Sunday, October 5, 2014

پوٹھوہار اور لاہور کی سیر- پہلا ٹکڑا

'ہاں ایسے ٹورسٹ جو ایک چھوٹی سی پہاڑی چڑھ کر ہی تھک جاتے ہیں'، وجیہہ نے  پھبتی کسی۔ اسی لمحے ہم اسلام آباد کے سینٹورس پلازہ کے صدر دروازہ پر پہنچے اور ٹیکسی والے عمر عباسی کو فارغ کیا۔
الحمد اللہ ، ہم تو اندرون اور بیرون ملک سفر کیا ہی کرتے ہیں اور نگری نگری گھومتےرہتے ہیں مگر ہمارے اہل و عیال اب تک ملتان سے آگے نہ جا سکے۔ اس بار تعلیمی سال کے خاتمہ پر بچہ پارٹی ملتان اپنے ننھیال روانہ ہوئی اور ہم نے انھیں مری وغیرہ گھمانے کا ارادہ کیا۔ ملتان سے انکو لیا اور براستہ سڑک ڈائیوو میں راول پنڈی کے سفر کا آغاز کیا۔
وجہیہ فاطمہ نے جماعت پنجم کے سالانہ امتحانات دیئے تھے اور محمد علی سوم سے چہارم میں جانے کے منتظر تھے، ان دونوں کا یہ بس کا پہلا طویل سفر تھا۔ ملتان سے بس کبیر والہ سے ہوتی ہوئی جھنگ والے روڈ پر چڑھ گئی اور براستہ سرگودھا، پنڈی پہنچی۔ راستہ میں اہلِ خانہ نے سفر سے لطف اٹھایا، کھانا کھایا، خوش گپیاں کیں اور بس سےباہر کے مناظر پر تبصرے کئے۔ بس کی میزبان سے ہمارے بچوں کی دوستی ہوگئی اور وہ ہمارا خاص خیال رکھنے لگیں۔ جھنگ اور سرگودھا کے اسٹاپس پر اترے۔ سرگودھا کے اڈے پر شام کی چائے پی۔ مغرب کے بعد اندھیرے کے باعث بچوں کو نیند کے جھونکے آنے لگے کیونکہ باہر کے مناظر دکھائی نہیں دے رہے تھے اور ان کی بوریت بڑھ رہی تھی۔ رات کے ساڑھے نو بجے ہم پنڈی کے بس کے اڈے پر پہنچے۔
وہاں سے ٹیکسی کے ذریعہ بچوں کی چھوٹی خالہ کے گھر پہنچے اور سو پڑے۔ اگلے دن ناشتہ کئے بنا ہی تیار ہوکر فیض آباد آئے اور وہاں ناشتہ کیا، ایک ٹیکسی والے سے پتریاٹہ اور مری کے سفر کا کرایہ طے کیا اور پتریاٹہ کے سفر کا آغاز کیا۔ ٹیکسی ڈرائیور، عمر عباسی بہت دلچسپ انسان تھے، پورا پاکستان دیکھ چکے تھے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پی چکے تھے، کراچی میں بھی کئی برسوں کے قیام کا شرف حاصل تھا اور بے تکان بولتے تھے، مگر باتیں مزے کی کرتے تھے۔گاڑی چلانے میں خاصی مہارت رکھتے تھے اور سڑک پر موجود ہر ڈرائیور انکے نزدیک اناڑی تھا، ما سوائے انکے۔
وہ ہمیں موٹر وے سے پتریاٹہ لے گئے اور ہمیں ہدایت دی کہ اگر ہم انکے بتائے ہوئے وقت کے مطابق سیر کرتے رہے تو با آسانی پتریاٹہ ، مری اور اسلام آباد تک کے قابلِ دید مناظر سے لطف اندوز ہو سکیں گے۔ ہم نے انکی ہدایات پر بھرپور طریقہ سے عمل کیا اور شام تک ان سے خوشگوارتعلقات استوار ہو چکے تھے۔
پنڈی سے روانہ ہوتے ہوئے ہم نے فیض آباد سے ناشتہ تو کر لیا تھا مگر چائے نہیں پی تھی، عمر بھائی سے کہا کہ ہمیں چائے ایسی جگہ سے پلائیں جہاں سے ڈرائیور حضرات چائےپیا کرتے ہیں، ایسی جگہوں پر چائے اچھی ملتی ہے۔ لہٰذا پتریاٹہ پہنچتے ہی انھوں نے سب سے پہلے پارکنگ کے پاس ایک کھوکھے والے کو چائے بنانے کا آرڈر دیا ۔ ہم سڑک کے کنارے لگی کرسیوں پر بیٹھ گئے اور بچے قریب کی چھوٹی چھوٹی اونچائیوں پر چڑھنے اور اترنے لگے۔ اتنے میں چائے آگئی اور ہم نے بسکٹس کے ساتھ چائے پی۔ چائے واقعی مزے کی تھی اور اسے پینے کے بعد ہم خود کو تازہ دم محسوس کرنے لگے۔
پتریاٹہ کی سب سے بڑی دلچسپی چیئر لفٹ اور کیبل کار ہیں۔ ہم چیئر لفٹ کی چار ٹکٹس خرید کر قطار میں جا لگے۔ بچے  چیئر لفٹ میں  چڑھنےاور اترنےکے طریقہ کار  کا مشاہدہ کرتے رہے اور ہم سے پوچھتے رہے کہ یہ چیئر لفٹ کہاں جائے گی اور آگے کے مناظر کیسے ہونگے۔ اس دوران ہماری باری آگئی ، وجہیہ اپنی والدہ کے ساتھ اور علی صاحب ہمارے ساتھ بیٹھے۔ بچوں کو لفٹ میں سوار ہونے میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔ اوپر جاتے ہوئے لفٹ ہچکولے لیتی ہوئی اس وقت تیز ہو جاتی جب اسکے تار کا کوئی ستون راستے میں آتا، علی صاحب نے اس کا نام اسپیڈ بریکر رکھ دیا۔ نیچے کے مناظر قابلِ دید تھے اور حدِ نگاہ کے بڑھ جانے کے باعث ہم افق کے پار تک دیکھنے کی کوشش میں لگے تھے۔ سرسبز پہاڑ اور گہری وادیاں، مکانوں کی چمنیوں سے اٹھتا دھواں ، پس منظر میں برف پوش پہاڑ  اور دھوپ چھاوں کا عالم سب مل کر ماحول کو نہایت پر کشش اور حسین بنا رہے تھے۔
اوپر پہنچے تو اگلا سفر کیبل کار کا تھا۔ یہاں بھی قطار بنی اور اس میں سوار ہونے کا مشاہدہ کیا گیا ، کیونکہ کیبل کار بھی چیئر لفٹ کی طرح  رُکتی نہیں تھی ،محض رفتار میں کمی واقع ہوتی تھی۔ با آسانی اس میں بھی سوار ہوئے اور مزید اونچائی کی جانب سفر کیا۔ پہاڑ کی چوٹی پر بنی سیر گاہ پر پہنچے ، وہاں ریسٹورانٹس، دوکانیں اور پہاڑی راستے ہیں۔ہم نے کچھ دیر وہاں چہل قدمی کی۔ بچوں نے چھرے والی بندوق سے نشانے لگائے۔
وہاں ایک گھنا جنگل بھی تھا اور اونچے نیچے راستے اور چھوٹی چھوٹی پہاڑیاں بھی تھیں۔ ہم سڑک سے ہٹ کر پہاڑی راستے سے اوپر آنے لگے ، یہ راستہ جنگل سے گزرتا تھا۔ بچے تو خوب لطف اندوز ہو رہے تھے کہ انھوں نے اپنی زندگی میں پہلی دفعہ پہاڑ دیکھے تھے۔ اوپر پہنچ کر ہماری سانس ہی پھول گئی اور تھکن کا احساس ہونے لگا۔ کچھ دیر سانس لینے کو بیٹھے اور پھر واپسی کا راستہ لیا۔ وہاں  پر ایک مکئی والے سے چنے اور مکئی کے بھنے ہوئے دانے خریدے اور خود بھی بھٹی پر دانوں کو بھونتے ہوئے تصویر کھنچوائی۔ بچوں نے آئسکریم کھانے کی فرمائش کی تو انکو کون دلا دی اور پھر اُترائی کے سفر کے لئے کیبل کار میں سوار ہوئے۔ دورانِ سفر بچوں کی گفتگو سے دو نئے شادی شدہ ہمسفر لطف اندوز ہوتے رہے اور انھوں نے  تاڑ لیا کہ ہم کراچی سے آئے ہونگے۔
کیبل کار سے اتر کر چیئر لفٹ میں سوار ہوئے، اب کی بار صاحب زادے والدہ کے ساتھ تھے اور بیٹی، ابا کے ساتھ۔ نیچے پہنچ کے عمر بھائی سے رابطہ کیا اور انکی ٹیکسی میں مری روانہ ہوئے۔ جب ہم مری پہنچے تو قریبا چار سوا چار کا وقت تھا۔ عمر عباسی نے ہمیں ایک ڈیڑھ گھنٹہ مری کی مال روڈ پر چہل قدمی کے لئے دیا۔ ہم نے پہلے تو کچھ پیٹ پوجا کی اور پھر مال روڈ پر آوارہ گردی شروع کردی۔ مری میں ٹھنڈک کا احساس ہوا، مگر آہستہ آہستہ ہمارے جسم درجہ حرارت کے عادی ہو گئے اور فضا خوشگوار لگنے لگی۔ مال روڈ پر  کرنے اور دیکھنے کو بہت کچھ ہوتا ہے۔ کہیں نام والے چابی کے چھلے بِک رہے ہیں تو کہیں آلو کی چپس، کوئی دستکاری کا اسٹال لگا ئے بیٹھا ہے تو کوئی پہاڑ پر خود کو سنبھالنے کے لئے چھڑیاں بیچ رہا ہے، میووں کی دوکان سجی ہے تو ساتھ ہی کشمیری شالیں بھی برائے فروخت ہیں۔ اور ان سے سے دل بھر جائے تو سڑک پر آتے جاتے نفوس بھی اپنے اندر پورا جہاں رکھتے ہیں۔ ان میں ایک بڑی تعداد نئے شادی شدہ جوڑوں کی ہوتی ہے اور کچھ منچلوں کی بھی ، ساتھ ہی ساتھ ہم جیسے دو بچوں اور ایک بیوی والے جی-پی-او مری  کی سیڑھیوں پر بیٹھے، آئسکریم کھاتے اور بچوں کو مناتے دکھائی دیتے ہیں۔
مال روڈ سے نیچے اتر کر جب ہم عمر عباسی کی ٹیکسی میں بیٹھے تو پانچ سے اوپر کا وقت تھا۔ اس دوران ہم نے ایک دوکان سے تازہ پکوڑے خرید لئے تھے جن کے ساتھ انصاف کولڈ ڈرنک پیتے ہوئے ٹیکسی میں ہی کیا۔
واپسی پر عمر عباسی ہمیں پرانی شاہراہ مری  سے لے گئے، سانگلی کے مقام پر پہاڑی جھرنے دیکھنے رُکے۔وجیہہ کو برف دیکھنے کی خواہش تھی تو عمر عباسی نے ہمیں مری روڈ کے کنارےپر موجود برف کے پگھلتے ہوئے چند ٹکڑے دکھائے۔ ان برف کے ٹکڑوں کو بھی استعمال میں لا کر ایک شخص نے برف کا پتلا یعنی سنو مین بنا ڈالا تھا اور اس کے ساتھ تصویر کھینچوانے کے پیسے لیتا تھا۔
مری سے اترتے ہوئے ہم سالگراں کے مقام پر پہنچے جہاں گذشتہ دنوں بہت سے حادثات ہوئے ہیں۔ سالگراں پر ایک پارک بنایا گیا ہے، جسکے لئے پہاڑی نالہ پار کر کے دوسری  جانب جانا پڑتا ہے۔ یہ مقام نہایت خوبصورت ہے، پہاڑوں سے اترتا پانی یہاں پتھروں پر سے گزرتا ہے۔ آپ بڑے مزے سے پانی میں پاوں ڈال کر بیٹھ سکتے ہیں۔ یہاں حسن اور بےحسی دونوں ایک ساتھ دیکھے جا سکتے ہیں، قدرتی حسن، پہاڑوں ، پانی اور پتھروں میں ہے جبکہ بے حسی کھائی میں گری ہوئی ایک بس کے ڈھانچہ میں نظر آئی جو اس خونی موڑ سے لڑھکی ہوگی۔
شام کے سائے گہرے ہو چلے تھے، سو ہم اسلام آباد کی جانب روانہ ہوئے۔ راستہ میں ایک ہوٹل سے چائے پی۔ عمر عباسی نے جب سڑک کنارے ہوٹل میں چائے کا آرڈر دیا اپنے لئے 'ٹوکن' کا لفظ استعمال کیا۔ بعد میں ہمارے استفسار پر انھوں نے بتایا کہ ٹوکن آدھی پیالی کے لئے استعمال ہوتا ہے اور عموما ڈرائیور حضرات آدھی پیالی چائے پیا کرتے ہیں۔
چائے سے فارغ ہو کر عمر عباسی نے ہمیں سینٹورس اتارا۔ وہاں انسانوں کی ایک طویل قطار شاپنگ پلازہ میں جانے کی منتظر دکھائی دی۔ ہم بھی قطار میں جا لگے۔ سینٹورس بلاشبہ بین الاقوامی طرز کو شاپنگ مال ہے۔ اسلام آبادی اس پر اتراتے ہیں، مگر ہم  کراچی میں ڈالمن مال رکھتے ہیں اور سڈنی میں ایک سے ایک شاپنگ مال دیکھ چکے ہیں تو ہم سینٹورس سے کچھ خاص مرعوب نہ ہوئے۔

کچھ وقت وہاں گزار کر ہم عشائیہ کے لئے سیور چل پڑے جو کہ قریبا ایک میل کے فاصلہ پر بلو ایریا میں تھا۔ وہاں ایک جمِ غفیر تھا کہ جیسے کھانا مفت تقسیم کیا جا رہا ہو۔ جیسے تیسے ایک میز پر جگہ ملی اور ہم نے وہاں کا مشہور پلاو کھایا۔ اس کے بعد گھر کی راہ لی۔ہم کراچی والے ہر طرح کے چاول کا طعام پکانے اور کھانے میں خاصی مہارت رکھتے ہیں اور اس بات پر اِتراتے بھی ہیں، لہٰذا اسلام آباد کا سیور کا پلاو ہمیں خاص متاثر نہ کر سکا۔
جاری ہے

3 comments:

  1. Very comprehensive and interesting blog. I felt myself traveling with you all. You are right Sever is so famous there but biryani and shami kabas have no taste at all. But people are crazy about it. Well they have their choices:)
    Keep writing and sharing your interesting travels:)

    ReplyDelete
  2. Savour ہے اصل نام
    اور ان کے شامی ہی تو اصل میں مزیدار ہیں جی۔

    ReplyDelete
  3. بہت خوب اپنا کراچی سے کالام تک کا سفر ياد آ گيا

    ReplyDelete