Saturday, November 1, 2014

پوٹھوہاراور لاہور کی سیر، تیسرا اورآخری ٹکڑا

پہلا ٹکڑا یہاں اور دوسرا یہاں پڑھیں۔
اگلے دن صبح سویرے ہی ہم ڈائیوو کے اڈے پر پہنچے، ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور موسم کچھ خنک تھا، بہار کی بارش پوٹھوہار کو بھی سر سبز بنا دیتی ہے اور بقول چچا غالب درودیوار پر بھی سبزہ اُگنے لگتا ہے۔
ڈائیوو کا سفر نہایت آرام دہ تھا اور آجکل کی جدید مواصلاتی سہولیات سے پُر تھا کہ وطن میں پہلی بار ہم نے بس کے سفر میں وائی فائی کا لطف اٹھایا۔ آجکل کے دورمیں ہم شاید خوراک اور پانی کے بغیر زندہ رہ سکیں مگر وائی فائی کے بغیر نہیں جیا جا سکتا۔
راستہ میں موٹروے پر پھوار پڑتی رہی۔ بھیرا کے مقام پر کچھ سستانے کے لئے وقت دیا گیا تو ہم نے چائے اور ہلکا ناشتہ کیا-
جب ہم لاہور پہنچے تو دوپہر ہو چلی تھی۔
لاہور میں گرمی تھی اور اس گرمی میں ہم ہوٹل کی تلاش میں نکلے۔ خدا خدا کر کے اسٹیشن سے کچھ دور ایک مناسب سا ہوٹل ملا اور ہم نے ایک رات وہیں گزارنے کا ارادہ کیا۔ دوپہر کے کھانے میں لاہور کے روایتی دال چاول اور برگرلبرٹی چوک سے لا کر کھائے۔کھانے کے بعد ریلوے ھیڈ کوارٹر جاکر اگلے دن کی کراچی واپسی کی بُکنگ کرائی اور بعد از سہ پہر لاہور دیکھنے نکلے۔ وقت کی کمی کے باعث واہگہ بارڈر تک نہ جا سکے اور شام کی موسلادھار  بارش نے ہمیں دوبارہ ہوٹل کے کمرے میں آنے پر مجبور کر دیا۔ بارش سے موسم ایک دم بدل گیا اور ٹھنڈک کا احساس ہونے لگا۔ رات میں بچے جلد سو گئے اور ہم بھی سونےکا ارادہ کئے بیٹھے تھے کہ ہمارے خالہ زاد برادر ،جنکا تبادلہ اسی برس کراچی سے لاہور ہوا تھا، تشریف لے آئے۔ یہ لاہور میں چھڑے یعنی اکیلے ہی قیام پذیر ہیں اور ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہیں۔ یہ ہمارے لئے لاہور کے مشہور محمود نان بائی کی تازہ اور خستہ نانخطائی لائے تھے۔ بلاشبہ ایسی نانخطائی ہم نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں کھائی تھی کہ جو منہ میں رکھتے ہی گھل جائے اور طبیعت میں بھاری پن بھی محسوس نہ ہو۔
اگلی صبح لبرٹی چوک سے پائے کا ناشتہ کیا اور سیاحت کا آغاز ریس کورس سے کیا۔ یہاں جشنِ بہاراں کی وجہ سےپھولوں کی  نمائش جاری تھی۔ مختلف اقسام کے پھول اور پودےاپنی بہار دکھا رہے تھے۔ جاپانی بونسائی سے لے کر پاکستانی یاسمین اور سرخ گلاب سے لے کر یورپی پھولوں کی انگنت ترتیب نہایت خوبصورتی سے پارک میں سجائی گئی تھیں۔ ہم نے یہاں کچھ وقت گزارا اور تصاویر اتاریں۔ اس کے بعد ریس کورس کا ایک طویل چکر کاٹا اور دوسری جانب سے باہر نکلے۔
اب کی بار ہماری منزل داتا دربار تھی۔ وہاں پہنچے تو ایک جمِ غفیر دکھائی دیا جو دربار میں داخلہ کا متمنی تھا مگر سیکیورٹی کی سختی کے باعث قطار بنانے پر مجبور تھا، کیونکہ ہم عام طور پر تو قطار کی پابندی نہیں کرتے۔ پولیس والے جامہ تلاشی کے بعد ایک ایک کر کے لوگوں کو اندر جانے دے رہے تھے۔ عورتوں اور مردوں کے  لئےداخلی و خارجی راستے الگ الگ بنائے گئے تھے۔ اتنی سختی کی وجہ ماضی میں ہونے والے بم دھماکے تھے جن سے خاصا جانی و مالی نقصان ہوا تھا۔
اندرونی منظر ایک روایتی مزار کا تھا کہ جہاں مختلف اقسام کے زائرین اپنے اپنے انداز میں فاتحہ خونی کر رہے تھے یا ماتھا ٹیک رہے تھے۔ ہم نے محض فاتحہ پڑھی اور باہر کی راہ لی۔
اگلی منزل مینارِ پاکستان تھی، مگر وہاں جاکر مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ تخریب کاری کے خطرے کی وجہ سے مینارِ پاکستان کے چبوترے پر بھی جانے کی اجازت نہ تھی اور اس کے گرد خاردار تار لگی ہوئی تھی۔ ہم نے سبزہ زار میں ہی کچھ دیر آرام کیا ۔ یادگار کے داخلی دروازے پر سڑک کے کنارے لاہوری چاٹ سے لطف اندوز ہوئے اور پھر سڑک پار کر کے بادشاہی مسجد کی راہ لی، یہاں بھی وہی عالم تھا کہ بادشاہی مسجد کےمرکزی داخلی دروازہ بند کر کے آگے خار دار تار لگا دی گئی تھی۔ بچوں کو بہت غصہ آیا کہ ہمارے  اہم و تاریخی مقامات تو بند کر دیئے جاتے ہیں اور دہشت گرد کھلے دندناتے بھرتے ہیں۔ اس بندش کی وجہ سے ہم علامہ اقبال کے مقبرہ پر فاتحہ خونی نہ کرسکے اور نہ ہی عالمگیری مسجد میں داخل ہو سکے البتہ عالمگیری دروازے سے شاہی قلعہ میں ضرور داخل ہوئے ۔
شاہی قلعہ کی حالت پر ہم بہت پہلے ایک بلاگ لکھ چکے ہیں۔ یہاں کی حالت کچھ خاص تسلی بخش نہ تھی۔ زیادہ تر عمارات و محلات یا تو تزئین و آرائش کے لئے بند تھے یا پھر انکے درو دیوار تضادِ زمانہ کی منہ بولتی تصویر تھے۔اس کے باوجود بھی یہاں سیاحوں اوراسکولوں کے طلبہ و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی۔ شاہی قلعہ لاہور کا تفصیلی دورہ و مشاہدہ کرنے کے لئے پورا ایک دن بھی نا کافی ہے اور ہمارے پاس  وقت  بہت کم تھا۔ اس کے باوجود بھی ہم نے قلعہ کے اہم مقامات کا مشاہدہ  کر لیا، جس میں قابلِ ذکر شیش محل، بارہ دری اور سکھوں کے دور کا عجائب خانہ ہیں۔ہمنےقلعہ کو خیر باد کہنے کا ارادہ کیا تو بارہ بجے کا وقت  تھا۔ ہماری ایک ہونہار شاگردہ بنام مہوش فریال ،لاہور میں مقیم ہیں ،ان سے ہمارا رابطہ تھا، انکے مشورہ اور وقت کی کمی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ہم نے شالامار باغ اور پھر فورٹریس اسٹیڈیم جانے کا ارادہ کیا، کیونکہ چار بجے ہم نے کراچی کی ریل لینا تھی اور اس سے پہلے اپنا سامان ہوٹل سے اٹھانا تھا۔
شاہی قلعہ سے نکل کر سڑک پر آئے اور وہاں  ایک گنے والے سے تازہ رس لے کر پیا۔ شالامار باغ پہنچے اور کچھ چہل قدمی کی۔ کچھ تصاویر کھینچیں اور وہاں سے فورٹریس اسٹیڈیم پہنچے۔ یہاں پر اسٹیڈیم کی بیرونی دیوار کو بازار کی شکل دی گئی ہے۔ اس کے تمام اطراف میں شو روم اور دوکانیں ہیں، جہاں ونڈوشاپنگ کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔ یہیں سے بریانی پیک کروا لی کہ ریل گاڑی میں کھا لیں گے۔ لبرٹی چوک کے برگر ہمیں لاہور کے مختصر دورے میں پسند آئے تھے سو لبرٹی سے یہ برگر لیتے ہوئے بھاگم بھاگ ہوٹل پہنچے اور وہاں سے سامان اٹھا کر اسٹیشن کی راہ لی۔ جب ہم ریل کے مطلوبہ ڈبے میں اپنی نشستوں پر آکر بیٹھے تو ساڑھے تین سے کچھ اوپر ہوئے تھے اور ریل کی روانگی کا وقت چار بجے کا تھا۔ یوں گذشتہ روز دوپہر سے شروع ہونے والے لاہور کا دورہ اُس دن سہ پہر میں تمام ہوا اور ہماری ریل نے ٹھیک وقت پر لاہور کے ریلوے اسٹیشن سے کراچی کے سفر کا آغاز کیا۔
واپسی کا سفر خیروعافیت سے کٹَا اور ہم کم و بیش ٹھیک وقت پر اگلے دن کراچی پہنچے۔ آپ دنیا کے کسی بھی خطہ میں چلے جائیں  سکون آپ کو اپنے ہی گھر میں آکر ملتا ہے۔

ختم شُد

No comments:

Post a Comment