Friday, June 27, 2014

چندا رے چندا- ۲

نوٹ: اس مو ضوع پر ہم پہلے بھی اظہارِ خیال کر چکے ہیں اور اسے جامعہ کراچی میں پیش کرنے کا بھی اتفاق ہوا۔ اس سال دوبارہ اسی موضوع کو تھوڑے مختلف انداز میں سامعین کی نذر کیا اور اب بطور بلاگ صلائے عام ہے یارانِ نکتہ داں کے لئے۔
گذشتہ برس کی طرح اس سال بھی جب شیخ زائد اسلامک سینٹر سے محترم ڈاکٹر نور احمد شاہتاز صاحب کا دعوت نامہ برائے سیمنار دیکھا تو اس مضمون کے لکھنے کا ارادہ کر لیا۔
ذکر ہے چاند کا تو جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ چاند زمین کا سیارہ ہے اور زمین اپنی بقا کےلئے جہاں سورج کی محتاج ہے تو وہیں اسکا وجود چاند کے بغیر بھی ممکن نہیں۔ ہم کبھی کبھار سوچتے ہیں کہ اگر چاند نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
اگر چاند نہ ہوتا تو سب سے بڑی مشکل اردو ادب میں پیش آتی، محبوب کا رخِ روشن کس سے تشبیہ دیا جاتا؟ مائیں اپنے نورِ نظر کےلئے مریخ، یا زہرا سی دلہن لانے پر مجبور ہوتیں، یوسف علیہ سلام کو بھی ماہِ کنعاں کے بجائے، آفتابِ کنعاں کے لقب سے یاد کیا جاتا، ہمیں بھی خاصی دقت کا سامنا کرنا پڑتا کہ ہم اپنے بنا بالوں کے سر کو کیا کہلوانا پسند کرتے؟
 خیر یہ تو غیر سائنسی اور غیر تیکنیکی باتیں تھیں۔ طبعی طور پر چاند ،زمین والوں کو اپنا ایک ہی رخ دکھلاتا ہے اور جسکی وجہ اسکی زمین کے ساتھ ایک ہی شرح رفتار سے حرکت ہے، جسے سائنسی اصطلاح میں سنکرونس موشن کہتے ہیں۔ سمندروں میں اٹھتا جوار بھاٹا، گرہن لگتا سورج اور زمین پر اسکی سورج سے مستعار لی گئی روشنی یہ سب مناظرِ قدرت اسے دیگر اجرامِ فلکی سے ممتاز بناتے ہیں۔
چاند کو مکمل طور پر دوبارہ ظاہر ہونے کے لئے زمین کے گرد ۲۹ دن، ۱۲ گھنٹے، ۴۴ منٹ اور ۹ء۲ سیکنڈ کا عرصہ لگتا ہے۔  اس دورانیہ کو فلکیاتی اصطلاح میں سائینوڈک پیریئڈ کہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ قمری مہینہ کبھی انتیس دنوں کا تو کبھی تیس دنوں کا ہوتا ہے۔
چاند کی موجودگی اور عمر سائنسی طور پر معلوم ہونے کے باوجود اسلامی تقویم کے مہینوں کا آغاز چاند کی رویت پر کیا جاتا ہے۔ کیونکہ یہ شرعی تقاضا ہے لٰہذا حکومت نے اسکے لئے ایک کمیٹی بنا کر چاند کی رویت کے فیصلہ کا حق و ذمہ اسے سونپ دیا ہےاس کمیٹی کی تیکنیکی معاونت محکمہ موسمیات اور پاکستان کا خلائی تحقیقاتی ادارہ، سپارکو کرتے ہیں۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم بھی چاند کی رویت کے حوالہ سے اپنی شہادتیں اس کمیٹی کے پاس ریکارڈ کرائیں بجائے اسکے کہ' کمیٹی کے صدر کی اہلیہ کا عید کا سوٹ سل گیا ہے لہٰذا عید کل ہو گی' جیسے ایس ایم ایس احباب کو کرتے پھریں۔ یہ قطعی مذاق کی بات نہیں ہے بلکہ علماءکرام  کی توہین کے مترادف ہے۔
مذاق کی بات تو یہ ہے کہ کمیٹی کے ہوتے ہوئے بھی
ایک مانگو تو دو ملتے ہیں
ہوگیا کتنا سستا چاند
سب کی اپنی اپنی مسجدیں
سب کا اپنا اپنا چاند
ایک دور تھا کی ہمارے ہاں کی فلمی ہیروئینز چاند سے اپنا افسانہ پوچھا کرتی تھیں اور آج جبکہ انسان مریخ پر پہنچ چکا ہے ہم اس الجھن سے نہیں نکل پا رہے کہ چاند کا اعلان شرعی و تیکنیکی اعتبار سے درست ہے یا نہیں، بقول محترم انور مسعود
چاند کو ہاتھ لگا آئے ہیں اہل ہمت
ان کو یہ دھن ہے کہ اب جانب مریخ بڑھیں
ایک ہم ہیں کہ دکھائی نہ دیا چاند ہمیں
ہم اسی سوچ میں ہیں عید پڑھیں یا نہ پڑھیں
شکریہ