Saturday, June 4, 2016

چندا رے چندا ۴

اللہ تعالٰی نے انسان کو عقل عطا کی ہے اور علم کی نعمت سے بھی نوازا ہے، اللہ اور فرشتوں  کے مابین انسان کی تخلیق کے معاملہ پر ہونے والے مکالمہ سے ہم سب بخوبی واقف ہیں۔
فلکیات کا علم بھی دیگر علوم کےساتھ ساتھ آجکل بہت اہمیت کا حامل ہے۔اسی علم کی بدولت انسان آج ستاروں پر کمند ڈال چکا ہے، لیکن قابو میں نہیں آتا تو بس مہتاب۔
جب آفتاب کے طلوع اور غروب پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں اور نمازوں کے اوقات اپنے اپنے مسلک کے مطابق نقشہ جات دیکھ کر متعین کر لئے گئے ہیں تو چندا ماما کی موجودگی کی شہادت پر اختلاف ہماری ہٹ دھرمی کو ظاہر کرتا ہے جس کا منطق سے کوئی تعلق نہیں۔
یہ بات بارہا دہرائی جا چکی ہے کہ چاند کا موجود ہونا اور دکھائی دینا دو الگ الگ باتیں ہیں۔ علم فلکیات چاند کے ہونے کا وثوق کے ساتھ بتا سکتی ہے،یعنی چاند افق پر موجود ہے یا نہیں، سورج سے پہلے غروب ہو گا یا بعد میں، افق پر اسکی اونچائی کتنی ہے، وغیرہ وغیرہ۔ ان سب معلومات کی درستگی اپنی جگہ مگر چاند کی رویت اسے خالی آنکھ سے دیکھنے کا تقاضہ کرتی ہے۔
کل بروز اتوار، مورخہ ۵ جون ۲۰۱۶ کو پاکستان میں ۲۸ شعبان المکرم ۱۴۳۷ ہوگی۔نئے چاند کی پیداِئش پاکستان کے معیاری وقت کے مطابق صبح ۸ بجے ہوگی۔ پیدائش قمر کا یہ تخمینہ علم فلکیات کے کلیوں کی بدولت لگایا جاتا ہے۔ اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ فلکیات کے کلیوں سے ہی  آفتاب کے طلوع و غروب کے نقشہ جات تیار ہوتے ہیں، لہٰذا فلکیات کا علم چاند کی پیدائش بھی ریاضی طور پر درست بتائے گا۔
تو صاحب کراچی میں کل غروب آفتاب کے وقت چاند کی عمر گیارہ گھنٹوں سے کچھ اوپر ہوگی۔ اتنی عمر کا چاند دکھائی نہیں دے سکتا۔مزید یہ کہ سورج کے ڈوبنے کے پندرہ منٹ کے بعد چاند بھی ڈوب جائے گا۔ یہ بات سب جانتے ہیں کہ غروب آفتاب کے ہوتے ہی اندھیرا نہیں ہو جاتا بلکہ خاصی روشنی رہتی ہے۔ ایسے میں کسی بھی فلکی جرم کو دیکھنا ناممکن ہے۔
واضح رہے کہ پشاور میں غروب آفتاب اور مہتاب میں فرق گیارہ منٹ کا ہے، یعنی کراچی کے دورانیہ سے بھی کم لہٰذا وہاں تو چاند نظر آنا گدھے کے سر پر سینگ اُگ آنے کے مترادف ہوگا۔
ہمارا اس بلاگ کے لکھنے کا مقصد محض سائنس کے حقائق بیان کنا ہے، کسی بھی مذہبی، سیاسی یا معاشرتی گرہ یا طبقہ پر تنقید کرنا نہیں۔ اس کے باوجود بھی اگر کل ملک میں چاند نظر آنے کا اعلان ہوا تو وہ سائنسی اعتبار سے ناقص ہوگا۔

ہمارے آسٹریلیا کے دوستوں کے لئے بھی یہ بتاتے چلیں کہ کل وہاں بھی چاند کا نظر آنا نا ممکن ہے اور اگر وہاں رمضان المبارک کے آغاز کا اعلان ہوتا ہے تو وہ محض پیدائش قمر کے لحاظ سے ہو گا۔

Monday, February 15, 2016

تصویرِ ہمدرداں ۔ جنے لہور نئی ویکھیا

پس منظر کے لئے گذشتہ بلاگ یہاں پڑھیں۔

یہ جنوری سن دو ہزار چار کے آخری ہفتے کا ذکر ہے کہ ہم بحیثیت انچارج اگزیمینشن سیل کے مسسز گلزار کے ساتھ لاہور روانہ ہوئے۔ اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ حکیم صاحب کے نام سے جاری کردہ وظائف دینے کی خاطر لاہور کے ہونہاروں کا  تحریری اور زبانی امتحان لیا جائے اور فاونڈیشن کو نتیجہ ارسال کیا جائے۔ امتحانی پرچے خصوصی طور پر تیار کئے گئے تھے- میٹرک پاس اور انٹر پاس امیدواران کی فہرست کے مطابق پرچے اور امتحانی مواد ہم نے پیک کروا دیا تھا۔
چھبیس جنوری کی شام کو مسسزگلزار اور ہمیں، یامین ڈرائیور نے جناح انٹرنیشنل کے ڈومیسٹک ٹرمینل پر سرکاری گاڑی میں چھوڑا۔ یامین، ہمدرد میں چلتے پھرتے اخبار کا درجہ رکھتے تھے، صاحب لوگوں کے ڈرائیور ہونے کی وجہ سے ان سے ہم لوگ تفریحا یہ پوچھا کرتے کہ اب کے برس تنخواہ میں کتنا اضافہ متوقع ہے، یا  آج کل ایڈمینسٹریشن اور میڈم کے حالات کیسے چل رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان کی گفتگو غور سے سننا پڑتی تھی کیونکہ انکے بولنے کا ایک خاص انداز تھا کہ وہ معمولی بات کو بھی غیر معمولی بنا دیتے تھے۔
پرواز کا وقت ساڑھے چھ بجے کا تھا مگر فنی خرابی کے باعث پینتیس منٹ کی تاخیر سے اڑان ہوئی۔ فضائی میزبان، عمر شریف کے لطیفوں کی ہو بہو تصویر تھیں کہ جن سے جام بھی طلب کیا جاتا تو تتے پانی کا مزہ دیتا۔ اس کے برعکس کھانا لذ یذ تھا۔ اتنے میں لاہور آن پہنچا اور ہمعلامہ اقبال کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے جہاں سردی بارہ درجہ سینٹی گریڈ تھی۔ ہمارے استقبال کے لئے جناب علی بخاری صاحب موجود تھے، ان کا نام گو کہ ہمارے پی ٹی انسٹرکٹر الحاج اصغر علی بخاری سے ملتا ہے مگر ہمارے بخاری صاحب والی عادات ان میں مفقود تھیں۔
علی بخاری نے ہمیں گاڑی میں لادا تو ہم لوگوں نے چھوٹتے ہی کسی کتب خانہ جانے کی فرمائش داغ دی، اس پر انھوں نے ہمیں تحیر آمیز نگاہوں سے گھورا مگر لاہوری گرم جوشی کے ساتھ فرض میزبانی ادا کرتے ہوئے لالہ زار کتاب گھر پر گاڑی رکوائی، ہم وہاں انٹر، میٹرک کی ڈھیروں کتابیں خریدیں اور دو ہزار کا بل ایڈمنسٹریٹر حافظ پرویز صاحب کے لئے تحفتا رکھ لیا۔
ہمارا پڑاو مرکز ہمدرد، لاہور کی عمارت میں تھا۔ مسسز گلزار کو حکیم صاحب کے زیر استعمال رہنے والا کمرہ دیا گیا اور ہمیں اسی کمرے کے بالمقابل ٹھکانہ ملا۔ سامان وغیرہ ترتیب دینے کے بعد مسسز گلزار کے ساتھ خشک میواجات کی ضیافت اڑائی اور ہماری اور عمارت کی چوکیداری پر مامور گارڈ کے تعاون سے چائے پی۔ آدھی رات کے قریب یہ سطور قلمبند کیں اور سو پڑے۔
اگلی صبح قریبا ساڑھے ساتھ بجے باقاعدہ بیدار ہوئے، میڈم کے ہاتھ کی بنائی کافی پی اور باہر نکل گئے، سردی ایسی تھی کہ اس سے لطف اندور ہوا جا سکتا تھا۔لب سڑک ایک مسجد کی محراب سے سمتوں کا تعین کیا تو پتہ چلا کہ مرکز ہمدرد کا مرکزی دروازہ مغرب کی جانب ہے جبکہ سڑک لٹن روڈ شمالا جنوبا گزرتی ہے۔
ہمدرد مرکز سے جنوبی سمت جو سڑک سیدھی نکلتی ہے وہ پرانی انارکلی جاتی ہے، ہم اسی سڑک پر واقع ایک چھوٹے سے 'شان ہوٹل' میں بیٹھے اور ناشتہ کیا۔
مسسز گلزار سےجو قارئین واقف ہیں انھیں انکی خصوصیات بتلانے کی ضرورت نہیں، پر نافاقف قارئین اتنا جان لیں کہ یہ  اپنے زمانے کی ٹیبل ٹینس کی قومی چیمپیئن ، تاریخ  کی استاد، سینٹ جوزف کالج کراچی کی پرنسپل اور کراچی کی پرانی رہائشی ہیں، خاصی دنیا دیکھ چکی ہیں اور خاصی پریکٹیکل خاتون ہیں۔ اردو میں انکی گفتگو محترمہ بینظیر بھٹو کی اردو کی یاد دلاتی ہے۔

جاری ہے

نوٹ: ان دنوں ہم انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی سہولیات سے محروم تھے اور سفروں کے دوران باقاعدہ ڈائری لکھا کرتے تھے۔ یہ بلاگ پرانی ڈائری کی مدد سے تحریر کیا جا رہا ہے۔

Tuesday, February 2, 2016

تصویر ہمدرداں،قصہ معروضی امتحانات کا

اس سلسلے کا آخری بلاگ ہم نےپانچ برس پہلے تحریر کیا تھا۔آج اس سلسلہ کو دوبارہ شروع کرتے ہیں اور گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑاتے ہیں۔
حکیم محمد شہید کی یاد میں ہمدرد فاونڈیشن نے میٹرک اور انٹر پاس طلبہ و طالبات کے لئے دو دو سالوں کے وظیفہ کا اعلان کیا تھا، پہلے سال یہ وظیفے صرف کراچی کے طلبہ و طالبات کو دیئے گئے، بعد میں ان کا دائرہ لاہور اور پشاور تک بڑھا دیا گیا۔ بورڈ کے سالانہ امتحان میں اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں اور معاشی اعتبار سے مستحق طلبہ و طالبات کو یہ وظائف دیئے جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ سن ۲۰۰۳ کے آخری ایام کا ذکر ہے کہ مسز گلزار کے پاس فاونڈیشن سے خط آیا جس میں ان وظاِئف کی تفصیل تھی اور ان سے سفارشات طلب کی گئی تھیں کہ متذکرہ وظائف کس طور پر دیئے جائیں؟ ہم ان دنوں کالج اور اسکول میں معروضی سوالات پر مشتمل کوئز کرانے میں ماہر ہو چکے تھے اور مسسز گلزار نے ہمیں داخلہ امتحان اور معروضی مقابلوں کا انچارج بنا دیا تھا۔
سن ۱۹۹۸ میں جب ہم ہمدرد میں استاد ہوئے تھے کالج میں داخلے محض امیدوار کا روبرو انٹرویو لینے پر ہوا کرتے تھے۔ ہمارے ہمدرد میں قدم جمنے کے بعد، محترم طارق ظفر اور محترم حسن احمر کے مشورہ پر یہ ہم ہی تھے جنھوں نے مسسزگلزار سے ایک فیلڈ ٹرپ کے دوران یہ بات منوائی کہ آئندہ کالج کے داخلے تحریری امتحان کے بغیر نہیں ہوں گے۔
پنجابی کی کہاوت ہے کہ 'جیہڑا بولے اوہی کنڈا کھولے'، سو مسسز گلزار نے ہمیں یہ ذمہ داری سونپی کہ تحریری امتحان کا مواد تیار کرو۔ ہم نے ہر مضمون کے استاد سے معروضی سوالات تیار کروائے اور انھیں کمپیوٹر پر منتقل  کر کےان کے جوابات کی الگ کنجی یعنی 'کی' وضع کی۔ یہ ساری ڈیزائنگ ہماری تھی۔ عزیزم صالح جتوئی سے ہم نے ایک ٹرانسیرنسی بنوائی جو جوابات کے نشانات پر مشتمل تھی کہ اسکی مدد سے جوابی پرچہ میں الف، ب، ج، د، پر لگائے گئے امیدوار کے نشانات با آسانی جانچے جا سکتے تھے اور محض چند لمحوں میں صحیح جوابات کی گنتی ہو سکتی تھی۔
اس ساری تفصیل کے بیان کرنے کے دو مقاصد ہیں اول یہ کہ آئندہ کے بلاگز کا پس منظر واضح ہو سکے اور دوسرا یہ کہ ہم پندرہ سولہ برس پہلے کی بات کر رہے ہیں کہ جب ہمدرد اسکول میں کمپیوٹر گنتی کے تھے اور انٹرنیٹ ندارد تھا۔ مزید یہ کہ کالج کی عمر تین چار برس تھی سو جو نظام وضح کیا جا رہا تھا وہ عدم سے وجود پا رہا تھا اور اس میں مسسز گلزار کا ہم پر اعتبار شامل تھا۔
جب یہ سارا عمل پایہ تکمیل تک پہنچا تو ہم نے داخلہ فارمز کی بھی فہرست تیار کی اور امیدواران کی تعداد اور منتخب کردہ مضامین کے مطابق پرچوں کی کاپیاں تیار کروائیں اور تحریری امتحان کے مکمل لوازمات کے ساتھ امتحان منعقد کیا۔ ممتحن کی ڈیوٹیز اور امتحانی ہالز کے نمبر تک ہم نے خود ترتیب دیئے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ نتیجہ اسی دن مرتب دیا۔
اس ابتدائی معروضی طرز کے امتحان کی کامیابی کے بعد مسسز گلزار نے ہمیں زبانی اور معاشی داد کےساتھ ساتھ یہ ذمہ داری مستقل طور پر سونپ دی۔ ہم تحریری معروضی  کوئز کرانے کے انچارج مقرر کر دیئے گئے اور اس کام کا ماہانہ معاوضہ ہماری تنخواہ میں شامل کردیا گیا۔ اس وقت ہم سمیت تمام اساتذہ تنخواہ کے ہندسوں کو کوئی خاص اہمیت نہ دیتے تھے بلکہ کام کرنا چاہتے تھے یہی وہ خلوص تھا کہ جو ہمدرد کی بنیادوں میں حکیم صاحب کے ہاتھوں بھرا تھا۔ ہم کبھی بھی اپنے آپ کو ملازم نہیں سمجھتے تھے کیونکہ مسسز گلزار تمام اساتذہ کو ایک کنبہ کی مانند رکھتی تھیں۔ اسلئے کوئی نوکری نہیں کرتا تھا بلکہ دل سے کام کرتا تھا۔
آنے والے برسوں میں داخلہ امتحان کے علاوہ ہر جماعت اور کلیہ کے مطابق معروضی طرز امتحان کے الگ الگ پرچے تخلیق کر لئے گئے اور ان کا تمام ریکارڈ ترتیب دیا گیا، حتٰی کہ ہر پرچے کا الگ نمبر شمار اس پر درج ہوتا تاکہ کوئی مواد ادھر ادھر نہ ہو سکے۔

اس تمام پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے قارئین اگلے بلاگ کا انتظار فرمائیں۔