Friday, October 23, 2020

فریدی سیریز پر تبصرہ

 ہمارا پچھلا بلاگ ابن صفی کی عمران سیریز پر تھا، اس بار ہم انکی فریدی سیریز پر بات کریں گے۔

ابن صفی اپنے ہر ناول کا دیباچہ پیشرس کے عنوان سے لکھا کرتے تھے۔ اپنے ابتدائی دور کے ایک پیشرس میں وہ لکھتے ہیں کہ ان کے زمانے میں زیادہ تر مصنفین اردو میں ریوایتی عشق و محبت کی داستانوں کو بیان کرتے تھے یا بازاری قسم کے گھٹیا ناولز عام تھے۔ گنتی کے لکھاری انگریزی یا دیگر زبانوں کے شاہکاروں کے تراجم کرتے تھے مگر سری یعنی جاسوسی ادب اردو میں ناپید تھا۔ ایک محفل میں انھیں کسی بزرگ ادیب نے یہ کہ کر ٹہوکا دیا کہ میاں جاسوسی ادب اردو میں صرف جنسی کہانیوں میں ہی ملتا ہے۔ 
ابن صفی نے اس بات کو ایک چیلنج کے طور پر قبول کیا اور کمال احمد فریدی جیسا لازوال کردار تخلیق کر ڈالا۔ فریدی کہ جو شروع کے ناولز میں اپنے ارتقائی مراحل سے گزرتا ہے، اولا انسپکٹر فریدی کہلاتا ہے اور ترقی کر کے اعزازی طور پر کرنل بنا دیا جاتا ہے، چھوٹے موٹے مجرموں پر ہاتھ نہیں ڈالتا مگر ام اور ملک دشمنوں کو کہیں کا نہیں چھوڑتا۔ اعصابی جنگ ہو یا ہاتھ پیر چلانے ہوں، ہیلی کاپٹر اڑانا ہو یا پیرا شوٹ سے چھلانگ لگانا ہوں وہ ہر میدان میں اپنا لوہا منوایا نظر آتا ہے۔ سنگ ہی آرٹ کی بدولت گولیوں سے بچتا ہے تو میک اپ اور آواز بدلنے کے فنون کے باعث کوئی بھی روپ دھارنے کی مہارت رکھتا ہے۔ سانپوں کو پالتا ہے اور اپنی کوٹھی میں سانئنسی تجربہ گاہ بھی رکھتا ہے، مطالعہ میں غرق ہوتا ہے تو اپنے کتب خانہ میں گھنٹوں بسر کر لیتا ہے۔ ڈانس فلور پر ہوتا ہے تو دیسی بدیسی رقص کی تمام حرکات و سکنات انجام دے ڈالتا ہے۔ غرض انگریزی مقولہ یو آسک فار اٹ، وی ہیو اٹ کے مصداق کبھی بھی کچھ بھی کر سکتا ہے۔
اس کا ساتھی سارجنٹ ساجد حمید جو بعد میں کیپٹن حمید کے نام سے جانا جاتا تھا، کسی طور بھی کرنل فریدی سے کم نہیں۔ کرنل فریدی کو اپنے بڑے بھائی اور باپ کا درجہ دیتا ہے بلکہ پیار سے فادر ہارڈ اسٹون کہتا ہے۔ ہارڈ اسٹون اس وجہ سے کہ فریدی صنف مخالف سے جتنا دور بھاگتا ہے حمید اتنا ہی لڑکیوں میں مقبول ہے اور ان سے ہمہ وقت دوستی کا خواہاں رہتا ہے۔ مگر یہ دونوں کردار اپنی طبیعتوں میں تضادات کے باوجود ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ فریدی مجرموں کے لئے یقینا ہارڈ اسٹون ہے مگر حمید کو اگر ذرا سی بھی خراش آجائے تو ایک پر شفقت باپ اور زخم دینے والوں کے لئے بھوکا شیر بن جاتا ہے۔
ان دونوں میں ایک قدر مشترک یہ ہے کہ علی عمران کی طرح یہ دونوں بھی صنف مخالف پر بری نظر نہیں ڈالتے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ناول میں کیپٹن حمید کو ایک کیس میں کسی لڑکی کے ساتھ میک اپ میں ایک ہی کمرے میں مجبورا رات گزارنا پڑتی ہے تو وہ نیند کی گولیاں کھا کر سو پڑتا ہے کہ رات میں کہیں اس سے کوئی اخلاق سے گری ہوئی حرکت نہ ہوجائے۔
ہمارے اس بلاگ کا مقصد فریدی اور حمید کے قصیدے بیان کرنا نہیں ہے بلکہ ہم ابن صفی کے قلم کو خراج تحسین پیش کرنا چاہتے ہیں کہ جس کی مدد سے انھوں نے نوجوان نسل کی کردار سازی کی۔
اگر آپ ہمارے بیان کی تصدیق کرنا چاہیں تو ان کے فریدی سیریز کے ناولز کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں۔

Monday, September 21, 2020

عمران سیریز پر تبصرہ

جب سے پرانے گانوں کو نئے انداز میں پیش کرنے کا رواج ہوا ہے اس سے بھی پہلے سے کسی کے تخلیق کردہ کرداروں پر مشتمل کہانیاں لکھنے کا سلسلہ چلا آرہا ہے۔ سن اسی اور نوے کی دہائی میں جہاں ہم مرحوم اشتیاق احمد کی انسپکٹر جمشید سیریز کے دلدارہ تھے وہیں مظہر کلیم کی عمران سیریز کے بھی رسیا تھے اور انہی کو اس کردار کا خالق سمجھتے تھے، بھولے بھالے دور کے معصوم قاری تھے نا، شاید اسی لئے۔
مگر جب شعور و آگاہی کی منازل طے کیں تو یہ عقدہ کھلا کہ علی عمران کا کردار جناب اسرار احمد المعروف ابن صفی مرحوم کی تخلیق ہے۔
ہم اپنے طالب علمی کے زمانے میں ابن صفی کے شاہکاروں تک رسائی حاصل نہیں کر پائے، مگر شادی بچوں اور نوکری کے بعد اکیسویں صدی میں انکی عمران سیریز کے تمام ناول پڑھ ڈالے۔
سن 1955 سے 1980 تک کے 25 برسوں میں انھوں نے 120 ناول لکھے جن میں مرکزی کردار علی عمران ہی تھا۔ 
ہم کیونکہ سائنس کے طالب علم ہیں اور ادب میں سائنس فکشن سے واقف ہیں اس لئے یہ بات پورے وثوق سے کہ سکتے ہیں کہ ابن صفی نے پچاس اور ساٹھ کی دہائی میں جن سائنسی خیالات کو بطور فکشن پیش کیا وہ آج فیکٹ یعنی حقیقت کا روپ دھار چکے ہیں۔ مثلا ایک ناول میں عمران لکڑی کے ایک تختہ پر بجلی کے تاروں کی مختلف لمبائی سے اینٹینا بنا کر کسی کی گفتگو سننا چاہتا ہے۔ یہ خیال آج کی سائنس میں ملٹیپل اینٹینا ایرے کے طور پر موجود ہے جس کی مدد سے ایک مخصوص تعدد کا حیطہ یعنی فریکوئنسی رینج معلوم کیا جا سکتا ہے۔
ادبی اعتبار سے ان کے کرداروں کی تہیں ہیں۔ علی عمران کے کردار کی جہتیں ہر ناول میں ایک کے بعد ایک کر کے سامنے آتی ہیں۔ اگر اس سیریز کے ناول ترتیب وار پڑھے جائیں تو ان میں ایک ربط ملتا ہے جو قاری کو اس سلسلے سے جڑے رہنے پر مجبور کرتا ہے۔
سسپنس کی بات کریں تو ان کا انداز تحریر کسی بھی طور آگاتا کرسٹی سے کم نہیں، ایکشن میں بھی ابن صفی اپنے کرداروں کو مافوق الفطرت نہیں بناتے بلکہ انھیں زخم بھی لگتے ہیں اور وہ بے ہوش بھی ہوتے ہیں۔
بظاہر احمق نظر آنے والا علی عمران جہاں ایک طرف سوپر فیاض کو بلیک میل کرتا ہے تو دوسری طرف ایکسٹو کا کردار ادا کرتا ہے، ایک جانب اپنے باورچی سے مونگ کی دال بنانے پر واویلا کرتا ہے تو دوسری جانب جولیا کی چکنی چوڑی باتوں سے کوسوں دور بھاگتا ہے۔ لیکن ان تمام تضادات کے باوجود ایک چیز جو ان کے کرداروں کو دوسروں سے ممتاز بناتی ہے وہ ہمارے ادب میں موجود روایتی عشق و محبت سے فرار ہے۔ ان کے کرداروں بالخصوص علی عمران کا صنف مخالف سے کوسوں دور بھاگنا اور اپنے دامن کو پاک صاف رکھنا ایسے اوصاف ہیں جو ہمیں جیمز بانڈ جیسے کرداروں میں بھی نہیں ملتے، یہاں یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم جیمز بانڈ پر تنقید کر رہے۔
کم کہے کو زیادہ جانیں اور اگر اب تک آپ ابن صفی کے ناول نہیں پڑھ سکے تو وقت نکال کر اول تا آخر پڑھ ڈالئے ہمارا دعوی ہے کہ بیسویں صدی کے ناول آپ کو اکیسویں صدی کے لکھے ہوئے لگیں گے۔
آئندہ ہم ابن صفی کی جاسوسی دنیا یعنی فریدی سیریز کا ذکر کریں گے۔

Monday, February 15, 2016

تصویرِ ہمدرداں ۔ جنے لہور نئی ویکھیا

پس منظر کے لئے گذشتہ بلاگ یہاں پڑھیں۔

یہ جنوری سن دو ہزار چار کے آخری ہفتے کا ذکر ہے کہ ہم بحیثیت انچارج اگزیمینشن سیل کے مسسز گلزار کے ساتھ لاہور روانہ ہوئے۔ اس سفر کا مقصد یہ تھا کہ حکیم صاحب کے نام سے جاری کردہ وظائف دینے کی خاطر لاہور کے ہونہاروں کا  تحریری اور زبانی امتحان لیا جائے اور فاونڈیشن کو نتیجہ ارسال کیا جائے۔ امتحانی پرچے خصوصی طور پر تیار کئے گئے تھے- میٹرک پاس اور انٹر پاس امیدواران کی فہرست کے مطابق پرچے اور امتحانی مواد ہم نے پیک کروا دیا تھا۔
چھبیس جنوری کی شام کو مسسزگلزار اور ہمیں، یامین ڈرائیور نے جناح انٹرنیشنل کے ڈومیسٹک ٹرمینل پر سرکاری گاڑی میں چھوڑا۔ یامین، ہمدرد میں چلتے پھرتے اخبار کا درجہ رکھتے تھے، صاحب لوگوں کے ڈرائیور ہونے کی وجہ سے ان سے ہم لوگ تفریحا یہ پوچھا کرتے کہ اب کے برس تنخواہ میں کتنا اضافہ متوقع ہے، یا  آج کل ایڈمینسٹریشن اور میڈم کے حالات کیسے چل رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ان کی گفتگو غور سے سننا پڑتی تھی کیونکہ انکے بولنے کا ایک خاص انداز تھا کہ وہ معمولی بات کو بھی غیر معمولی بنا دیتے تھے۔
پرواز کا وقت ساڑھے چھ بجے کا تھا مگر فنی خرابی کے باعث پینتیس منٹ کی تاخیر سے اڑان ہوئی۔ فضائی میزبان، عمر شریف کے لطیفوں کی ہو بہو تصویر تھیں کہ جن سے جام بھی طلب کیا جاتا تو تتے پانی کا مزہ دیتا۔ اس کے برعکس کھانا لذ یذ تھا۔ اتنے میں لاہور آن پہنچا اور ہمعلامہ اقبال کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اترے جہاں سردی بارہ درجہ سینٹی گریڈ تھی۔ ہمارے استقبال کے لئے جناب علی بخاری صاحب موجود تھے، ان کا نام گو کہ ہمارے پی ٹی انسٹرکٹر الحاج اصغر علی بخاری سے ملتا ہے مگر ہمارے بخاری صاحب والی عادات ان میں مفقود تھیں۔
علی بخاری نے ہمیں گاڑی میں لادا تو ہم لوگوں نے چھوٹتے ہی کسی کتب خانہ جانے کی فرمائش داغ دی، اس پر انھوں نے ہمیں تحیر آمیز نگاہوں سے گھورا مگر لاہوری گرم جوشی کے ساتھ فرض میزبانی ادا کرتے ہوئے لالہ زار کتاب گھر پر گاڑی رکوائی، ہم وہاں انٹر، میٹرک کی ڈھیروں کتابیں خریدیں اور دو ہزار کا بل ایڈمنسٹریٹر حافظ پرویز صاحب کے لئے تحفتا رکھ لیا۔
ہمارا پڑاو مرکز ہمدرد، لاہور کی عمارت میں تھا۔ مسسز گلزار کو حکیم صاحب کے زیر استعمال رہنے والا کمرہ دیا گیا اور ہمیں اسی کمرے کے بالمقابل ٹھکانہ ملا۔ سامان وغیرہ ترتیب دینے کے بعد مسسز گلزار کے ساتھ خشک میواجات کی ضیافت اڑائی اور ہماری اور عمارت کی چوکیداری پر مامور گارڈ کے تعاون سے چائے پی۔ آدھی رات کے قریب یہ سطور قلمبند کیں اور سو پڑے۔
اگلی صبح قریبا ساڑھے ساتھ بجے باقاعدہ بیدار ہوئے، میڈم کے ہاتھ کی بنائی کافی پی اور باہر نکل گئے، سردی ایسی تھی کہ اس سے لطف اندور ہوا جا سکتا تھا۔لب سڑک ایک مسجد کی محراب سے سمتوں کا تعین کیا تو پتہ چلا کہ مرکز ہمدرد کا مرکزی دروازہ مغرب کی جانب ہے جبکہ سڑک لٹن روڈ شمالا جنوبا گزرتی ہے۔
ہمدرد مرکز سے جنوبی سمت جو سڑک سیدھی نکلتی ہے وہ پرانی انارکلی جاتی ہے، ہم اسی سڑک پر واقع ایک چھوٹے سے 'شان ہوٹل' میں بیٹھے اور ناشتہ کیا۔
مسسز گلزار سےجو قارئین واقف ہیں انھیں انکی خصوصیات بتلانے کی ضرورت نہیں، پر نافاقف قارئین اتنا جان لیں کہ یہ  اپنے زمانے کی ٹیبل ٹینس کی قومی چیمپیئن ، تاریخ  کی استاد، سینٹ جوزف کالج کراچی کی پرنسپل اور کراچی کی پرانی رہائشی ہیں، خاصی دنیا دیکھ چکی ہیں اور خاصی پریکٹیکل خاتون ہیں۔ اردو میں انکی گفتگو محترمہ بینظیر بھٹو کی اردو کی یاد دلاتی ہے۔

جاری ہے

نوٹ: ان دنوں ہم انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا کی سہولیات سے محروم تھے اور سفروں کے دوران باقاعدہ ڈائری لکھا کرتے تھے۔ یہ بلاگ پرانی ڈائری کی مدد سے تحریر کیا جا رہا ہے۔

Tuesday, February 2, 2016

تصویر ہمدرداں،قصہ معروضی امتحانات کا

اس سلسلے کا آخری بلاگ ہم نےپانچ برس پہلے تحریر کیا تھا۔آج اس سلسلہ کو دوبارہ شروع کرتے ہیں اور گردش ایام کو پیچھے کی طرف دوڑاتے ہیں۔
حکیم محمد شہید کی یاد میں ہمدرد فاونڈیشن نے میٹرک اور انٹر پاس طلبہ و طالبات کے لئے دو دو سالوں کے وظیفہ کا اعلان کیا تھا، پہلے سال یہ وظیفے صرف کراچی کے طلبہ و طالبات کو دیئے گئے، بعد میں ان کا دائرہ لاہور اور پشاور تک بڑھا دیا گیا۔ بورڈ کے سالانہ امتحان میں اعلٰی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والوں اور معاشی اعتبار سے مستحق طلبہ و طالبات کو یہ وظائف دیئے جانے کا سلسلہ شروع ہوا۔ یہ سن ۲۰۰۳ کے آخری ایام کا ذکر ہے کہ مسز گلزار کے پاس فاونڈیشن سے خط آیا جس میں ان وظاِئف کی تفصیل تھی اور ان سے سفارشات طلب کی گئی تھیں کہ متذکرہ وظائف کس طور پر دیئے جائیں؟ ہم ان دنوں کالج اور اسکول میں معروضی سوالات پر مشتمل کوئز کرانے میں ماہر ہو چکے تھے اور مسسز گلزار نے ہمیں داخلہ امتحان اور معروضی مقابلوں کا انچارج بنا دیا تھا۔
سن ۱۹۹۸ میں جب ہم ہمدرد میں استاد ہوئے تھے کالج میں داخلے محض امیدوار کا روبرو انٹرویو لینے پر ہوا کرتے تھے۔ ہمارے ہمدرد میں قدم جمنے کے بعد، محترم طارق ظفر اور محترم حسن احمر کے مشورہ پر یہ ہم ہی تھے جنھوں نے مسسزگلزار سے ایک فیلڈ ٹرپ کے دوران یہ بات منوائی کہ آئندہ کالج کے داخلے تحریری امتحان کے بغیر نہیں ہوں گے۔
پنجابی کی کہاوت ہے کہ 'جیہڑا بولے اوہی کنڈا کھولے'، سو مسسز گلزار نے ہمیں یہ ذمہ داری سونپی کہ تحریری امتحان کا مواد تیار کرو۔ ہم نے ہر مضمون کے استاد سے معروضی سوالات تیار کروائے اور انھیں کمپیوٹر پر منتقل  کر کےان کے جوابات کی الگ کنجی یعنی 'کی' وضع کی۔ یہ ساری ڈیزائنگ ہماری تھی۔ عزیزم صالح جتوئی سے ہم نے ایک ٹرانسیرنسی بنوائی جو جوابات کے نشانات پر مشتمل تھی کہ اسکی مدد سے جوابی پرچہ میں الف، ب، ج، د، پر لگائے گئے امیدوار کے نشانات با آسانی جانچے جا سکتے تھے اور محض چند لمحوں میں صحیح جوابات کی گنتی ہو سکتی تھی۔
اس ساری تفصیل کے بیان کرنے کے دو مقاصد ہیں اول یہ کہ آئندہ کے بلاگز کا پس منظر واضح ہو سکے اور دوسرا یہ کہ ہم پندرہ سولہ برس پہلے کی بات کر رہے ہیں کہ جب ہمدرد اسکول میں کمپیوٹر گنتی کے تھے اور انٹرنیٹ ندارد تھا۔ مزید یہ کہ کالج کی عمر تین چار برس تھی سو جو نظام وضح کیا جا رہا تھا وہ عدم سے وجود پا رہا تھا اور اس میں مسسز گلزار کا ہم پر اعتبار شامل تھا۔
جب یہ سارا عمل پایہ تکمیل تک پہنچا تو ہم نے داخلہ فارمز کی بھی فہرست تیار کی اور امیدواران کی تعداد اور منتخب کردہ مضامین کے مطابق پرچوں کی کاپیاں تیار کروائیں اور تحریری امتحان کے مکمل لوازمات کے ساتھ امتحان منعقد کیا۔ ممتحن کی ڈیوٹیز اور امتحانی ہالز کے نمبر تک ہم نے خود ترتیب دیئے۔ سونے پہ سہاگہ یہ کہ نتیجہ اسی دن مرتب دیا۔
اس ابتدائی معروضی طرز کے امتحان کی کامیابی کے بعد مسسز گلزار نے ہمیں زبانی اور معاشی داد کےساتھ ساتھ یہ ذمہ داری مستقل طور پر سونپ دی۔ ہم تحریری معروضی  کوئز کرانے کے انچارج مقرر کر دیئے گئے اور اس کام کا ماہانہ معاوضہ ہماری تنخواہ میں شامل کردیا گیا۔ اس وقت ہم سمیت تمام اساتذہ تنخواہ کے ہندسوں کو کوئی خاص اہمیت نہ دیتے تھے بلکہ کام کرنا چاہتے تھے یہی وہ خلوص تھا کہ جو ہمدرد کی بنیادوں میں حکیم صاحب کے ہاتھوں بھرا تھا۔ ہم کبھی بھی اپنے آپ کو ملازم نہیں سمجھتے تھے کیونکہ مسسز گلزار تمام اساتذہ کو ایک کنبہ کی مانند رکھتی تھیں۔ اسلئے کوئی نوکری نہیں کرتا تھا بلکہ دل سے کام کرتا تھا۔
آنے والے برسوں میں داخلہ امتحان کے علاوہ ہر جماعت اور کلیہ کے مطابق معروضی طرز امتحان کے الگ الگ پرچے تخلیق کر لئے گئے اور ان کا تمام ریکارڈ ترتیب دیا گیا، حتٰی کہ ہر پرچے کا الگ نمبر شمار اس پر درج ہوتا تاکہ کوئی مواد ادھر ادھر نہ ہو سکے۔

اس تمام پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے قارئین اگلے بلاگ کا انتظار فرمائیں۔

Friday, November 27, 2015

اشتیاق احمد کے نام

 از کراچی
27 نومبر 2015
پیارے انکل اشتیاق احمد
اسلام علیکم،
امید ہے کہ آپ جنت میں ہونگے، دل چاہا کہ خراج عقیدت کے طور پر آپ پر ایک مضمون لکھوں، مگر پھر سوچا کہ کیوں نا آپ کو براہ راست ہی مخاطب کر لیا جائے۔ آپ کی حیات تو سسپنس سے بھرپور کہانیوں پر مشتمل رہی لیکن آپکی وفات بھی آپ کے ناولز کے کیسسز کی طرح تفتیش کا شکار ہو گئی۔
سترہ نومبر کو بورڈنگ کرا کے  آپ کراچی کے ہوائی اڈے سے ملکِ عدم کے سفر پر چل دیئے اور ہمارے جیسے بہت سے قارئین کو سوگوار چھوڑ گئے۔ 
'دھت تیری کی'، ' یہ تو کسی ناول کا نا م ہو سکتا ہے'، 'جلتی ہے میری جوتی' جیسے تکیہ کلام اور ان کے ادا کرنے والے کردار، محمود، فاروق اور فرزانہ یتیم ہوگئے ہمیں ڈر ہے کہ کہیں یہ یتیم کسی کاروباری مصنف کے ہتھے نہ چڑھ جائیں اور وہ انھیں اپنی کمائی کا دھندہ بنا ڈالے۔
آپ کے لکھے ناولز کے ذریعہ ناشرین نے تو خوب دولت کمائی اور آپ محض دال روٹی پر ہی رہے ۔ کیا کریں کہ آپ کی پیدائش آپ کے اختیار میں نہ تھی ورنہ اگر آپ فرنگیوں کے ملک میں ہوتے توہر طور سے جے کے رولنگ کے ہم پلہ ہوتے۔
ہماری آپ سے ملاقات کی خواہش کبھی پوری نہ ہو سکی، مگرہمیں یہ شرف ضرور حاصل ہے کہ آپ ہمارے لکھے خطوط کا جواب دیتے تھے۔
یہ سن چھیاسی، ستاسی کا ذکر ہے کہ اسکول میں ہم سے سینیئر طلبہ آپ کے ناول پڑھا کرتے تھے ایک آدھ بار ان سے مستعار لے کر آپ کے ناول پڑھنا شروع کئے تو پھر انکا چسکا ہی پڑ گیا۔
اس زمانے میں ہمیں روزانہ ایک اٹھنی جیب خرچ کے لئے ملا کرتی تھی اور محلے کی لائبریری سے آپ کے ناول ایک روپے یومیہ کرائے پر ملا کرتے تھے. ہم اور ہمارے برادر خرد اپنے جیب خرچ کے پیسے ملا کر ہر نیا آنے والا ناول لائبریری سے لے کر پڑھتے اور آئندہ آنے والے ناولزکا انتظار کرتے۔
آپکی 'دو باتیں' اور'ناول پڑھنے سے پہلے'سے لے کر اگلے ناول کی جھلکیاں ایک ہی نشست میں پڑھنے کے ہم نے کئی ریکارڈ قائم کیے. مزہ تب آتا جب آپ کا لکھا کوئی خاص نمبر شائع ہوتااور ہم موسم گرما کی تعطیلات میں رات دیر تک جاگ کر اسے ختم کرنے کی تگ و دو کرتے۔
آپ کے کرداروں کی نوک جھونک اور محاورات کی جنگ نے ہماری اردو خوب نکھاری اور ہم اسکول میں نہایت روانی کے ساتھ اردو کی بلند خوانی کرتے تھے، واضح رہے کہ اردو ہماری مادری زبان نہیں ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہمیں بھی کچھ لکھنے کی عادت ہوئی تو آپ کا اندازِ تحریر ہمارے سامنے تھا- آج اگر ہم تھوڑا بہت لکھ سکتے ہیں تو اسکی وجہ بھی یہی ہے آپ کے جملوں کی روانی نے ہمیں اس جانب راغب کیا۔
یاد آیا آپ نے چاند ستارے کے نام سے ایک ماہنامہ بھی جاری کیا تھا، تب تک ہمارا جیب خرچ بڑھ چکا تھا اور ہم ہر ماہ یہ رسالہ خریدا کرتے تھے۔ مگر آپکا یہ رسالہ شاید مالی مشکلات کا شکار ہو گیا اور جلد ہی آپ نے اسے بند کر دیا.شیخ غلام علی اینڈ سنز سے لے کر اٹلانٹس پبلیکیشنز تک آپ لکھاری ہی رہے اور کاروباری نہ بن سکے۔
ہمیں اشتیاق پبلیکیشنز کا ساندہ کلاں والا پتہ زبانی یاد ہوگیا تھا جو آپ کے ناولز میں درج ہوتا تھا اور اس پر ہم آپکوخط لکھتے تھے۔
جاسوسی اور سسپنس سے بھرپور ناول لکھنا تو آپ کی شخصیت کا ایک پہلو تھا اور اپنی تحریروں میں آپ ہمیں حالات حاضرہ سے بھی روشناس کرواتے تھے. اس کے ساتھ ساتھ، ختم نبوت کے عقیدہ کو نوجوان نسل میں واضح کرنے کا جو کام آپ نے کیا وہ آپ کے لئے تا قیامت صدقہ جاریہ رہے گا۔ اسلام کے بنیادی عقائد بشمول عقیدہ توحید کے بارے میں، ہم آپ کے ناولز کے آخر میں دیئے گئے اوراق سے استفادہ کرتے۔
آپ کے ناولز کی طرح ہمدرد کا نونہال بھی ہم باقاعدگی سے پڑھتے تھے، آپ کی کہانیاں اس میں شائع ہونے لگیں بلکہ ماضی قریب سے تو آپ ہر ماہ ایک کہانی اس میں لکھ رہے تھے۔ آج جب ہمارے بچے نونہال پڑھتے ہیں تو آپ کی کہانی دیکھ کر ہم انھیں آپ کے بارے میں بتاتے ہیں۔
ابھی پچھلے ماہ صاحبزادی اپنے اسکول کی لائیبریری سے آپ کا ایک ناول پہلی بار پڑھنے کو لائیں تو ہم نے انھیں آپکے تخلیق کردہ کرداروں کے بارے میں بتایا۔ اس پرصاحبزادے بھی آپ کے ناول پڑھنے پر کمر بستہ ہو گئے۔ مگر ابھی وہ محض دس برس کے ہیں اور ہمیں ڈر ہے کہ وہ کے ناولز کی روانی کا ساتھ نہیں دے پائیں گے۔ صاحبزادی جو کہ بارہ برس کی ہیں ، نے خوب سمجھ کر آپ کے ناولز پڑھنا شروع کردیئے ہیں۔ حالیہ منعقد ہونے والے کتب میلے سے ہم نے انھیں  آپ کے ناولز خرید کر دیئے اور آج کل وہ انھیں پڑھ رہی ہیں۔ ان کے پڑھنے سے پہلے ہم نے انھیں پڑھا، ناول گو کہ پرانے تھے اور ہمارے زیرِ مطالعہ رہ چکے تھے مگر دوبارہ پڑھ کر بھی ہم بور نہیں ہوئے, ان سطور کے منظر عام پر آنے تک ہماری اولاد متذکرہ ناولز پڑھ چکی ہے۔
انکل آپ اب ایسی جگہ پہنچ گئے ہیں جہاں انسان کے اعمال ہی اسکے کام آتے ہیں ہمیں یقین ہے کہ اللہ آپ کا نامہ اعمال دائیں ہاتھ میں پکڑائے گا، کیونکہ آپ نے اپنے قلم کے ذریعہ ہم لوگوں میں خوشیاں بانٹیں ہیں اور ہمیشہ اصلاحی ادب لکھا ہے۔ ملکِ خداداد کے حاکم بھلے ہی آپ کو کسی اعزاز سے نہ نوازیں آپ کے قاریئن کی کثیر تعداد آپ کے حق میں سدا دعا گو رہے گی۔
اللہ آپ کے درجات کو بلند فرماکر ،جنت کے اعلٰی درجے میں جگہ عطا فرمائے، آمین۔
فقط
 آپکی تحاریر کا ایک قاری 

Saturday, May 23, 2015

چینی شہرِ بہاراں کا حال

مارچ ۲۰۱۵ کے آخری ایام کی ایک سہ پہر تین بجے کے لگ بھگ ہم چین کے پھولوں کے شہر کُنمنگ کے مرکز میں واقع  ہوٹل کراون پلازہ کی سولہویں منزل کے کمرہ نمبر سترہ میں داخل ہو رہے تھے۔ اب کی بار ہم کراچی سے براستہ کولمبو، کُنمنگ پہنچے تھے۔ ہمارا ارادہ لنکا ڈھانے کا نہیں تھا بلکہ سری لنکا کی ہوائی کمپنی والے ہمیں ڈھونے پر معمور تھے۔ یہ سفر  طیارے  کی کولمبو سے روانگی میں تاخیر کے باعث خاصی تھکا وٹ والا ثابت ہوا۔ اور ہم نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں کے مصداق پوری رات بندرانائکے کے ہوائی اڈے پرگزارا کئے۔
خدا خدا کر کے چھے گھنٹوں کی تاخیر کے بعد ہم فجر میں چھے بجے کولمبو سے روانہ ہوئے اور قریبا سات گھنٹوں کی تاخیر سے دوپہر دو بجے کُنمنگ کے چھوٹے سے بین الاقوامی ہوائی  اڈے پر اُترے۔ ہوائی اڈے پر ہمیں لینے کے لئے ہمارے میزبانوں کی جانب سےٹیکسی موجود تھی جس نے ہمیں ہوٹل پہنچادیا۔
چین کا یہ ہمارا چوتھا سفر تھا، گذشتہ تین دوروں میں ہم بیجنگ ہی آتے رہے تھے مگر اب کی بار چین کے جنوب مشرق میں میانمار کی سرحد سے متصل صوبہ یُنّان کا دارالحکومت ہماری منزل تھا۔ جسے بجا طور پر پھولوں کا شہر یا شہرِ بہاراں کہتے ہیں۔ سال کےبارہ مہینے یہاں بارش ہوتی ہے یا درجہ حرارت اعتدال پر رہتا ہے۔ گو کہ اس شہر کا خطِ استوا سے شمال کی جانب اتنا ہی فاصلہ ہے جتنا ہمارے کراچی کا مگر ساحلِ سمندر نہ ہونے کی وجہ سے یہاں کراچی کی طرح بہار اور خزاں والی تپش نہیں ہوتی۔
ہوٹل والوں کے طعام کے اوقات چینی قسم کے تھے، ناشتہ سات تا ساڑھے دس تک ہوتا تھا، ظہرانہ ساڑھے بارہ سے اڑھائی بجے تک اور عشائیہ کا وقت عصر کے وقت کے کچھ دیر بعد شروع ہو کر عشاء پر ختم ہو جاتا تھا۔ ان دنوں وہاں غروبِ آفتاب سات بیس کے لگ بھگ ہوتا تھا۔سو تین بجے ہوٹل پہنچنے والے کو کھانے کے لئے ساڑھے چھے بجے تک کا انتظار کرنا پڑا۔ ہم نے ان تین گھنٹوں میں اپنا حلیہ درست کیا اور کچھ سستا لئے۔ کھانے کے لئے ڈائننگ ہال میں گئے تو دوسرے ملکوں سے آئے ہوئے مندوبین سے بھی ملاقات ہوئی۔ اب کھانے میں سے حرام طعام کو الگ کرنے کا ایک بڑا چیلنج ہمارے سامنے تھا۔ ہم نے ایک پیالی چاول اُبالنے کا آرڈر دیا اور مچھلی کا ایک بڑا قتلہ بھی تلوا لیا۔ پھل، سبزیوں کی سلاد اور ابلے ہوئے چنوں کی چاٹ بھی خود ہی بنا ڈالی اور سیر ہو کر کھایا۔ مغرب ادا کی اور لمبی تان کر سو گئے، عشاء رات کے آخری پہر میں آنکھ کھلنے پر پڑھی۔
اگلے دن فجر میں بیدار ہوئے اور نماز کے بعد تیار ہو کر سات بجے ہی ناشتہ کے لئے چلے گئے۔
ناشتہ کے بعدمیٹنگ تھی، کہ جس میں ہم پاکستان کی نمائندگی کر رہے تھے۔ پاکستان اور چین کی دوستی ہمیں جہاں دیگر شعبہ جاتِ زندگی میں نظر آتی ہے وہیں سائنس کا میدان بھی اس سے خالی نہیں۔ چین نے ایشیا اور بحرالکاہل کے ممالک پر مشتمل مشترکہ سائنسی منصوبوں کی ایک تنظیم بنام ایپسکو  بنا رکھی ہے، پاکستان اس کا سرگرم رکن ہے۔ اس تنظیم میں خلائی سائنس کے کافی منصوبے شامل ہیں۔ دیگر ارکان میں تھائی لینڈ، پیرو، بنگلہ دیش، ترکی، منگولیا اور ایران شامل ہیں۔ہم اب تک جتنی دفعہ بھی چین گئے، اسی تنظیم میں پاکستان کی نمائندگی کی خاطر گئے اور ہر بار تنظیم  کے خرچہ پر گئے، گویا چینی  ہمارے میزبان رہے۔
چینی مندوبین کی پریزنٹیشن کے بعد ہمیں لب کشائی کے لئے کہا گیا۔ ہم نے قریبا آدھ گھنٹہ اپنے خیالات کا ظہار کیا جو کہ ایجنڈے کا حصہ نہ تھا یعنی فی البدیہہ تھا، مگر ہم ذہنی طور پر اس کے لئے تیار تھے۔ ہمارے تاثرات اور بیان کردہ سائنسی حقائق کو خاصا سراہا گیا، کیونکہ یہ اس منصوبہ سے حاصل کردہ ڈیٹا سے متعلق تفصیلات تھیں جو ہم نے پاکستان میں چینی انسٹرومنٹ سے لی تھیں اور کسی میٹنگ یا کانفرنس میں پہلی بار پیش کی جا رہی تھیں۔
ظہرانہ میزبانوں کی جانب سے ہی کراون پلازہ کی اُسی چوتھی منزل پرتھا جس پر میٹنگ منقعد کی جا رہی تھی۔ یہاں دو کرداروں کا تعارف ضروری ہے، مسٹر اینڈ مسسز چودھری۔ چودھری صاحب پاک فوج کے ریٹائر بریگیڈیئرہیں  اورملک کے ساتھ ساتھ بیرونِ ملک بھی  اعلٰی فوجی اور انتطامی عہدوں پر تعینات رہ چکے ہیں، ایپسکو میں بھی اہم منصب پر فائز ہیں۔ ان کی خاتونِ اول پڑھی لکھی چودھرائن ہیں اور دونوں کی کیمسٹری بڑے مزے کی ہے۔
میٹنگ کے پہلے روز ظہرانہ کے دوران ہمیں اُن میاں بیوی کی پہلی نوک جھونک ملاحظہ کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ مسسز چوھدری کو اس بات پر اعتراض تھا کہ ان چینی میزبانوں نے حلال طعام کا اہتمام الگ سے کیوں نہیں کیا جبکہ چوھدری صاحب انھیں سمجھا رہے تھے کہ بی بی ایسا نہیں ہوتا، جب آپ روم میں ہوتے ہیں تو رومیوں جیسا برتاو کرنا پڑتا ہے۔ تمہیں پھل سبزی کھانے پڑ رہے ہیں تو ایک وقت کھا لو، عشائیہ پر اپنی پسند سے کچھ منگوا لینا۔خیر مسسز چوھدری چاروناچار سبزیاں زہر مار کرتی رہیں۔ سچی بات یہ ہے کہ توری کی ایک دش محض ابلی ہونے کے باوجود ہمیں بڑے مزے کی لگی، اس بات کا اظہار جب ہم نے مسسز چوھدری سے کیا تو فرمانے لگیں کہ آپ کو بھوک لگی ہے تبھی آپ مزے لے لے کر کھا رہے ہیں، ورنہ گھر میں تو چوھدری صاحب کا یہ حال ہے کہ توری کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے ، یہ بات سن کے چوھدری صاحب نے اپنا ہاتھ توریوں کے ڈونگے کی جانب بڑھایا۔
ظہرانے اور نماز کے بعد دوبارہ میٹنگ کا آغاز ہوا اور سہ پہر کے بعد ہم اس دن کی کاروائی سے فارغ ہوئے۔ شام میں ہم مٹر گشست کے لئے باہر نکل گئے۔ بہار اپنے پورے شباب پر تھی اور دھوپ کے ساتھ ساتھ ٹھنڈی ہوا کے جھونکے فضا کو خوشگوار بنا رہے تھے۔ہم  ہوٹل سے نکل کر دائیں ہاتھ کی سڑک پر دریا کے متوازی سیدھے چلتے رہے۔ ہمارا ہوٹل دریا کے کنارے تھا، اب دریا سے پہلا خیال یہ آتا ہے کہ اباسین نہ سہی کوئی راوی یا چناب جیسا دریا ہوگا تو قارئین اس مغالطہ میں نہ رہیں  اس دریا کی حالت ہمارے ہاں کی نہروں سے بھی گئی گزری تھی۔ ایک برساتی نالے کو چینی دریا کہنے پر بضد تھے۔
ہم ناک کی سیدھ میں چلتے رہے اور سڑک کنارے دوکانوں سے ونڈو شاپنگ کرتے کرتے ایک چوک سے بائیں جانب مڑے۔ اس دوران اشیاء کی قیمتیں دیکھ کر ہمیں سڈنی یاد آ گیا، کیونکہ ایک مناسب سی شرٹ کی قیمت پاکستانی روپوں میں اتنی تھی کہ کراچی میں ہم اتنی قیمت میں تین اچھے برانڈ کی شرٹس خرید سکتے تھے ۔ اگلے بازار میں بھی یہی حال تھا اور جتنی اشیاء حجم میں چھوٹی ہوتی جا رہی تھیں اتنا ہی انکی قیمت بڑھتی جا رہی تھی۔ یہاں تک کہ ہم نے ایک دوکان سے خشک میوہ جات کی قیمت معلوم کی تو وہ بھی ایمپریس مارکیٹ سے زیادہ تھی۔ یہ شہر قیمتوں کے معاملہ میں بیجنگ کو بھی مات دے گیا تھا۔ جس طرح کراچی ایک غریب پرور شہر ہے اسی طرح چین میں بیجنگ کا بازار بھی تمام چینییوں کی قوتِ خرید کے اندر آتا ہے، مگر کنمنگ آکر ہمیں ایسا لگا کہ ہم ایک دم زینب مارکیٹ سے کلفٹن کے ڈالمن مال میں آ گئے ہوں کہ وہی اشیاء برانڈز کے نام پر مہنگے داموں بک رہی ہیں۔ ہمارے ملک میں آپ لان کو ہی لے لیں کہ جو سوٹ چار ہندسوں میں تمام لوازمات سمیت  با آسانی تیار ہو جاتا تھا ، اب اس کی قیمت پانچ ہندسوں سے شروع ہوتی ہے اور وہ بھی محض کپڑے کی، اس پر مزید یہ کہ اگر آپ چار لوگوں میں بیٹھیں ہوں اور کوئی اچانک پوچھ لے کہ یہ سوٹ کہاں سے لیا تو کسی برانڈ کا نام نہ لینے پر بڑی سبکی ہوتی ہے۔
کنمنگ کے بازار میں راوی چین ہی چین لکھتا تھا، متوقع ، نئے اور پرانے جوڑے ہر طرح کی خریداری میں مصروف تھے، چند ایک اپنے بچوں کے ہمراہ مچھلیوں کے سرِ راہ بنے تالابوں کے کنارے بیٹھے تھے اور کچھ کھانے پینے کے ڈھابوں اور کھوکھوں سے اپنی زبانوں اور معدوں کو تقویت پہنچا رہے تھے اور بقول انشاء،  ہم بھی وہیں موجود تھے۔
آوارہ گردی کے بعد ہوٹل پہنچے تو عصر کا وقت ہو چکا تھا، نماز کے فورا بعداستقبالی  عشائیہ تھا سو دوپہر والے ہال میں پہنچے جہاں بڑی سی گول گھومنے والے میز کے گرد پھر سے تشریف فرما ہوئے۔ اب کی بار مسسز چوھدری کی فرمائش پر چند ایک ڈشز مچھلی، جھینگے اور چاول  پر مشتمل تھیں، جن میں سب سے زیادہ چٹخارے اور مزیدار جھینگے تھے۔ ہم اب تک کے چین کے دوروں کی بدولت چینی لکڑیوں یعنی چاپ اسکٹس سے کھانے میں مہارت حاصل کر چکے ہیں اور مٹر، مونگ پھلی اور چنے تک ان لکڑیوں سے کھا سکتے ہیں۔ اس کا مزیدعملی مظاہرہ ہم نے جھینگوں کو اسٹکس کی مدد سے اٹھا کر کیا اس پر ہمارے چینی میزبان نے ہمیں داد دی،جبکہ مسسز چوھدری جھینگا کانٹے میں پروے چبا رہی تھیں۔
عشائیہ کے ساتھ ہی ہمارا دن اختتام پذیر ہوا اور ہم نے اپنے کمرے میں سکونت اختیار کی۔
اگلے دن  کا آغاز بھی گذشتہ روز کی طرح ہوا ، میٹنگ کا اختتام ظہرانہ پر ہی کر دیا گیا، گویا بقیہ پورا دن ہم آزاد تھے، سو ہم نے اپنے میزبانوں سے الیکٹرانک مارکیٹ کا پتہ لکھوایا اور ان کی ہدایت کے مطابق ہوٹل سے باہر لبِ ِسڑک ٹیکسی کا انتظار کرنے لگے۔ اس شہر میں ٹیکسی ملنا دشوار ہے۔ ایک کار والے نے ہمیں محوِ انتظار دیکھ کر اپنی گاڑی روکی اور پوچھا کہ کہاں جانا ہے، ظاہر ہے کہ اشاروں کی زبان کام میں لانا کچھ مشکل نہیں تو ہم نے مارکیٹ کا چینی زبان میں لکھا پتہ اس کے بوتھے کے سامنے کر دیا۔ اس پر اس نے کرایہ بتایا اور ہم نے اس سے بھاو تاو کیا، کیونکہ ہم چین میں پہلی بار نہیں آئے تھے اور جانتے تھے کہ یہاں بھی وطن کی طرح دام کم کروائے جا سکتے ہیں، اگر ٹیکسی ہوتی تو اس میں لازمی طور پر میٹر ہوتا اور کرایہ طے کرنے کی نوبت نہ آتی۔ تھوڑی سی بات چیت کے بعد ہم اس گاڑی میں اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھے۔ قریبا بیس منٹ کے سفر کے بعد کار والے نے ہمیں مارکیٹ پر اتارا اور کہنے لگا کہ اگر ہم چاہیں تو وہ ہمارا انتظار کر سکتا ہے، مگر ہم نے کرایہ ادا کر کے اسے 'شے شے' کہا اور ایک دوکان کی جانب قدم بڑھا دیئے۔ بیجنگ کی الیکٹرانک مارکیٹ کے سامنے کنمنگ کی اس مارکیٹ کی حیثیت ایسی ہی تھی جیسے آپ بولٹن مارکیٹ کا مقابلہ ایک کریانہ کی دوکان سے کریں۔ مگر پھر بھی یہاں کمپیوٹر  اور الیکٹرانک کی دیگر اشیاء ان کے لوازمات سمیت دستیاب تھیں۔ ہم نے اپنی مطلوبہ اشیا با آسانی خرید لیں اور ایک دوکان والے سے پوچھا کہ الیکٹرانک ڈکشنری کہاں سے ملے گی۔اس نے ہمیں بتایا کہ ہمیں  کتابوں کی دوکان پر جانا پڑے گا، ہم نے اسے سمجھایا کہ ہم کتاب نہیں خریدنا چاہتے بلکہ ڈیجیٹل ڈکشنری تلاش کر رہے ہیں۔ یہ گفتگو انگریزی میں ہو رہی تھی کیونکہ دوکان والے کو تھوڑی بہت انگریزی آتی تھی اور جو نہیں آتی تھی تو وہ ہمیں انٹرنیٹ پر ٹائپ کرنے کو کہتا اور ہمارے جملہ کا چینی ترجمہ کر کے پڑھ لیتا۔اسی پر ہم نے اسے اپنی مطلوبہ چیز کی تصویر بھی انٹرنیٹ پر دکھا دی، لہٰذا شک دور ہو گیا کہ ہم کیا ڈھونڈ رہے ہیں۔ اس پر اس نے ہمیں دوکان کا نام لکھ دیا اور کہا کہ آپ ٹیکسی میں چلے جائیں ہم نے جواب دیا کہ بھائی ٹیکسی ملتی کہاں ہے  تم ہمیں بس کا نمبر اور اسٹاپ کا نام لکھ دو آگے ہم جانیں اور ہمارا کام۔ اس سے بس کا نمبر اور منزل کا پتہ لکھوا کر ہم نے اسکا شکریہ ادا کیا اور بس اسٹاپ پہنچ گئے جو مارکیٹ میں ہی تھا۔ ایک دو منزلہ بس میں سوار ہوئے اور ڈرائیور کو پتہ دکھایا اس نے اثبات میں سر ہلایا اورٹکٹ خریدنے کا کہا، ہم نے ٹکٹ خریدا اور ایک نشست پر جا بیٹھے۔ اگلے اسٹاپ سے کالج کی چند لڑکیاں بس میں سوار ہوئیں، ان میں سے ایک قدرے یورپی لگی ہم نے اس سے پتہ دکھا کر پوچھا کہ یہ اسٹاپ کب آئے گا۔ وہ بھِی چینی ہی نکلی، مگر ہمارا سوال اسے سمجھ آگیا تھا لیکن جواب دینا اس کے لئے مشکل ہوگیا۔ اللہ بھلا کرے موبائل بنانے والوں کا کہ اب اس میں پورا جہان سما جاتا ہے، تو اس دوشیزہ نے انگریزی میں لفظ ٹرمینل لکھ کر موبائل ہمیں دکھا دیا، گویا ہمیں اس بس کے انتہائی اسٹاپ پر اترنا تھا۔
مزہ اس وقت آیا جب ڈرائیور نے ہمیں  اترنے کا اشارہ کیا کہ آخری اسٹاپ آگیاہے۔ بس سے اتر کر دیکھتے ہیں تو وہی کل والی جگہ تھی کہ جہاں ہم سبھی دیکھا کئے تھے۔ پتہ ایک دوکان والی حسینہ کو دکھایا جسے انگریزی آتی تھی، تو بولی کہ آپکی دوائے دل بیچنے والی دوکان بڑھ چکی ہے۔ہم نے اس سے پوچھا کہ کوئی اور دوکان کا پتہ بتلا دو، تو کہنے لگی کہ انگریزی ذرا ٹھہر ٹھہر کر بولیں، ہم نے ایک ایک لفظ پر زور دے کر پوچھا تو اس نے ایک اور دوکان کا پتہ دیومالائی زبان میں لکھ کر دے دیا۔یہاں بھی ٹیکسی کا مشورہ دیا گیا۔ مگر ٹیکسی ملنا دشوار تھا۔ ایک آدھ ٹیکسی والا ملا بھی تو وہ پہلے سے کسی سواری کے ساتھ منسلک تھا۔ اسٹاپ پر بیٹری سے چلنے والی بے شمار سائیکلز موجود تھیں جو مرد و زن یکساں تعداد میں چلا رہے تھے۔ ہمیں اجنبی مسافر جان کر ایک سائیکل والا پوچھنے لگا کہ کہاں جانا ہے، ہم نے پتہ دکھلایا تو کہنے لگا کہ میں لے چلوں گا ہم نے اُسےپاکستان اور فرینڈ کا واستہ دے کر کرایہ کم کرنے کو کہا  تو وہ ہمیں کہنے لگا 'آجا وے بے جا سیکل تے' ۔ جب ہم مطلوبہ پتہ پر پہنچے تو وہاں  بھی دوکان بند ہو چکی تھی۔ جی میں آئی کہ یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔ معلوم ہوا کی پانچ  بج چکے ہیں لہٰذا دوکانیں تو بند ہونی ہیں۔ ہم نے کہا کہ یہ کیسا شہر ہے جہاں دن کی روشنی میں ہی دوکانیں بند کر دی جاتی ہیں۔ وطن میں تو رات گئے تک بازار کھلے رہتے ہیں چاہے حکومت لاکھ کوشش کرے کہ مغرب کے وقت کاروبار بند کر دیا جائے تاکہ بجلی کا بحران کسی حد تک حل ہو سکے مگر ہم ٹس ے مس نہیں ہوتے۔
رات میں عشائیہ پر ہماری ملاقات جارج نامی ایک سراندیپی سے ہوئی، انھوں نے اپنا تعارف سری لنکا کے کیبن کریو کے طور پر کرایا ۔ اتفاق سے ہماری روانگی ان کے ساتھ انھی کی پرواز میں تھی، اس پر ہماری ان سے دوستی ہو گئی اور ہم نے انھیں اپنے کمرے میں آنے کی دعوت دی جو انھوں نے خوشدلی سے قبول کر لی۔ ان سے کمرے میں دنیا کے مختلف موضوعات پر گفتگو رہی۔ ہم نے ان کی تواضع پیک فرینز کے بسکٹس اور چینی سبز چائے سے کی۔ انھوں نے ہم سے گفتگو کے دوران ہی ہمیں ٹوکا کہ کہیں ہم استاد تو نہیں رہے یا ہیں؟ یہ اندازہ انھوں نے ہمارے طرزِ گفتگو سے لگایا کہ ہم انکے بقول ہر بات کی جزیئات تفصیل سے بیان کر رہے تھے۔
اگلے دن ہم سات بجے ہی ڈائننگ ہال میں  ناشتہ کے لئے موجود تھے کیونکہ پونے آٹھ بجے ہمیں کنمنگ کے مضافات میں اپنے میزبانوں اور دیگر مندوبین کے ساتھ معلوماتی دورے پر جانا تھا۔یہ مقام انتظامی طور پر تو کنمنگ میں ہی شمار ہوتا تھا مگر اس کا فاصلہ شہر سے براستہ سڑک ڈیڑھ دو گھنٹوں پر مشتمل تھا۔یہ ایک وادی نما مقام تھا جو آبادی سے کافی ہٹ کے تھالیکن سائنسی اعتبار سے یہاں دنیا کے بہترین انسرٹومنٹس اور ریڈار لگائے گئے ہیں جو کرہ ہوائی اور بالا فضائی تحقیقات میں کام آتے ہیں، یوں یہ ہمارے مطلب کی جگہ تھی جہاں صحیح معنوں میں ریڈیوسائنس کی جا رہی تھی۔ ہم دوپہر تک یہاں رہے اور کنمنگ واپس آتے ہوئےایک قریبی قصبہ میں پیزا ہٹ پر ظہرانہ کے لئے رکے۔ سہ پہر تک ہم کنمنگ کے ہوائی اڈے پر تھے کیونکہ چند مندوبین کی واپسی کی پروازوں کا وقت قریب تھا۔ وہاں  سے ہمارے میزبان بقیہ افراد کو کنمنگ کی ایک بڑی جھیل دکھانے لے گئے، جس میں جہازرانی کے ساتھ ساتھ ایک ڈیم بھی بنا ہوا ہے۔
جھیل کا پانی صاف تھا  اور کنارا شمالا جنوبا تھا، کراچی کے لحاظ سے بات کریں تو ایسا لگ رہا تھا کہ ہم سی ویو پر آفتاب کے غروب سے گھنٹہ دو گھنٹہ پہلے موجود ہیں کیونکہ سورج اور پانی کا محل وقوع سی ویو جیسا ہی لگ رہا تھا۔ لیکن اس ترتیب کے باوجود جو واضح فرق تھا وہ وہاں پر صفائی کا انتظام تھا۔ جھیل کاکنارا پختہ تھا جس پر ایک اونچی روش بچھائی گئی تھی۔ اس روش پر مختلف ٹائلز کی مدد سے ڈیزائن اور تصاویر کندہ کی ہوئی تھیں۔
ہم وہاں کچھ دیر چہل قدمی کرتے رہے اور شام ڈھلنے کے قریب ہوٹل روانہ ہوئے۔ آج کنمنگ میں ہماری آخری شام تھی، کیونکہ ہمارا جہاز رات کے دو بجے روانہ ہونا تھا۔ ہوٹل میں آخری عشائیہ سے پیشتر ہی ہم اپنا زادِ راہ باندھ چکے تھے۔  عشائیہ پر منگولیا اور تھائی لینڈ کے مندوبین سے ملاقات ہوئی اور اسلام پر گفتگو ہوتی رہی۔ شراب کی حرمت اور دیگر احکامات کے بارے میں ہم سے سوالات پوچھے گئے ، مذہب کو منطق سے سمجھنا یا سمجھانا بعض اوقات مشکل ہو جاتا ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ جیسا عظیم سائنسدان خدا کے وجود سے انکاری ہے لیکن دوسری طرف مغربی دنیا، اسلام  کے خوف میں مبتلا ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی طرف تیزی سے راغب بھی ہو رہی ہے۔ ہم نے حتی المقدور اور اپنی ناقص معلومات کی روشنی میں انھیں تسلی بخش جوابات دیئے۔ کسی حد تک مناظرہ کی تربیت ہمیں اپنے آسٹریلیا کے آنجہانی استاد محترم کے ساتھ دو برس گزارنے پر ہو چکی تھی سو وہ کام آئی، منگول مندوب کو تو ہم نے چنگیز خان کا ذکر کر کے چپ کرادیا اور تھائی مندوب ویسےہی شریف آدمی تھے آسانی سے قائل ہو گئے۔
یہ رات کیونکہ سفر کی رات تھی لہٰذاسونے کا تو سوال نہیں تھا اور ویسے بھی گیارہ بجے ٹیکسی نے ہمیں ہوٹل سے ہوائی اڈے لے جانا تھا۔ مقررہ وقت پر ہوٹل چھوڑا اور ٹیکسی سے ہوائی اڈے کو روانہ ہوئے، دو گھنٹوں بعد کاونٹر کھلا، بورڈنگ پاس تو دے دیئے گئے ساتھ ہی معلوم ہوا کہ جہاز تاخیر سے روانہ ہوگا - ہوائی کمپنی والے تمام مسافروں کو  دو بسوں میں لاد کر واپس کنمنگ میں ایک ہوٹل لے گئے۔ یعنی ابھی کنمنگ میں ہمارامزید  آب و دانہ لکھا تھا۔ ہوائی کمپنی نے ہمیں ناشتے کے ڈبے دیئے اور رات کے تین بجے ایک مقامی ہوٹل کی پانچویں منزل پر واقع ایک کمرے میں خوابِ خرگوش کے مزے لینے کے لئے چھوڑ دیا۔ فجر میں ٹیلیفون پر خودکار الارم کے ذریعہ بیدار کیا گیا اور قریبا چھے بجے دوبارہ کنمنگ کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پہنچا دیا گیا۔ سات بجے جہاز میں جانے کی اجازت ملی۔ جہاز میں پہنچتے ہی جارج سے ملاقات ہوئی جو پیشہ ورانہ مسکراہٹ چہرے پر سجائے ہمارا استقبال کرنے لگے اور تاخیر پر نہایت شرمندہ ہوئے۔ انھیں رات بارہ بجے ہی جہاز کی روانگی میں  تاخیر کا پتہ چل گیا تھا مگر اسوقت تک ہم ہوٹل سے نکل چکے تھے لہٰذا  اُن کا ہم سے رابطہ نہ ہو سکا ورنہ ان کے بقول وہ ہمیں اس تاخیر کی پیشگی اطلاع دے دیتے۔
دورانِ پرواز انھوں نے ہمارا خاص خیال رکھا اور ہمیں اکانومی میں ان کی بدولت بزنس کلاس جیسی سہولیات میسر آئیں۔ کنمنگ میں لوگوں کی آسودگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس چھوٹے سے جہاز میں اکانومی تقریبا خالی تھی اور بزنس کلاس کی تمام نشستیں پُرتھیں۔کولمبو پہنچ کر اگلی پرواز کے لئے انتظار گاہ میں چلے گئے ۔ اس میں بھی کچھ تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔ جہاز مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ مسافروں میں کثیر تعداد میمن کاروباری حضرات و خواتین کی تھی جو اپنے ساتھ فی کس چار چار ڈبوں سے کم سامان نہیں لا رہے تھے۔
جہاز سے نکلتے ہی ہمارا ستقبال کراچی کی مرطوب ہوا  نے کیا اور یوں ہمارا یہ سفر تمام ہوا۔
جھلکیاں:
کولمبو کے ہوائی اڈا پر گوتم بدھ کا ایک بہت بڑا مجسمہ موجود ہے جس کی طرف پیٹھ کر کے تصویر کھنچوانا منع ہے-
کنمنگ کے سفر میں کولمبو پر تاخیر کی وجہ سے ہمیں اضافی عشائیہ دیا گیا، جس میں سب کچھ حلال تھا، ہوائی کمپنی کا ملازم جو کہ سنہالی تھا فر فر اردو بول  رہا تھا۔
ہوائی اڈے پر مسلمانوں کے لئے باقاعدہ مصلہ کا اہتمام ہے۔
کنمنگ میں آپ بس کا سفر فقط ایک یوان میں کر سکتے ہیں۔
ہم کنمنگ میں پتہ پوچھنے کے لئے لکھا ہوا پرچہ لوگوں کو اکثر الٹا دکھاتےرہے –
چینی حکومت  انٹرنیٹ کو چھان کر عوام تک پہنچاتی ہے۔ گوگل کی کوئی بھی سہولت چین میں نا پید ہے، اسی طرح فیس بک سمیت دیگر سوشل ویب سائٹس بھی دستیاب نہیں۔ آپ کچھ بھی کریں کوئی بھی پراکسی سیٹنگ کرلیں چینی آپ کو اس سائٹس تک نہیں پہنچے دیں گے۔

ختم شُد