رُکتی نہیں تھی ،محض رفتار میں کمی واقع ہوتی تھی۔ با آسانی اس میں بھی سوار ہوئے اور مزید اونچائی کی جانب سفر کیا۔ پہاڑ کی چوٹی پر بنی سیر گاہ پر پہنچے ، وہاں ریسٹورانٹس، دوکانیں اور پہاڑی راستے ہیں۔ہم نے کچھ دیر وہاں چہل قدمی کی۔ بچوں نے چھرے والی بندوق سے نشانے لگائے۔
وہاں ایک گھنا جنگل بھی تھا اور اونچے نیچے راستے اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بھی تھیں۔ ہم سڑک سے ہٹ کر پہاڑی راستے سے اوپر آنے لگے ، یہ راستہ جنگل سے گزرتا تھا۔ بچے تو خوب لطف اندوز ہو رہے تھے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ پہاڑ دیکھے تھے۔ اوپر پہنچ کر ہماری سانس ہی پھول گئی اور تھکن کا احساس ہونے لگا۔ کچھ دیر سانس لینے کو بیٹھے اور پھر واپسی کا راستہ لیا۔ وہاں  پر ایک مکئی والے سے چنے اور مکئی کے بھنے ہوئے دانے خریدے اور خود بھی بھٹی پر دانوں کو بھونتے ہوئے تصویر کھنچوائی۔ بچوں نے آئسکریم کھانے کی فرمائش کی تو انکو کون دلا دی اور پھر اُترائی کے سفر کے لئے کیبل کار میں سوار ہوئے۔ دورانِ سفر بچوں کی گفتگو سے دو نئے شادی شدہ ہمسفر لطف اندوز ہوتے رہے اور انھوں نے  تاڑ لیا کہ ہم کراچی سے آئے ہونگے۔
کیبل کار سے اتر کر چیئر لفٹ میں سوار ہوئے، اب کی بار صاحب زادے والدہ کے ساتھ تھے اور بیٹی، ابا کے ساتھ۔ نیچے پہنچ کے عمر بھائی سے رابطہ کیا اور انکی ٹیکسی میں مری روانہ ہوئے۔ جب ہم مری پہنچے تو قریبا چار سوا چار کا وقت تھا۔ عمر عباسی نے ہمیں ایک ڈیڑھ گھنٹہ مری کی مال روڈ پر چہل قدمی کے لئے دیا۔ ہم نے پہلے تو کچھ پیٹ پوجا کی اور پھر مال روڈ پر آوارہ گردی شروع کردی۔ مری میں ٹھنڈک کا احساس ہوا، مگر آہستہ آہستہ ہمارے جسم درجہ حرارت کے عادی ہو گئے اور فضا خوشگوار لگنے لگی۔ مال روڈ پر  کرنے اور دیکھنے کو بہت کچھ ہوتا ہے۔ کہیں نام والے چابی کے چھلے بِک رہے ہیں تو کہیں آلو کی چپس، کوئی دستکاری کا اسٹال لگا ئے بیٹھا ہے تو کوئی پہاڑ پر خود کو سنبھالنے کے لئے چھڑیاں بیچ رہا ہے، میووں کی دوکان سجی ہے تو ساتھ ہی کشمیری شالیں بھی برائے فروخت ہیں۔ اور ان سے سے دل بھر جائے تو سڑک پر آتے جاتے نفوس بھی اپنے اندر پورا جہاں رکھتے ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد نئے شادی شدہ جوڑوں کی ہوتی ہے اور کچھ منچلوں کی بھی ، ساتھ ہی ساتھ ہم جیسے دو بچوں اور ایک بیوی والے جی-پی-او مری  کی سیڑھیوں پر بیٹھے، آئسکریم کھاتے اور بچوں کو مناتے دکھائی دیتے ہیں۔
مال روڈ سے نیچے اتر کر جب ہم عمر عباسی کی ٹیکسی میں بیٹھے تو پانچ سے اوپر کا وقت تھا۔ اس دوران ہم نے ایک دوکان سے تازہ پکوڑے خرید لئے تھے جن کے ساتھ انصاف کولڈ ڈرنک پیتے ہوئے ٹیکسی میں ہی کیا۔
واپسی پر عمر عباسی ہمیں پرانی شاہراہ مری  سے لے گئے، سانگلی کے مقام پر پہاڑی جھرنے دیکھنے رُکے۔وجیہہ کو برف دیکھنے کی خواہش تھی تو عمر عباسی نے ہمیں مری روڈ کے کنارےپر موجود برف کے پگھلتے ہوئے چند ٹکڑے دکھائے۔ ان برف کے ٹکڑوں کو بھی استعمال میں لا کر ایک شخص نے برف کا پتلا یعنی سنو مین بنا ڈالا تھا اور اس کے ساتھ تصویر کھینچوانے کے پیسے لیتا تھا۔
مری سے اترتے ہوئے ہم سالگراں کے مقام پر پہنچے جہاں گذشتہ دنوں بہت سے حادثات ہوئے ہیں۔ سالگراں پر ایک پارک بنایا گیا ہے، جسکے لئے پہاڑی نالہ پار کر کے دوسری  جانب جانا پڑتا ہے۔ یہ مقام نہایت خوبصورت ہے، پہاڑوں سے اترتا پانی یہاں پتھروں پر سے گزرتا ہے۔ آپ بڑے مزے سے پانی میں پاوں ڈال کر بیٹھ سکتے ہیں۔ یہاں حسن اور بےحسی دونوں ایک ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں، قدرتی حسن، پہاڑوں ، پانی اور پتھروں میں ہے جبکہ بے حسی کھائی میں گری ہوئی ایک بس کے ڈھانچہ میں نظر آئی جو اس خونی موڑ سے لڑھکی ہوگی۔
شام کے سائے گہرے ہو چلے تھے، سو ہم اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے۔ راستہ میں ایک ہوٹل سے چائے پی۔ عمر عباسی نے جب سڑک کنارے ہوٹل میں چائے کا آرڈر دیا اپنے لئے 'ٹوکن' کا لفظ استعمال کیا۔ بعد میں ہمارے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ ٹوکن آدھی پیالی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور عموما ڈرائیور حضرات آدھی پیالی چائے پیا کرتے ہیں۔
چائے سے فارغ ہو کر عمر عباسی نے ہمیں سینٹورس اتارا۔ وہاں انسانوں کی ایک طویل قطار شاپنگ پلازہ میں جانے کی منتظر دکھائی دی۔ ہم بھی قطار میں جا لگے۔ سینٹورس بلاشبہ بین الاقوامی طرز کو شاپنگ مال ہے۔ اسلام آبادی اس پر اتراتے ہیں، مگر ہم  کراچی میں ڈالمن مال رکھتے ہیں اور سڈنی میں ایک سے ایک شاپنگ مال دیکھ چکے ہیں تو ہم سینٹورس سے کچھ خاص مرعوب نہ ہوئے۔

کچھ وقت وہاں گزار کر ہم عشائیہ کے لئے سیور چل پڑے جو کہ قریبا ایک میل کے فاصلہ پر بلو ایریا میں تھا۔ وہاں ایک جمِ غفیر تھا کہ جیسے کھانا مفت تقسیم کیا جا رہا ہو۔ جیسے تیسے ایک میز پر جگہ ملی اور ہم نے وہاں کا مشہور پلاو کھایا۔ اس کے بعد گھر کی راہ لی۔ہم کراچی والے ہر طرح کے چاول کا طعام پکانے اور کھانے میں خاصی مہارت رکھتے ہیں اور اس بات پر اِتراتے بھی ہیں، لہٰذا اسلام آباد کا سیور کا پلاو ہمیں خاص متاثر نہ کر سکا۔
جاری ہے

Friday, June 27, 2014

چندا رے چندا- ۲

نوٹ: اس مو ضوع پر ہم پہلے بھی اظہارِ خیال کر چکے ہیں اور اسے جامعہ کراچی میں پیش کرنے کا بھی اتفاق ہوا۔ اس سال دوبارہ اسی موضوع کو تھوڑے مختلف انداز میں سامعین کی نذر کیا اور اب بطور بلاگ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے۔
گذشتہ برس کی طرح اس سال بھی جب شیخ زائد اسلامک سینٹر سے محترم ڈاکٹر نور احمد شاہتاز صاحب کا دعوت نامہ برائے سیمنار دیکھا تو اس مضمون کے لکھنے کا ارادہ کر لیا۔
ذکر ہے چاند کا تو جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ چاند زمین کا سیارہ ہے اور زمین اپنی بقا کےلئے جہاں سورج کی محتاج ہے تو وہیں اسکا وجود چاند کے بغیر بھی ممکن نہیں۔ ہم کبھی کبھار سوچتے ہیں کہ اگر چاند نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
اگر چاند نہ ہوتا تو سب سے بڑی مشکل اردو ادب میں پیش آتی، محبوب کا رخِ روشن کس سے تشبیہ دیا جاتا؟ مائیں اپنے نورِ نظر کےلئے مریخ، یا زہرا سی دلہن لانے پر مجبور ہوتیں، یوسف علیہ سلام کو بھی ماہِ کنعاں کے بجائے، آفتابِ کنعاں کے لقب سے یاد کیا جاتا، ہمیں بھی خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑتا کہ ہم اپنے بنا بالوں کے سر کو کیا کہلوانا پسند کرتے؟
 خیر یہ تو غیر سائنسی اور غیر تیکنیکی باتیں تھیں۔ طبعی طور پر چاند ،زمین والوں کو اپنا ایک ہی رخ دکھلاتا ہے اور جسکی وجہ اسکی زمین کے ساتھ ایک ہی شرح رفتار سے حرکت ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں سنکرونس موشن کہتے ہیں۔ سمندروں میں اٹھتا جوار بھاٹا، گرہن لگتا سورج اور زمین پر اسکی سورج سے مستعار لی گئی روشنی یہ سب مناظرِ قدرت اسے دیگر اجرامِ فلکی سے ممتاز بناتے ہیں۔
چاند کو مکمل طور پر دوبارہ ظاہر ہونے کے لئے زمین کے گرد ۲۹ دن، ۱۲ گھنٹے، ۴۴ منٹ اور ۹ء۲ سیکنڈ کا عرصہ لگتا ہے۔  اس دورانیہ کو فلکیاتی اصطلاح میں سائینوڈک پیریئڈ کہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قمری مہینہ کبھی انتیس دنوں کا تو کبھی تیس دنوں کا ہوتا ہے۔
چاند کی موجودگی اور عمر سائنسی طور پر معلوم ہونے کے باوجود اسلامی تقویم کے مہینوں کا آغاز چاند کی رویت پر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ شرعی تقاضا ہے لٰہذا حکومت نے اسکے لئے ایک کمیٹی بنا کر چاند کی رویت کے فیصلہ کا حق و ذمہ اسے سونپ دیا ہےاس کمیٹی کی تیکنیکی معاونت محکمہ موسمیات اور پاکستان کا خلائی تحقیقاتی ادارہ، سپارکو کرتے ہیں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم بھی چاند کی رویت کے حوالہ سے اپنی شہادتیں اس کمیٹی کے پاس ریکارڈ کرائیں بجائے اسکے کہ' کمیٹی کے صدر کی اہلیہ کا عید کا سوٹ سل گیا ہے لہٰذا عید کل ہو گی' جیسے ایس ایم ایس احباب کو کرتے پھریں۔ یہ قطعی مذاق کی بات نہیں ہے بلکہ علماءکرام  کی توہین کے مترادف ہے۔
مذاق کی بات تو یہ ہے کہ کمیٹی کے ہوتے ہوئے بھی
ایک مانگو تو دو ملتے ہیں
ہوگیا کتنا سستا چاند
سب کی اپنی اپنی مسجدیں
سب کا اپنا اپنا چاند
ایک دور تھا کی ہمارے ہاں کی فلمی ہیروئینز چاند سے اپنا افسانہ پوچھا کرتی تھیں اور آج جبکہ انسان مریخ پر پہنچ چکا ہے ہم اس الجھن سے نہیں نکل پا رہے کہ چاند کا اعلان شرعی و تیکنیکی اعتبار سے درست ہے یا نہیں، بقول محترم انور مسعود
چاند کو ہاتھ لگا آئے ہیں اہل ہمت
ان کو یہ دھن ہے کہ اب جانب مریخ بڑھیں
ایک ہم ہیں کہ دکھائی نہ دیا چاند ہمیں
ہم اسی سوچ میں ہیں عید پڑھیں یا نہ پڑھیں
شکریہ 

Saturday, March 22, 2014

مونال سے میلوڈی تک

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کا چکر ہم سال میں ایک آدھ بار لگا ہی لیا کرتے ہیں اور یہ دورے سرکاری  ہُوا کرتے ہیں۔ گذشتہ ماہ بھی ہم ایک ایسےہی سرکاری دورے پر پوٹھوہار میں تھے۔ اس دفعہ ہمارے ساتھ دفتر کے چندساتھی بھی تھے۔ سرکاری مصروفیات کے ساتھ ساتھ اس بار ہم نے خود سے  آوارہ گردی کرنے کی بھی ٹھان رکھی تھی اور اس ارادے کو تکمیل کا درجہ بخشنے والوں میں ہمارے سڈنی کےدوست  ڈاکٹر فیصل پیش پیش تھے۔ وہ اپنے سات عدد ماتحت افسران بشمول دو عدد دوشیزاوں کے اس قافلہ کے امیر تھے۔ڈاکٹر فیصل کی ٹیم کے علاوہ دو عدد افسران شعبہ آئی ٹی سے تھے اور ایک اور غیر ایم بی بی ایس ڈاکٹر  ملا کر ہم سمیت یہ بارہ کا مجمع بنا جو کراچی سےآیا تھا اور  اسلام آباد کی سڑکیں ناپنے کا متمنی تھا۔
ہمارا اسلام آباد آنے کا اصل مقصد تو ایک ورکشاپ میں شرکت کرنا تھا مگر شام کے اوقات میں ہم فارغ ہوا کرتے تھے اور ہوسٹل کے کمرے میں جا کر سویا کرتے یا انٹرنیٹ پر وقت گزارتے تھے۔ سو ایک دن کمرے سے چھٹکارا پانے کی خاطر مونال جانے کا منصوبہ بنایا گیا اور طے یہ پایا کہ عشائیہ وہیں کیا جائے گا۔ شام میں جب ہوسٹل پہنچے تو ایک ویگن کا بندوبست کیا گیا اور اس میں لد کر ۱۲ افراد کا قافلہ عازمِ سفر ہوا۔ جیسے ہی ویگن والے نے گاڑی اسٹارٹ کی تو ہمارے دوست حسن بن جمال نے جملہ کسا کہ بھائی یہ پہنچا دے گی؟  ڈرائیور صاحب ہندکو میں فرمانے لگے کہ 'تساں فکر نہ کرو، پُوچا چھوڑسی'۔پہلی بار میں ہی گاڑی اسٹارٹ نہ ہونے پر ڈرائیور نےکلینر کو  اگلی نشست اٹھانے کو کہا اور ہمیں تسلی کی خاطر گویا ہوئے کہ اس میں چورسوئچ لگا ہوا ہے۔ پیٹرول کا پوچھا تو جواب ملا کہ ٹنکی فل ہے۔ اللہ جانے ٹنکی فُل تھی یا ڈرائیور ہمیں فُول بنا رہا تھا۔ گاڑی اسٹارٹ ہوئی اور ہم اطمینان سے خوش گپیوں میں مشغول ہو گئے۔ حسن بن جمال سے ہماری دوستی ان ہی دِنوں میں ہو ئی تھی اور وہ خاصے محظوظ کن جملے گاہے بگاہے اچھالتے رہتے تھے۔سفر کے دوران بھی ہم مستقبل میں رونما ہونے والے متوقع حالات پر بحث جاری رکھے ہوئے تھے کہ اتنے میں دامنِ کوہ گزر گیا اور ہماری گاڑی مزید اونچائی کی جانب چڑھنے لگی۔ ابھی دامنِ کوہ سے کوئی ایک آدھ فرلانگ ہی طے کئے ہوں گے کہ ڈرائیور نے گیس اور پیٹرول کی تبدیلی والا سوِِئچ بدلا اوربقول شاعر پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی۔ گاڑی اپنے لغوی معنوں کے مصداق گَڑ گئی۔
ہم گاڑی چلانے میں کوئی ملکہ نہیں رکھتے مگر اپنی ذاتی چھوٹی سی گاڑی چلایا ہی کرتے ہیں اور اتنا جانتے ہیں کہ جب کلچ دبایا جاتا ہے تو ایکسلیریٹر پر زور کم کر دیا جاتا ہے، مگر آفرین ہے اس پوٹھوہاری پر کہ جو اپنے دونوں پیر استعمال کرنے پر بضد تھا اور وہ بھی بیک وقت۔
اب گاڑی نے ایک انچ بھی بزورِ انجن بڑھنے سے انکار کر دیا۔اس پرزورِ دستِ دوستاں کام آیا اور گاڑی کو مونال کی مخالف سمت میں موڑ کر اُترائی کی جانب محوِ سفر کروایا گیا تاکہ ڈھلوان کی وجہ سے گاڑی کو دھکا نہ لگانا پڑے۔ اس پر بھی ڈرائیور صاحب اگنشن میں چابی گھمائے چلے گئے۔ اس بندہ خدا میں اتنا بھی صبر نہ تھا کہ وہ گاڑی کو کچھ رفتار پکڑنے دیتے۔ اس دوران خواتین ویگن میں ہی براجمان رہیں اور تمام مرد حضرات گاڑی سے اُتر کر پیدل چلنے لگے۔
واضح رہے کہ ہم ہوسٹل سے مغرب ادا کرکے نکلے تھے اور اب اندھیرا ہو چلا تھا، سونے پر سہاگہ یہ کہ بجلی کی عدم دستیابی کے کارن پہاڑی بل کھاتی سڑک پر لگے برقی قمقمے اس اندھیرے میں اپنا حصہ بھی ڈال رہے تھے۔نیچے اترتے اترتے ہم دامنِ کوہ تک آن پہنچے، اس دوران گاڑی کافی رفتار پکڑ چکی تھی اور آندھی و طوفان کی طرح نیچے اترے جا رہی تھی۔ جب تک ہم صورتِ حال سے پوری طرح آگاہ ہوئے تو پتہ چلا کہ ہم سمیت سات حضرات دامنِ کوہ کے پڑاو پر تھے اور باقی پانچ افراد مع دو خواتین کے گاڑی میں سوار تھے۔ گاڑی ہماری نظروں سے اوجھل ہو کر مرگلہ کی پہاڑیوں کی اترائی میں گم ہو چکی تھی۔ اس پر ہمیں اعجاز اور فردوس کی فلم ہیر رانجھا کا ایک منظر یاد آگیا جس میں رانجھا جوگی بن کر ہیر کے ساتھ ساتھ منورطریف یعنی کھیڑے کی بہن کو بھی بھگا لے جاتا ہے اور کھیڑا کہتا ہے ،'جوگی ہیر وی لے گیا اے تےنال ہمشیر وی لے گیا اے'
اب ہم سات حضرات  دامنِ کوہ کی تفریح گاہ پر موجود تھے اور بقیہ کے تین حضرات اور دو خواتین ویگن میں سوار تھیں، موبائل کے سگنلز مستقل طور پر  نہ تھے اور بات کرنے کے دوران آواز بے ربط ہو جاتی تھی۔ خیر ہمیں ڈاکٹر فیصل کی جانب سے یہ پیغام ملا کہ انتظار فرمائیں۔ حسن بن جمال اور ہم نے اس دوران جائےفراغت ڈھونڈی تاکہ رفع حاجت کی جا سکے- مرگلہ کی پہاڑیاں، فروری کا موسم اور عشاء کا وقت،  یہ ایک مساوی الاضلاع مثلث بنی اور اسکے مرکز پر ہم تھے۔اس دوران ہمارے ساتھ رہ جانے والے غیر ایم بی بی ایس ڈاکٹر صاحب اور حسن بن جمال کے ساتھی ،جو پرانے دوست تھے، چائے پی چکے تھے اور ڈاکٹر فیصل کی ٹیم کے تین جوان صورتِ حال پر تبادلہ خیال فرما رہے تھے۔ وقت گزرتا جا رہا تھا اور اب ہمیں بھی تشویش ہونے لگی۔ آخرکار سب لوگ اس بات پر متفق ہوئے کہ پیدل نیچے اترا جائے اور گاڑی والوں تک پہنچا جائے کیونکہ وہاں سے اس وقت سواری کا ملنا قریبا نا ممکن تھا۔
ہم سب اللہ کا نام لے کر دامنِ کو ہ سے چل پڑے مگر ابھی چند گز ہی اُترے ہوں گے کہ ہم نے ہمت ہار دی، ہم کراچی کے اسٹریٹ کرائمز کے جلے تھے سو مرگلہ کی پہاڑیوں میں بھی پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے تھے، اللہ کا کرنا یہ ہوا کہ اسی لمحہ ایک پک اپ جسے مقامی زبان میں 'ڈالا' کہتے ہیں  نیچے آتی نظر آئی۔ ہم اس میں لد گئے ، گو کہ یہ گاڑی عام طور پر چوپائیوں کے ڈھونے کے کام آتی ہے مگر اس وقت ہم اس میں ڈھوئے جا ہے تھے اور اس بات پر خوش تھے کہ پیدل چلنے سے بچ گئے۔
نیچے پہنچے تو دامنِ کوہ جانے والے راستے کی چیک پوسٹ پر اتر گئے۔ ڈاکٹر فیصل سے رابطہ کیا تو انھوں نے کہا کہ وہ تو ہمیں لینے دامنِ کوہ پہنچ چکے تھے۔ اصل میں ہماری ویگن ٹھیک ہو گئی تھی اور اسکی وجہ یہ تھی کہ اُس میں سِرے سے پیٹرول تھا ہی نہیں، اب ڈرائیور نے اس میں شاید چُلّو بھر پیٹرول دلوا لیا تھا۔
خیر ڈاکٹر فیصل مع ویگن اور دیگر پسماندگان کے ہمیں لینے آن پہنچے اور اب کی بار ہم سب کے سوار ہونے پر ہم نے اسلام آباد کی جانب عزمِ سفر ہوئے۔ ڈرائیور صاحب نےہمیں پھر مونال کے سبز باغ دکھانے شروع کر دیئے۔ شہر کے ایک اور پیٹرول پمپ سے گاڑی کی ٹنکی مکمل بھروا لی اور ضد کرنے لگےکہ وہ ہمیں مونال لے جا کر ہی دم لیں گے، انکی اس فرمائش سے ہمارا دم نکلا جا رہا تھا کہ بعد ازعشاء ہمیں مرگلہ کا 'لام ہے' ہٹانے کا کوئی شوق نہیں تھا۔
آخرِکار یہ طے پایا کہ میلوڈی پر جا کر عشائیہ کر لیا جائے، اب ڈرائیور کا یہ عالم تھا کہ حضورِ والا کو میلوڈی کا راستہ بھی اسے طرح نامعلوم تھا جیسے مونال کا۔ ہمارا دل چاہا کہ رُکی ویگن سے چھلانگ لگا دیں اور کسی چنگچی میں جا بیٹھیں مگر دارالحکومت اس نعمت ِ چائنہ سے محروم ہے یوں ہم اپنا سا منہ اور دل لے کر ویگن میں ہی براجمان رہے۔ ڈرائیور نے خاصی تین پانچ کے بعد ہمیں میلوڈی پہنچا دیا۔
میلوڈی پہنچ کر ہم نے ایک مناسب سا ہوٹل دیکھا اور شامیانوں میں لگی کرسیوں پر میزوں کے گردجا  بیٹھے، سردی کا یہ عالم تھا کہ شامیانوں کے باوجود ہر میز پر گیس والے ہیٹر رکھے تھے جو گاہکوں کے آنے پر جلا دئیےجاتے تھے۔ تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ہم تین ٹولیوں میں بٹ گئے جس میں ایک ٹولی زنانہ تھی۔
ہمارے ہاں  کھانے والے کو مزہ آئے یا نہ آئے، شامت مرغ ہی کی آتی ہے۔ کھانے کے بعد پان بھی تناول کئے گئے۔ اس دوران ڈرائیور صاحب آپے سے باہر ہو چکے تھے اور وہ ہمیں ویگن میں ٹھونس کر کسی ہوائی جہاز کی رفتار سے واپس ہوسٹل لائے اور مونال کے لئے طے کئے گئے کرایہ کا مطالبہ کیا۔ ہمارے ہوسٹل کے عملہ میں ایک ڈرائیور بھی تھے ،ان کو بیچ میں ڈالا اورنوبت تلخ کلامی تک پہچنے سے پہلے ہی ویگن والے صاحب کو مناسب کرایہ ادا کر کےفارغ کر دیا گیا ، یوں ہم مونال کی چاہ میں میلوڈی ہو آئے۔
جھلکیاں:
۱- مرگلہ سے پیدل اُترے ہوئے ہمارے ایک ساتھی کا پیر پھسلا اور وہ بمشکل اپنے آپ کو سنبھال پائے۔
۲- ڈالے میں ہم سب کھڑے ہو کر سفر کرتے رہے جبکہ  ہمارے ایک ساتھی تھکن اور اُکتاہٹ کی وجہ سے کچھ اس طرح بیٹھے کہ جیسے گندم سے بھر ی بوری کو اونچائی سے گرا دیا جائے-
۳-جب ہم ڈالے سے نیچے پہنچے تواُس سے اُتر کر ڈرائیور کو سلام کر کے شکریہ ادا کیا  اور فٹ پاتھ پر ایک طرف ہو لئے، اس پر ڈرائیور نے بیس روپے فی کس  کرایہ کا تقاضا کیا جو ہم نے شرمندہ ہو کر ادا کر دیا۔
۴- میلوڈی پر کھانے کی تیاری میں ہمارے غیر ایم بی بی سی ایس ڈاکٹر ساتھی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور کڑاہی میں چمچ ہلاتے ہوئے تصاویر بھی اتروائیں۔
۵- بقول محترم مشتاق احمد یوسفی، ہوسٹل کے عملہ میں سے جن صاحب نے ویگن کے دڑائیور سے معاملہ رفع دفع کیا انھوں نے ویگن کےجانے کے بعد دڑائیور کے 'نسب میں پدرانہ داخل ہونے کی خواہش کا اظہار فرمایا'۔

ختم شُد
نوٹ: قارئین سے معذرت کہ ہم عرصہ دراز سے کوئی بلاگ پوسٹ نہ کر سکے۔