Thursday, July 16, 2015

چندا رے چندا-۳

اس موضوع پرگذشتہ دو بلاگز، اول اور دوم میں ہم ہلکے پھلکے انداز میں اظہارِ خیال کر چکے ہیں۔ اب کی بار چاند کے آج کے ڈیٹا کا ذکر کرتے ہیں۔ آج پاکستان میں سرکاری طور پر ۲۸ رمضان المبارک ۱۴۳۶ ہجری ہے اور وطن میں چند ایک مقامات پر رمضان کی ۲۹ تاریخ ہے۔

سائنسی اعتبار سے نئے چاند کی پیدائش آج بروز جمعرات پاکستانی معیاری وقت کے مطابق صبح چھ بجکر چوبیس منٹ پر ہے، لہٰذا آج جب وطن کے مختلف علاقوں میں مغرب کا وقت ہو گا تو چاند کی عمر کم و بیش ساڑھے بارہ یا تیرہ گھنٹے ہو گی۔ مزید یہ کہ پاکستان میں بیشتر مقامات پر آج جب سورج غروب ہو گا اس وقت چاند ڈوب چکا ہوگا، یعنی افق سے نیچے جا چکا ہوگا۔ اس حقیقت کی روشنی میں سائنسی لحاظ سے آج پاکستان میں کسی بھی مقام پر چاند نظر آنے کا کوئی امکان نہیں۔ یہاں تک کہ کوئی طاقتور دوربین بھی چاند کو نہیں دیکھ سکتی کیونکہ وہ افق پر ہو گا ہی نہیں۔

عرب ممالک بشمول سعودی عرب والوں کے اگر آج چاند کا اعلان کرتے ہیں تو وہ نئے چاند کی وجہ سے تو درست مانا جا سکتا ہے مگررویت ہلال کے لحاظ سے قطعی طور پر اپنی سائنسی حیثیت نہیں رکھتا۔

 برِاعظم ایشیا، یورپ اور آسٹریلیا کے تمام ممالک میں بھی مندرجہ بالا صورتِ حال ہے۔ آسٹریلیا میں کیونکہ موسمِ سرما ہے اس لئے وہاں آجکل مغرب شام پانچ ،ساڑھے پانچ بجے ہی ہو جاتی ہے۔ اگر ہم سڈنی کی مثال لیں تو آج وہاں غروبِ آفتاب شام پانچ بجکر چار منٹ پر ہے اور اس وقت چاند کی عمر مشکل سے چھ گھنٹے ہو گی جو کسی بھی طورپررویت کے قابل نہیں۔

اس ساری تفصیل کا مقصد ہے کہ ہم اپنی عقل کو کام میں لائیں اور میڈیا، مولوی حضرات اور محکمہ موسمیات کو الزام دینے کے بجائے چاند کی سائنس پر تھوڑا سا غور کر لیں تو بنا کسی الجھن کا شکار ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ مولویوں نے روزہ کھایا ہے یا نہیں، کیونکہ ہم سہل پسندی میں اس قسم کے بیانات داغنے سے قطعی طور پا باز نہیں آتے۔

احباب کی ایک محفل میں ایک دوست فرمانے لگے کہ اگر کوئی رمضان کا چاند خود دیکھے تو اس کا روزہ رکھنا بنتا ہے، یعنی اسے ماہِ صیام کا آغاز کرنا چاہیئے۔ ہم کہیں گے کہ با لکل اسے رمضان کا آغار کرنا چاہیئے مگر اس بات کا یقین کر لے کہ واقعی اس دن چاند نظر آنے کا فلکیاتی ڈیٹا موجود تھا یا نہیں۔ اگر علمِ فلکیات کہتا ہے کہ اس دن غروبِ آفتاب سے پہلے ہی مہتاب غروب ہو چکا تھا تو پھر اللہ اللہ خیر سلا۔

فیس بک کے جہادی بھی بڑھ چڑھ کر چاند پر بحث میں حصہ لیتے دکھائی دیتے ہیں جبکہ انھیں چاند کے بارے میں اتنی ہی معلومات ہوتی ہے جتنی ماریا شیراپووا کو ٹنڈولکر کے بارے میں ہے-

محترم انور مسعود نے اہلِ ہمت کا مریخ کی جانب بڑھنے کا تذکرہ کیا تھا، تا دمِ تحریر پلوٹو کی تازہ اور قریب ترین تصاویر آچکی ہیں اور ہم چاند دکھائی دینے اورنظرنہ آنے پر بحث میں مصروف ہیں کیونکہ ہم اُلٹے سیدھےچکروں میں پڑ کر اپنے اصل سے ناتا توڑ چکے ہیں اسی لئے،

ع  ثریّا سے زمیں پہ آسماں نے ہم کو دے مارا