Sunday, January 18, 2015

تعزیتِ استادِ محترم

گذشتہ ہفتہ جامعہ این ایس ڈبلیو سے  برقی پیغام موصول ہوا کہ ہمارے استادِ محترم ڈاکٹر رابرٹ جان اسٹیننگ دنیا میں نہیں رہے۔ اس افسوس ناک خبر پر ان کی سر پرستی میں بسر کئے دو برس  آنکھوں کے سامنے ایک فلم رول کی طرح چلنے لگے۔ ان دو برسوں میں بارہا ایسے مواقع آئے کہ ہم  اُنکی علمیت اور قابلیت کے قائل ہوئے۔ حالاتِ حاضرہ ہوں یا تاریخی واقعات ، گھریلو معاملات ہوں یا  سائنسی موضوعات ، غرض  وہ دنیا جہان کے ہر موضوع پر بات کر سکتے تھے۔ ان کا سب سے پسندیدہ موضوع مذہب تھا۔ کٹر عیسائی اور مبلغ تھے جس کی بدولت دیگر مذاہب کی بھی بھرپور معلومات رکھتے تھے۔
انھوں نے اپنی پی ایچ ڈی کوئنر لینڈ، آسٹریلیا سے کی تھی اورویسٹ انڈیز میں درس و تدریس کی خدمات انجام دیتے رہے، کینیڈا میں بھی مقیم رہے اور شادی بھی وہیں کی۔ مسز کیرل ان کے ساتھ انکی مذہبی تبلیغ میں پیش پیش تھیں- دونوں میاں بیوی افریقہ کے غرباء میں دین کی تبلیغ کی خاطر انکے لئے کپڑے بھجواتے جو خاتونِ خانہ خود سیتی تھیں ۔ استادِ محترم 645 نامی ایک مقامی گرجا گھر سے وابستہ تھے، جسکا ذکر گذشتہ بلاگ میں کیا جا چکا ہے۔
جامعہ این ایس ڈبلیو سے کافی عرصہ وابستہ رہے اور ریٹائر ہونے کے بعد بھی وہیں مہمان استاد کے طور پر منسلک رہے۔ آئنو سفیرک فزکس کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب کے تقابلی مطالعہ پر مشتمل اختیاری مضمون آن لائن پڑھاتے تھے۔ جس میں انکے چند شاگرد مسلمان بھی ہوتے جو استادِ محترم کر اسلام کی تبلیغ کرتے۔ استادِ محترم یہ واقعات ہمیں تفصیل سے بتاتے۔
انکی ایک اور اہم ذمہ داری سائنسی تحقیقاتی مقالوں کی جانچ بھی تھی۔  وہ ناتجربہ کا ر محققین کی تکنیکی اور سائنسی غلطیاں ہمیں ماہرانہ انداز میں سناتے ۔
ہمیں اچھی طرح سے یاد ہے کہ ہماری سڈنی میں پہلا دن تھا اور ہماری استادِ محترم سے بھِی پہلی ملاقات تھی، دیگر ابتدائی اور بنیادی معلومات کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہمیں دو برس بعد ہونے والی ایک سائنسی کانفرنس کے بارے میں بتایا اور فرمایا کہ ہمیں اس میں شرکت کرنا ہوگی۔ ان کی سفارش پر جامعہ نے ہمیں ناصرف اس کانفرنس میں شرکت کے لئے وظیفہ دیا بلکہ ہمارے اسکول آف فزکس نے ہوائی سفر کا ٹکٹ بھی دیا اور یوں ہم سرکاری خرچ پر میلبورن گئے۔
کانفرنس کی تیاری کے لئے جب ہم نے پریزینٹیشن بنائی تو استاد ِ محترم نے ہمیں اسکی ریہرسل بھی کرائی۔
ہم اُنکی دعوت پر دو بار ان کے گھر بھی حاضر ہوئے جس میں انھوں نے ہمیں اپنے دین کی تبلیغ بھی کی لیکن اللہ کے فضل و کرم سے ان کی تبلیغ کا ہم پر رتی برابر بھی اثر نہ ہوا۔ ایک بار تو ہم نے دورانِ گفتگو انھیں جتلا دیا کہ جس طرح وہ عیسائیت چھوڑ کر مسلمان ہونا پسند نہیں کریں گے اسی طرح ہم بھی ان کے ہاتھ آنے والے نہ تھے، بحث مزید بڑھی تو ہم نے کہا کہ آپ کی عیسائیت شخصیت پسندی سے ہوتی ہوئی شخصیت پرستی تک جا پہنچتی ہے، جبکہ اسلام میں خدا پرستی ہے بندہ پرستی قطعی نہیں ہے۔ ان سے مذہبی گفتگو کے دوران ہم دل ہی دل میں سورۃ الکافرون کی آیات دھرا رہے ہوتے تھے۔
وہ خون کا سرطان پال رہے تھے جو پچھتر برس کی عمر میں جان لیوا ثابت ہوا اورانکا جسدِ خاکی ،خاک میں جا ملا۔